آج شمارہ 1: وہ من گھڑت سی کہانی تھی اک فسانہ تھا

آج شمارہ 1: وہ من گھڑت سی کہانی تھی اک فسانہ تھا

• جلسہ گھرتارا شنکر بنرجی" کی کہانی ہے جو بنگالی زبان کے بہت مشہور و معروف کہانی نگار تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی میں ساٹھ سے زیادہ ناول لکھے اور پچاس سے زیادہ افسانوی مجموعے تخلیق کیے۔ اس کے علاوہ ڈرامے، سوانح اور سفرنامے بھی لکھے ہیں ۔ تارا شنکر نے ایک فیچر فلم امر پالی جو بنگالی زبان میں تھی اسے بھی دائریکٹ کیا تھا۔ان کی تخلیقی صلاحیتوں پر انہیں خاصے اہم ہندوستانی ایوارڈز سے بھی نوازا گیا۔ تارا شنکر 23 جولائی 1898 میں پیدا ہوئے تھے اور 14 ستمبر 1971 میں ان کا انتقال ہوا۔اجمل کمال صاحب نے ان کی کہانی جلسہ گھر کا انگریزی زبان سے ترجمہ کیا ہے ۔ یہ کہانی 1938 میں ان کے ایک افسانوی مجموعے "جلسہ گھر" میں شامل تھی۔اس کہانی کا بنیادی کردار بشومبھر رائے ہے جو رائے خاندان کا آخری والی وارث ہے۔اس کے علاو ہ تین، چار کردار اور بھی ہیں جو کہانی میں وقتا فوقتا اہم ہو جاتے ہیں مثلاً گنگولی خاندان کا موھم گنگولی جو گنگولیوں کو نئی جاگیر یں ملنے کے بعد رئیس ہوا ہے اور رائے صاحب کے حریف کے طور پر کہانی میں ابھرتا ہے۔ ایک کردار اننت کا ہے ،جو رائے صاحب کا نوکر ہے اور ان کی خستہ حالت کے تمام تر ادراک کے باوجود ان کا اسی طرح احترام کرتا ہے جس طرح خاندانی رئیسوں کا کیا جاتا ہے۔ وہ ان کی آنکھ کے اشارے پر دوڑتا ہے اور اس کے ذہن پر رائے صاحب کا وہی خاندانی عکس مرتسم ہے جو سات پشتوں کے امرا زادوں کا ان کے نوکروں کے ذہنوں پر ہوتا ہے۔ اننت کے علاوہ بھی کچھ فرمابردار اور نوکر ہیں ، مگر وہ اتنے اہم نہیں ۔ دو کردار تارا شنکر بنرجی نے لاجواب گڑھے ہیں ۔ جن میں ایک طوفان ہے اور دوسرا چھوٹی مالکن ۔ طوفان رائے صاحب کا گھوڑا ہے اور چھوٹی مالکن ان کی ہتھنی جو انہیں اپنے والد سے ورثے میں ملی تھی۔ ہتھنی کو چھوٹی مالکن کہنے کی روداد بھی خوب ہے۔ وہ سب کے لیے چھوٹی مالکن ہے اور رائے صاحب کے لیے چھوٹی ماں ہیں۔ رائے صاحب کی زندگی اور ان کے ختم ہوتے ہوئے وقار کا نقشہ تارا شنکر نے اس طرح کھینچا ہے کہ کہیں کہیں رائے صاحب کی حالت پہ غصہ آتا ہے اور کہیں کہیں رحم۔ ایک امیر زادہ جو اپنی جاگیر سے ہاتھ دھو بیٹھا ہے اور جس کی دولت اس کے اجداد کی عیاشیوں اور حالات کے تقاضوں کی نذر ہو گئی ہے اس کی زندگی غم کے اندھیروں میں کس طرح ڈوبتی چلی جا رہی ہے اس کی نقاشی بڑی مہارت سے کی گئی ہے۔ ساتھ ہی نام نہاد امیری کا بھرم رائے صاحب کو اندر سے کتنا کھوکھلا کررہا ہے یہ دیکھ کر ان امرا کی مصنوعی زندگی پر ہنسی آتی ہے اور ساتھ ہی ان کی نفسیاتی کشمکش پر دکھ بھی ہوتا ہے کہ حقیقت کو تسلیم کرنے میں انسان کو کتنا وقت لگ جاتا ہے۔ رائے صاحب بدلتی زندگی اور مٹتی ہوئی وراثت کا ایک بڑا استعارہ ہیں ۔ اس کہانی میں شرفا کے بدلتے ہوئے معنی کی عکاسی بھی تاراشنکر نے موہوم انداز میں کی ہے۔ کہانی کا اصل حصہ جہاں جلسہ گھر کا منظر دکھایا گیا ہے بہت لاجواب ہے۔ موسیقی اور شائستہ تہذیب کی علامتوں کا مرقع تخلیق کرنے میں تارا شنکر نے کمال فن کا مظاہرہ کیا ہے۔ جلسہ گھر جو کہ رائے صاحب کی مٹتی اور تباہ ہوتی ہوئی حویلی میں سجایا گیا ہے۔ جو ان کا خاندانی جلسہ گھر ہے اور جہاں بیٹھ کر ان کے اجداد نے ہزاروں روپیہ عیش و عشرت کی نذر کردیا وہاں اپنی مسند خاص پر بیٹھ کر جب رائے صاحب اپنے حریف موھم گنگولی کو کنچنی کو سکے دینےپر محویت کے عالم سے باہر آتے ہیں تو یہ دیکھ کر ان کا خاندانی خون جوش میں آ جاتا ہے:"یہ بات آداب کے خلاف تھی۔بخشش دینے کا پہلا حق میزبان کا تھا۔بشومبھر رائے نے پریشانی سے ادھر ادھر دیکھا ۔ ان کے سامنے کچھ نہ تھا، نہ چاندی کا طشت ،نہ سکے، جنھیں وہاں ہونا چاہیے تھا۔"(1)اس لمحے میں کہانی کے درمیان میں ایک نوع کی بے چینی کا عالم قاری پر طاری ہوجاتا ہے اور اسے کچھ دیر کے لیے رائے صاحب کی حالت پر رحم آنے لگتا ہے۔ مگر بغور جائزہ لیا جائے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بشومبھر راےاس یاسیت کا شکار ہیں جو ہمارے ان امرا کے حصے میں آئی جن میں حالات کو بدلتے ہوئے وقت کی طرح قبول کرنے کی صلاحیت نہیں تھی۔ ایک قاری کی حیثیت سے میں نے رائے صاحب کو ایک ایسے نفسیاتی مریض کی حیثیت میں پایا جو Nostalgiaکا شکار ہے۔ جس پر اس وقت ہزیانی کیفیت طاری ہو جاتی ہے جب وہ کسی بھی عالم میں اپنے ماضی کی طرف لوٹ جاتا ہے۔کہانی کا ترجمہ اجمل صاحب نے خوب کیا ہے۔

