آئیے آخرت سنواریئے ! چند مجرب ، مفید ، آزمودہ نسخہ جات وٹوٹکے

آئیے آخرت سنواریئے ! چند مجرب ، مفید ، آزمودہ نسخہ جات وٹوٹکے
یہ اس سلسلے کا دوسرا حصہ ہے، آئیے آخرت سنواریئے مجرب ، مفید ، آزمودہ نسخہ جات و ٹوٹکے کا پہلا حصہ پڑھنے کے لیے کلک کریں۔
اگر آپ قبضہ مافیا کے سرغنہ ہیں یا ان کے کمیشن در کمیشن ایجنٹ ہیں تو سب گناہوں ، بے ایمانیوں اور حرامزدگیوں کے اثرات سے نجات پانے کے لیے عوامی مقامات پر قبضہ کریں اور وہاں مسجد کی تعمیر شروع کردیں
(حصہ دوم)
اگر آپ حرام خور ہیں یعنی حرام کی کمائی کھاتے ہیں اورحرام یو ٹیوب دیکھتے اپنے بچوں کے منہ میں بھی حرام نوالہ ڈالتے ہیں ۔قرآن کریم کے سائے میں وزارت کا حلف اُٹھاکر بھی ٹیکس چور ہیں ۔ ریلوے میں بابوہیں لیکن ساتھ ہی پٹری چوربھی ہیں، خوشنما اور آرائشی آیات سے مزین منبر پر کھڑے ہوکر دلیل خور ہیں تو فکر مند ہونے کی کوئی بات نہیں آخرت میں نجات کا حصول ناممکن نہیں
ٹوٹکہ نمبر 8
اپنے رزق حرام میں سے کسی بھی ولی وبزرگ کے عرس کے موقع پر مزارپر چادر چڑھائیں اور اگر بتیاں جلا ئیں۔۔۔۔غسل دیں چادریں چڑھاتے چلے جائیں۔دربارمیں رنگ برنگے چاولوں کی گرم گرم دیگیں تیار کروائیں۔ پاکیزہ ماحول اور بھینی بھینی خوشبو سے نہ صرف دلوں کی کثافت چھٹ جائے گی بلکہ کرپشن کے داغ بھی مٹ جائیں گے ۔
ٹوٹکہ نمبر 9
اگر آپ قبضہ مافیا کے سرغنہ ہیں یا ان کے کمیشن در کمیشن ایجنٹ ہیں تو سب گناہوں ، بے ایمانیوں اورحرامزدگیوں کے اثرات سے نجات پانے کے لیے عوامی مقامات پر قبضہ کریں اور وہاں مسجد کی تعمیر شروع کردیں ۔ ساتھ ہی ٹین کا دروازہ لکڑی کے چوکھٹے میں نصب کر کے بیت الخلا کی ضرورت پوری کریں ۔جوبھی کتاب فروش، پھل فروش ، سیمنٹ فروش اور دین فروش اس جگہ آکر عبادت کرے گا آپ کے لیے دست بستہ دعاگو ہوگا۔سرکاری املاک، پارک، کھیل کے میدان یا کوئی بھی معروف چوراہا اس کام کے لیے بہترین ہیں۔ واضح رہے کہ مسجد کی عمارت کھڑی کرتے ہوئے قانونی تقاضوں کو خاطر میں لانا ضروری نہیں ۔شروع میں مشکلات تو ہوتی ہیں لیکن عوامی تائید سے عنقریب یہ مسجد بھی جامعہ حفصہ جیسی عظیم درسگاہ وکی جگہ لے سکتی ہے۔
ٹوٹکہ نمبر 10
اگر کسی پاکستانی چوک ، سڑک ، ہسپتال ، سکول یا شفاخانے کا نام کسی غیر مسلم کے نام پر ہے تو فوراً اسےکسی جنگجو یا حملہ آور سے موسوم کرکے بھی ثواب دارین حاصل کیا جاسکتا ہے ۔اگرکہیں کوئی تاریخی علامت، مورتی یا غیر شرعی مجسمہ نصب ہے تو فوراً اسے ہٹا کر اس کی جگہ کوئی ٹینک ، میزائل یا طیارہ لگوا دیں۔پنجاب اسمبلی کا چوک اور شادمان گول چکر اس کی اعلیٰ مثالیں ہیں۔ واضح رہے کہ اگر اس کام میں سرکار مداخلت کرے تو ہڑتال، جلسے جلوس اور احتجاجی مظاہروں میں شامل ہو کربھی آپ ثواب کما سکتے ہیں۔ آپ نے صرف ایک ہجوم میں شامل ہوکرسرکار کے فیصلے کو اسرائیلی یا امریکی سازش قرار دینا ہے، عشق دین میں دیوانہ وار اپنی جانیں قربان کرنے کے فلک شگاف نعرے لگانے اوردیواروں پر لکھنے ہیں باقی کام مولوی صاحب کی کرامات کا ہے۔