• کمال کی بات یہ ہے کہ جلسہ گھر کے فوراً بعد اجمل کمال نے ایک اور چھوٹی سی کہانی جلسہ گھر کا پر پیچ راستہ اس شمارے میں شامل کی ہے جس میں جلسہ گھر کو ایک فلم کے طور پر پیش کرنے والے مشہور بنگالی ڈائرکٹر ستیہ جیت رے کا ایک حیران کن واقعہ ہے۔ اس کہانی کا عنوان جلسہ گھر کا پرپیچ راستہ ہے اور اس میں حیران کرنے والی بات یہ ہے کہ ستیہ جیت رے کی بابت اس کہانی کے مصنف تارا شنکر بنرجی کو خود اپنی کہانی کے اصل کردارتک رسائی میسر آگئی۔ میں نے جب جلسہ گھر کے بعد اپیندر نارائن چودھری کا تذکرہ پڑھا تو یوں محسوس ہوا کہ اجمل کمال نے اسے شامل کر کے ہمیں کہانیوں کو سمجھنے کا ایک نیا طرز عطا کیا ہے۔1958میں ستیہ جیت رے نے اس افسانے پر فلم بنائی جس میں اداکار چھبی بسواس نے رائے صاحب کا کردار ادا کیا ہے۔ یہ فلم بنگالی سنیما کا ایک ناقابل فراموش اقدام ہے جسے 1959 میں National film award for best feature film in Bengaliملااور اس کے بعد بہترین موسیقی کے لیے First Moscow international film festival awardملا۔ اس کے علاوہ بھی کئی ایک انعامات سے اس فلم کو نوازا گیا۔ اس کہانی پر ست جیت رے نے بہت خوبصورت تبصرہ یہ کیا ہے کہ:"یہ ایک ڈرامائی کہانی تھی جسے جائز طور پر ناچ گانے سے سجایا جا سکتا تھااور (اس عہد میں)ڈسٹری بیوٹرناچ گانے کے دیوانے تھے۔ لیکن دوسری طرف اس میں موڈ، ماحول اور نفسیاتی کرید کی بھی بہت گنجائش تھی ۔ میں نے ایک صاف تخلیقی ضمیر کے ساتھ اس کہانی کے حق میں فیصلہ کیا۔ موسیقی کی محفلیں منعقد کرنے کے شوق کے ہاتھوں تباہ ہو جانے والے زمیندار کے مرکزی کردار کے لیے میں نے چھبی بسواس کو منتخب کیا جو ہمارا سب سے عظیم اداکار ہے ۔ لیکن سب سے گمبھیر مسئلہ حویلی کی تلاش کا تھا(2)۔"اور انہیں وہ حویلی نمتیتا کی صورت میں ملی۔

• اس کے بعد اسد محمد خان کی ایک نظم نے ٹو ہوسپی ٹالٹی اور ایک مختصر کہانی برج خموشاں ہے۔ یہ دونوں تخلیقات علامتی ہیں۔ ان میں بہت مبہم سے استعارے ہیں جن میں تاریخی اور طبعیاتی علامتوں کا وفور ہے۔ کہانی تو ایک حد تک سمجھ میں آجاتی ہے، مگر نظم کو سمجھنے سے میں قاصر ہوں۔ عین ممکن ہے اس میں کوئی اہم بات ہو۔اجمل کمال نے شامل کی ہے توضرور ہوگی اور اسد محمد خان جیسے اچھے لکھنے والے کی تخلیق ہے اس لیے بھی ضرور ہوگی۔بنانے کو تو میں بھی کئی باتیں بنا سکتا ہوں مگر بہتر یہ ہی سمجھتا ہوں کہ کبھی اجمل صاحب سےملاقات ہوئی تو پوچھ لوں گا۔

o اس فقیر کے ایک مہمان لاہور کا ٹکٹ چھاونی کے اسٹیشن پر لینے کے لیے گئے۔ کھڑکی کی قطار میں کھڑے ہوئے ۔ کھڑکی پر پہنچ کر جیب میں ہاتھ ڈالا تو یا مظہر العجائب، بٹوا غائب۔
o کلفٹن روڈ کا پورا نقشہ۔
o ایک بازار یہاں ویڈیو کی دکانوں کا ہے۔ دنیا جہان کی سب فلمیں یہاں دستیاب ہیں۔ گوکہ ہندوستانی فلموں کو دیکھنا جرم ہے۔ مگر سب دیکھتے ہیں۔ محافظین قانون مناسب معاوضہ لے کر چشم پوشی کرتے ہیں۔
o ہر طبیب اس شہر کا اپنے دور کا مسیحا ہے۔ مردہ تن میں جان ڈالتا ہے۔ بشرطیہ کہ مریض دیر سے نہ پہنچے۔
o اس شہر میں بیسیوں مکتب،درس گاہیں، جامعات ہیں۔ ان کے فیض سے ہر طالب علم طپنچہ و کلاشنکوف صحیح نشانے پر چلانے کی مہارت بہم پہنچاتا ہے۔

• اوپر کی چند عبارتیں "کراچی کا تہذیبی مرقع مع مدد نامہ بے نظیر" سے مقتبس ہیں۔اس پورے مضمون میں محمد خالد اختر نے بلا کی نثر نگاری کا مظاہرہ کیا ہے۔ قدیم داستانوی زبان میں شہر کراچی کا اس مہارت سے نقشہ کھینچا ہے کہ پڑھنے والا حیران رہ جاتا ہے۔ اس نثر میں کہیں کہیں نہایت سنجیدہ مقامات ہیں اور کہیں کہیں لطیف طنزیہ اور مزاحیہ جملے۔ یہ اردو کی شاہ کار تحریر کہی جانے کی مجاز ہے۔ میں نے محمد خالد اخترکی اس تحریر سے قبل ان کےسفر نامے اور چند کہانیاں پڑھیں تھیں ۔ ان کی نثر میں کمال کی قادر الکلامی نظر آتی ہے۔ اسلوب نہایت واضح اور بیان ایسا شستہ کے پڑھنے والا ایک نشست میں پوری تحریر پڑھے بنا بعض نہیں آ سکتا۔ پھر یہ تحریر پڑھ کر تو کوئی بھی ان کا دیوانہ ہو جائے گا۔ خالد اختر نے کہیں کہیں تو داستانوی انداز کو اتنا دلچسپ بنا دیا ہے کہ وہ خود ہماری داستانوں میں عنقا ہے اور کہیں کہیں اتنی صاف زبان لکھ گئے ہیں کہ ظاہر ہونے لگتا ہے کہ یہ موجودہ عہد کی ہی زبان ہے۔ من جملہ یہ ایسی تحریر ہے جس کا متبادل اردو میں تلاش کرنا مشکل ہے۔