ٹوٹکہ نمبر 11
جب فوج کے سپاہی شہادت کے رتبے سے زبر دستی اتاردیے جائیں تو اسامہ بن لادن کو شہید کہہ کر آپ دوہرے ثواب سے ہمکنار ہو سکتے ہیں ۔ جب مولانا حضرات اسامہ بن لادن کو اپنا آئیڈیل اور ہیروقرار دیں تو اس موقع پر بھی حکمت و دانائی سے کام لیتے ہوئے آپ تحریک طالبان کے شہدا ء کی ایک فہرست جاری کر سکتے ہیں۔اس عمل کا ثواب بیان کرنا گویا سورج کو چراغ دکھانے کے برابرہے۔تسلی نہ ہو تو اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین یا لال مسجد والوں سے بالمشافہ مل کر پوچھ سکتے ہیں ۔
اگر کسی پاکستانی چوک ، سڑک ، ہسپتال ، سکول یا شفاخانے کا نام کسی غیر مسلم کے نام پر ہے تو فوراًاسے کسی جنگجو یا حملہ آور سے موسوم کر کے بھی ثواب دارین حاصل کیا جاسکتا ہے
ٹوٹکہ نمبر 12
اگر محلے میں جائیداد، لین دین ، ادھار ، کاروباری شراکت میں کسی بھی قسم کی بے ایمانی سرزد ہوجائے، لوٹ مار کرنے کی خواہش دل میں موجزن ہو تو مخالف فریق کو عناد اور مفاد کی خاطر توہین مذہب کے مقدمات میں پھنسوا کر مخصوص فوائد و ثواب حاصل کیے جاسکتے ہیں ۔دھوکہ دہی ، فریب کاری اور مکر وفریب کے داغ دھونے کے لیے آپ کو کمال ہنرمندی کی بے حد ضرورت ہے ۔خیال رہے اقلیتیں اس کام کے لیے بہترین شکار ہیں۔ مقدس اوراق جلانے اور بے حرمتی کرنے پر ملزم کو پھانسی دے کر اس کی لاش گلی کوچوں میں خوب گھسیٹیں ۔لیکن خیال رہے کہ ملزم نے مسلم شعائر کی توہین کی ہو، شانتی نگر ، جوزف کالونی جیسے واقعات میں کوئی جیالا مسلمان اگرصلیب یا انجیل مقدس کی بے حرمتی کرے تواس پر کچھ گناہ نہیں ہے ۔