• اس کے بعد اس شمارے میں ڈونلڈ بارتھیم کی کہانی غبارہ شامل کی گئی ہے۔ غبارہ ایک دلچسپ کہانی ہے، مگر اس میں ابہام بہت زیادہ ہے۔ جملوں اور اقتباسات کا رشتہ مسلسل نہیں ہے۔ کہانی ایک ہے مگر واقعات اور خیالات کا بے ہنگم سا بکھراو ہے۔ یہ ایک عام تصور سے سمجھنے والی کہانی نہیں ہے۔ اس کے لیے کئی نفسیاتی تجربات اور انسانی خیالات کا ادراک ضروری ہے۔ ساتھ ہی نئی زندگی کا شعور ناگزیر ہے۔ ڈانلڈ بارتھیم ایک امیریکی مصنف تھے ،جنہوں نے مابعد جدیدتصور کو اپنی کہانیوں میں روا رکھا ہے۔ لہذا ان سے آسان اور عام فہم اسلوب کی خواہش بھی عبث ہے۔ اس کہانی میں بھی غبارے کے ذریعے انہوں نے انسانی زندگی کے کئی سہل رویوں کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔مثلاً ایک مقام پر لکھتے ہیں کہ :"شروع میں لوگوں کے درمیان غبارے کے معنی پر کچھ بحث ہوئی اور تھم گئی۔ کیوں کہ ہم نے مقصد کو جاننے کی کوشش کیے بغیر جینا سیکھ لیا ہےاور اب تو معنی کی جستجو خال خال ہی رہ گئی ہے، سوائے ان مظاہر کے جو انتہائی سادہ اور یقینی ہوتے ہیں۔(3)۔اسی طرح مختلف مقامات پر اپنےفلسفیانہ اسلوب سے انسانی زندگی کی محرومیوں کا احساس دلانے کی کوشش کی ہے۔ کہانی بنیادی طور پر ایک غبارے کے ارد گرد گھومتی ہے مگر اس کا اصل مرکز انسانی ذہن و مزاج ہے اور اس امر کا اظہار کہ ہم ایک خاص تاریخی رویہ کا شکار ہیں جس میں ہم اس بری طرح پھنسے ہوئے ہیں کہ منظر سے آگے کی حقیقت ہمیں نظر ہی نہیں آتی۔ کہانی بہت طویل نہیں ہے اور اس کا ترجمہ زینت حسام نے کیا ہے۔

• اگلی کہانی "وہ آدمی جس کا دل پہاڑیوں میں رہ گیا" کچھ خاص تو نہیں مگر اس لحاظ سے عمدہ ہے کہ ولیم سیرویان نے اپنے ملک میں شعرا کی حالت پر ایک طنزیہ تحریر لکھی ہے۔ اس میں کہانی پن بہت زیادہ ہے جو مکالمے کی بے ضابطگی سے پیدا ہوا ہے۔ مصنف جو خود کہانی کا Narratorبھی ہے وہ ایک آٹھ برس کا بچہ ہے اور وہ شخص جو کہانی میں ایک دلچسپ کردار کہا جاسکتا ہے وہ مسٹر میک گریگور ہیں۔ ایک بوڑھا شخص جس کا دل پہاڑیوں میں رہ گیا۔ وہ گیت گاتا ہے اور بگل بجاتا ہے اور بنجاروں کی طرح زندگی گزارتا ہے ۔ ایک اچھا فن کار جو اپنے فن کے باعث مختلف مقامات پر اجنبیوں کے درمیان خود کو محبوب بنا لیتا ہے۔ فن کی کار کردگی کا یہ اہم نکتہ ہے۔ جبکہ کہانی کار کا باپ بھی ایک شاعر ہے مگر اس کے فن نے اسے زندگی کے لوازمات سے مالا مال نہیں کیا ہے۔ وہ اس سوال پر غور کرتا ہے کہ ایک بھوکا شخص کس طرح اچھی نظم کہہ سکتا ہے۔ ایک دلچسپ کردار اس کہانی میں اس دکان دار کا ہے۔ جس سے بچہ سامان لاتا ہے ہر دفعہ بنا رقم ادا کیے۔کہانی کا ترجمہ افضال احمد سید نے کیا ہے۔

• اس کے بعد افضال احمد سید کی ہی چند چھوٹی چھوٹی کہانیاں ہیں ۔جن میں سب سے پہلی "استقبالیہ میں لگا ہوا آئینہ"ہے۔ اس کہانی میں کچھ جملے نہایت دلچسپ ہیں جو کہانی سے الگ قاری پر اپنا ایک تاثر قائم کرتے ہیں۔مثلاً:"آئینے کو اس دیوار کے سیاق سے جس پر وہ لگایا گیا ہو، علیحدہ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔"(4)۔"حالاں کہ ہوٹل کی فضا اس عبادت خانے کی سی تھی جس سے خدا ابھی ابھی نکالاجا چکا ہو۔"(5)۔اس کے علاوہ اس میں بہت سے ایسے سوالات ہیں جن کو حل کیے بنا کہانی کے معنی تک رسائی بہت مشکل ہے۔مثلاً:ایسا کون سا بازاری نام ہے جو تین حروف کا ہو اور جسے پڑھنا آسان ہو؟دوسرا نام جو ایک دریا کے نام پر تھا تو ایسا کون سا دریا ہے جس کا نام پانچ حروف کا ہے؟اور تیسرا نام جو بے انتہا خون آلود رنگوں میں آٹھ حروف میں لکھا تھا وہ کیا تھا؟ ایک سوال یہ بھی ہے کہ ان تینوں میں مناسبت کیا ہے اور کہانی سے اس کا کیا تعلق؟بورڈ کے نیچے سے گزرتے ہوئے ہی سابقہ بیوی کا خیال کیوں آیا؟ اور اس کے ان دو شوہروں کا خیال کیوں آیاجو قید حیات میں ہیں؟"آدمی کو ایسے موقعے پر خواب دیکھنے کے لیے جو ضروری وقفہ ملتا ہے ،وہ مجھے نہیں دیا گیا" اس کے کیا معنی ہیں؟ گھڑی کی سوئیاں جو آئینے کے باہر تھیں وہ ہی اندر تھیں،اس میں حیرت کیسی؟صوفوں پر بیٹھے ہوئے لوگ اسے آتا دیکھ کر کیوں اٹھ کر کہیں چلے گئے؟ہجے معلوم ہونے کے بعد ہی ٹائب رائٹر کے سامنے بیٹھنے والا شخص کیوں بتا پایا کہ دوسری منزل پر؟سڑیوں پر بچھا ہو قالین کیوں معلق رہ جائے گا؟تیروہیں سیڑی پر کوئی کیوں دل میں تیر مارے گا اوردسرے کمرے کے چوبی دروازے سے کوئی نو عمر نیم برہنہ لڑکی چیخ مارتی ہوئی کیوں برآمد ہوگی؟کیوں ابھی ابھی نام لگایا گیا تھا؟جس آدمی سے وہ ملنے آیا تھا وہ سیال تقدیر کیوں تھا؟آئندہ حماقتیں کس طرح یاد کی جاتی ہیں؟اورآئینے میں اس کا عکس اپنی جگہ سے کیوں غائب تھا؟کہانی میں اچھے جملوں سے قطع نظر متذکرہ بالا سوالات بہت اہم ہیں ۔ جب تک ان کا جواب نہیں ملتا تب تک کہانی کا ایک بڑا حصہ سمجھ میں نہیں آسکتا۔ لہذا یہ کہانی اس وقت تک مکمل بھی نہیں ہو سکتی۔اس کے بعد تین مزید مختصر کہانیاں"لاوانیا کے قریب"،"مجھے ایک کانسنی پھول پسند تھا" اور "ملک الشعرا نبار اسباریان کا ایک مطلع " ہیں۔ جن میں سب سے دلچسپ کہانی آخر الذکر ہے جس کے آخر ی سین پر دل لرز جاتا ہے۔ حالاں کہ اس بات کا علم کہیں نہ کہیں قاری کو خاصہ پہلے ہو جاتا ہے کہ کہانی کا اختتام یہیں پہ ہونا ہے۔