ٹوٹکہ نمبر 13
اگرآپ جلسوں ، ہڑتالوں ، احتجاجی ریلیوں اور مظاہروں میں توڑ پھوڑ کرتے ہیں، غارت گرہیں اورخود کش حملوں کے لیے بچوں کو جہاد کے نام پر اُکساتے ہیں تو پریشان ہونے کی قطعاً ضرورت نہیں ہے ۔اگر کسی بھی مقدس تحریک میں حصہ نہیں لے سکتے تو پھرپاکستانی پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ بنوانے کے لیے کسی بھی تحریک میں نہ صرف حصہ لیا جاسکتا ہے ۔تحریک جاری رکھنے والے مدرسو ں کے ان گمنام سپوتوں کی جرات و بہادری کو سلام پیش کر کے جنت کمائی جاسکتی ہے ۔پھول بوٹوں ،آرائشی قوسوں اور مستقیم خط سے مزین پاسپورٹ کے صفحات پر مذہب کا خانہ بنوانا ہر ایک مسلمان کا فرض ہے تاکہ حاصل کردہ جنت کی کیاریوں کی بھی آرائش ا ور سجاوٹ ہو سکے۔
ٹوٹکہ نمبر 14
بازاروں ، گلیوں اور فٹ پاتھوں پر فرقہ وارانہ اشتعال انگیز مواد کی تقسیم ں مالی و معاشی مدد کر کے بھی آپ جنت کماسکتے ہیں ۔جب کبھی آپ ریسٹورینٹ بنائیں تواس میں شیشے کی الماری کے اندر تمام فرقہ وارانہ کتب رکھ کر نونہالوں اور نوجوانوں کو شدت پسند بنانے میں مدد دے کرآپ جنت کی کیاریوں کی آبیاری کر سکتے ہیں ۔اگر کوئی کمی رہ جائے تو سرکاری و مذہبی درس گاہوں میں ایسا ہی "علمی خزانہ" رکھ سکتے ہیں جس کا ثواب آپ کی اگلی پچھلی نسلوں کو پہنچ جائے گا۔ خوشنما، اونچی اور آرائشی محرابوں ، درگاہوں ، آستانوں ، حجروں سے اُٹھنے والی الجہاد کی پکار کے ذریعے آپ ناپاک امریکہ، متکبر اور شیطان ریاست اسرائی اور ہندوستان کو زیر کر سکتے ہیں ۔یہ وہ کامیابیاں اور فتوحات ہیں جن کے بعد آپ ایک اور "بت شکن " بن کر اپنی آخرت سنوار سکتے ہیں ۔
بازاروں ، گلیوں اور فٹ پاتھوں پر فرقہ وارانہ اشتعال انگیز مواد کی تقسیم ں مالی و معاشی مدد کر کے بھی آپ جنت کماسکتے ہیں
ٹوٹکہ نمبر 15
اگر آپ اعلیٰ عدلیہ کے جج ہیں اور عدل و انصاف کی بجائے مذہبی جنونیوں کی ضمانتیں قبول کرتے ہوں ۔ بوٹ اور سوٹ سے ڈرتے ہوں۔ اپنے بیٹے کے سیاہ کرتوتوں سے لاعلم ہیں ۔عدل کے نام پر بد نما داغ ہیں لیکن آخرت کی بھی فکر کرتے ہیں تو قطعاً پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔دہشت گردوں کی ضمانتیں قبول کریں، توہین کے جھوٹے مقدمات میں پھنسے بے گناہوں کو سزائیں دیں اور ہو سکے تو سفاک قاتل کا منہ چوم کرفوری ثواب حاصل کرلیں ۔عوام خود بخود دینی جوش میں مبتلا ہو کر آپ کو ڈھیروں دعائیں دے گی اور آ پ کے حق میں ملک گیر احتجاج میں بھرپور حصہ لے گی۔
ٹوٹکہ نمبر 16
اگرآپ غیبت اور چغل خوری کی قبیح عادت میں مبتلاہیں ،گالیاں اور خرافات بکتے ہیں توہندوؤں کے مقدس اکابرین ، متبرک جگہوں اورناموں کا خوب مذاق اُڑائیں ۔ ان کے دیوتاؤں او ردیویوں اور مورتیوں کو پر پنجابی تھیٹروں میں بطور جگت استعمال کریں ۔ردعمل پر کوئی اگر مسلمانوں کے اکابرین کے متعلق کچھ کہہ دے تو ہر طرف آگ لگادیں اس ہجوم میں شامل ہو کر جنت کمائیں ۔آخرت سنواریں ۔
ٹوٹکہ نمبر 17
اگر دل پھر بھی بے چین رہے اور آپ حقوق العباد کی ادائیگی میں غفلت کے مرتکب ہیں تو پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے ۔مسواک کو رواج دیں ، رنگ برنگی پگڑیوں کے سٹال لگائیں ۔ قوم کو جگائیں ۔ جنت کمائیں ، موبائل فونز پر اذان ، نعت اور تلاوت کی ٹون سیٹ کر یں ۔ بادلوں ، آسمانوں ، خلاؤں ، چاند ، ستاروں ، سبزیوں ، پھلوں ، درختوں ، جانوروں ، روٹیوں پرپاک ناموں کی کوئی بھی فرضی شبیہ ابھرتی ،ڈوبتی دکھائی دے تو فوراً فیس بک پر شیئر کر دیں ۔ آپ کتنے ہی گناہ گا رہیں حرام خور ہیں افاقہ ہوگا۔خیال رکھیں معذور اور اپاہج افراد کی عبادت کرتے ہوئے تصاویر کو ضرور شیئر کریں ڈھیروں دعائیں ملیں گی۔

Related Articles

!! مولانا کے نام ایک پریم پَتر۔۔

شہادت کی بات ہو تو ہمارے 'ملاوں' نے 'دلیل و منطق اور فہم و فراست 'کی آخری حدووں کو کامیابی

میں ضرور پوچھتا

میں اگر نبی رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھ سکتا تو ضرور پوچھتا کہ کیا ایک احمدی، عیسائی، یہودی، ہندو اور ملحد کا ناحق قتل بھی پوری انسانیت کا قتل ہے؟

کیا قتل اور زنا بالجبر کے مجرم آیت محاربہ کے تحت آ سکتے ہیں؟

شعیب محمد: پُر تشدد قتل اور زنا بالجبر کے مجرموں کو محارب قرار بھی دے دیا جائے تو ان پر اس حد کا اطلاق آسان نہیں اور شرعی طور پر آپ کو پھر حدود اور قصاص کے شرعی نصاب و شرائط کی طرف ہی لوٹنا پڑے گا۔