• اس کے آگے ذیشان ساحل کی دو نظمیں دی گئی ہیں ایک سرمہ اور دوسری مجرم۔مجرم موجودہ دنیا کی صورت حال پر ایک نہایت موزوں نظم ہے۔ جس کی پوری فضا شاعر کی معاشرت میں ہونے والے انسان رواداریوں اور انسانی رویوں کے انحطاط کا ثبوت فراہم کرتی ہے۔ اس نظم کے اختتام پر جب شاعر یہ کہتا ہے کہ:

ہم آہستہ آہستہ اپنے شہروں کو جہنم بنا دیں گے
اور خود کو شیطان میں تبدیل کر لیں گے

تو پوری نظم کا کلامیہ کھل کر سامنے آجاتا ہے۔ نظم میں بعض اشارے بہت عمیق ہیں جن میں تلمیح کا استعمال کیا گیا ہے۔ اس کے بالمقابل سرمہ ایک لطیف نظم ہے جس سے معنی کے کئی سوتے پھوٹتے ہیں۔ مگر کچھ یوں بھی محسوس ہوتا ہے کہ شاعر کے یہاں یہ خیال ابھی مزید فکری مراحل سے گزرنےکا متقاضی تھا۔

• ذیشان ساحل کے بعد نظمیہ حصے میں متواترنسرین انجم بھٹی کی ایک اورسعیدالدین کی کچھ نظمیں دی گئی ہیں۔نسرین انجم کی نظم کا عنوان چوہے ہے اور یہ ایک طویل نظم ہے۔ جبکہ سعید الدین کی نظموں کے عناوین گاتا ہوا پتھر،نظم،محبت کرنے والے، نظم،نظم،ایک درخت کی دہشت،اندھا اور دوربین،چرواہے کا خواب،دوسرا باغی،جیتی ہوئی ہار،میرے خواب اورچینوٹیاں ہیں۔

• نسرین انجم بھٹی کی نظم چوہے ایک سادہ کیفیت کی نظم ہے جو غربت اور بے چارگی کے منظر بناتی ہے۔ بہت دلچسپ انداز میں نسیر انجم بھٹی نے نظم میں چوہوں کا ہماری زندگی میں جو کردار ہے وہ ظاہر کیا ہے۔ ایک ایسا گھر جہاں افلاس ہے، اندھیرا ہے، بے روز گاری ہے اور بچوں کی افراط ہے، وہاں چوہے ہی گھر کے سب سے بڑے راز دار ہوتے ہیں ۔ ان کی چمکیلی آنکھیں جن میں بھوک تیرتی ہے اور ایک نوع کا تحیر اور ڈر بھی ،وہی عالم کچھ ان بستیوں اور محلوں میں پلنے والے بچوں کا ہوتا ہے جو مفلسی کے عالم میں پلتے بڑھتے ہیں۔ ایک امید اور انوکھے ہزار ہا خواب جن میں بھوک سب سے اہم ہوتی ہے۔ ماں کا پلو اور باپ کا شام کو گھر لوٹنا یہ ان بچوں کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے، جس میں انھیں اپنی بھوک کو مارنے والی غذاوں کے خواب پوشیدہ معلوم ہوتے ہیں ۔ نسرین انجم بھٹی نے نظم کے پورے بیانیے میں چوہے کی رفتار اور بچوں کی حرکات کومنظم انداز میں نظم کیا ہے۔ اس سے نظم میں المیہ کی فضا گہری ہوتی چلی گئی ہے اور جہاں نظم کو ختم کرتے ہوئے باپ کی واپسی پر دیواروں کے لپکنے کا منظر دکھایا گیا ہے،ساتھ ہی ماں کے دوپٹے اور گھر کے چوہے دان میں راکھ بھرنے کا منظر تو اس مقام پر پہنچتے پہنچتے نظم میں جذباتیت اور مایوسی اپنی انتہا کو پہنچ جاتی ہے۔ اس پوری نظم میں ربط بہت زیادہ ہے اور بیانیہ میں متغیر اجزا نام کو نہیں۔یہ نظم کی کامیابی ہے۔

• سعید الدین کی نظموں میں امیجری،تجسس،ناامیدی، اضطراراور المیہ بہت ہے۔ اس شمارے میں ان کی چھوٹی چھوٹی نظمیں شامل ہیں جس میں "محبت کرنے والے " میں انہوں نے بظاہر سادہ مگر عمیق اور گہرے استعاروں سے اپنی بات کہی ہے۔ نظم میں کچھ نیا نہیں ، نہ خیال اور نہ انداز بیان ۔بس ایک نوع کی شوخی اور لطافت ہے جو المیہ کی صورت میں جاری ہوتی ہے۔ ان کے تخیل میں کج روی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ جو بیان کر رہے ہیں وہ ان کے اثر ات کا حصہ ہے ۔ محسوس کیے ہوئے جذبات اور مشاہدے سے گزرے ہوئے خیال کو نظم کر دیا ہے۔ نظموں کے اس انتخاب میں "محبت کرنے والے" سعید الدین کے اسلوب اور فکرکا نقطہ عروج ہے۔ اس کے بعد "ایک درخت کی دہشت " ہے جو بہت رومانی نظم معلوم ہوتی ہے۔ بس اس کا رومان عام فہم اطوار سے ذرا مختلف ہے۔سعید الدین کی ایک نظم چینوٹی بھی اس شمارے میں موجود ہے۔ اس میں انہوں نے ایک بہت بڑے موضوع کو اپنے خیال کا مرکز بنایا ہے۔ چینوٹی کو اپنے مرکز کا استعارہ بنانا اس لیے بھی مشکل ہے کہ اس کے وہ اوصاف جو ہمیں نظر آتے ہیں وہ اس سے کہیں زیادہ با وصف ہوتی ہے۔ سعید الدین سے ایک بڑی غلطی یہ ہوئی ہے کہ انہوں نے اسے اپنے مشاہدے کے بڑے حصے میں شامل نہیں کیا ورنہ ان کی یہ نظم اس لحاظ سے زیادہ فکری ہوتی کہ چینوٹی جیسا بڑا موضوع چن کر انہوں نے اس کا صحیح استعارہ وضع کیا۔

• اس شمارے میں نیر مسعود کو خاص طور سے شامل کیا گیا ہے۔ جس میں ان کی ایک کہانی وقفہ ، پھر مراسلہ اس کے بعد ساسان پنجم اور جان عالم شامل کی گئی ہیں ۔ وقفہ سب سے پہلے ہے۔ صاف اور سادہ اسلوب میں۔ بہت رواں دواں کہانی ہے۔ جس کو پڑھتے وقت اپنے بچپن اور جوانی کے بے تکے اعمال یاد آجاتے ہیں۔ لطیف فکری انداز میں لکھی ہوئی اس کہانی میں مصنف نے اپنے خاندان کے ایک خاص کردار کو مرکز بنایا ہے۔ مگر یہ بات کہیں واضح نہیں ہوتی کہ مصنف کس کی کہانی لکھ رہا ہے۔ سادہ اسلوب میں پیچیدہ کہانی ہے۔ جس کاہر اقتباس ایک نوع کے تجسس سے پر ہے۔ کہانی کی ساری کڑیاں آپس میں ملی ہوئی ہیں اس کے باوجود پہلی قرات میں یہ معلوم ہی نہیں ہو پاتا کہ آخر کہا نی کا مقصد کیا ہے اور کس نفسیاتی اور تاریخی حالت سے کہانی بحث کر رہی ہے۔ باپ، بیٹے کی اس کہانی کا سب سے اہم تجسس یہ ہے کہ بیٹا خود اپنے باپ کے تئیں مشکوک ہے کہ آیا یہ میرا باپ ہے بھی یا نہیں۔ استاد کا کردار بھی اتنا ہی پر اسرار اور دلچسپ ہے جیسا عام طور پر ایسی خاموش کہانیوں میں نیر صاحب کے یہاں ہوتا ہے۔ کہانی میں کئی مرتبہ اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ کسی بھی لمحے میں کہانی ختم ہو جائے گئی۔ پوری کہانی میں کئی مقامات پر کہانی ختم ہوتی معلوم ہوتی ہے اور مکمل بھی ۔خاص طور سے اس وقت جب باپ کی سانسیں اکھڑ رہی ہوتی ہیں۔ پوری کہانی میں ایک نشان کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے جو ایک مچھلی کا نشان ہے۔ وہ ہی مچھلی کا نشان جو لکھنو کی تاریخی عمارتوں پر بنا ہوا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کہانی کا لکھنو کی تہذیبی تاریخ سے گہرا رشتہ ہے، لہذا اس وقت تک کہانی کے بہت سے گوشے قاری پر روشن ہی نہیں ہوں گے جب تک وہ لکھنو کی ثقافتی تاریخ سے پوری طرح واقف نہ ہو۔جس مچھلی کے نشان کے ارد گرد یہ کہانی گھومتی ہے وہ تاریخی عمارتوں پر تحفظ اور طالع بیداری کی علامت کے طور پر بنایا جاتا تھا۔ ہندوستان میں ایسے کئی نشانات ہیں جو مختلف عمارتوں پر بنے ہوئے ہیں جن کو ہندو مسلم تہذیب کی مشترکہ علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ یہ علامتیں ایک زمانے میں شبھ لابھ کے طور پر بنائی جاتی تھیں ۔ لکھنو کی ایسی عمارتوں پر مچھلیوں کے نشانات کے ضمن میں ایشا بسنت جوشی نے اپنے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ:

This was carried in war behind the recipient king or commander. How it came to be a pair of fish instead of just a single fish head can possibly be attributed to a popular story of Nawab Saadat Khan Burhan-ul-Mulk. It is said that after being appointed the Governor of Awadh, on his way to Lucknow from Farukkhabad, he was crossing the river Ganga and two fish leaped into his lap. This was considered a good omen. The two fish, symbolizing good luck reached Lucknow along with Nawab Saadat Khan and thus began the golden era of the history of Awadh. (6)
مزید یہ کہ:

The twin fish gained more prominence in 1819 AD when Court artist Robert Home designed the royal insignia for Nawab Ghaziudddin Haider’s coronation as the first King of Awadh and used the twin fish as one of the chief elements. These fish turned into mermaids- ‘Jal pari’ during the rule of Nawab Wajid Ali Shah۔(7)

واضح رہے کہ یہ وہی ایشا بسنت جوشی ہیں جو آزاد ہندوستان کی پہلی آئیIASافسر تھیں اور جن کا تعلق لکھنو سے تھا۔ کہانی میں دلچسپ موڑ بھی بہت ہیں مگر ایک مبہم سے مقدمے پر اسے ختم کیا گیا ہے۔ جس کے معنی کی تلاش دیر تک قاری کو اپنے نرغے میں رکھتی ہے۔ بعض جملے بہت تخلیقی اور پر لطف ہیں جن میں چند مندرجہ ذیل ہیں:"شہر کے محلوں کا ذکر وہ اس طرح سے کرتا تھا کہ ہر محلہ مجھے ایک انسان نظر آتا تھا۔ جس کا مزاج اور کردار ہی نہیں ، صورت شکل بھی دوسرے محلوں سے مختلف ہوتی تھی۔(8)"۔"جوش میں آ کر استاد یہ دعوی بھی کرنے لگتا تھا کہ وہ شہر کے کسی بھی آدمی کو دیکھتے ہی بتا سکتا ہے کہ وہ کس محلے کا رہنے والا ہے یا کن کن محلوں میں رہ چکا ہے۔اس وقت میں اس کے اس دعوے پر ہنستا تھا ،لیکن اب دیکھتا ہوں کہ خود مجھ میں یہ صفت کچھ کچھ موجود ہے۔(9)"۔"کئی تکیوں کے سہارے بیٹھنے کے بعد وہ کسی خیال میں ڈوب گیا ۔ اس سے پہلے وہ مجھے سوچنے والا آدمی نہیں معلوم ہوتا تھا، لیکن اس وقت کئی تکیوں سے ٹیک لگائے ، قاعدے کا صاف ستھرا لباس پہنے وہ کچھ سوچ رہا تھا اور اس وقت پہلی بار مجھے خفیف سا شبہ ہوا کہ وہ میرا حقیقی باپ ہے۔ (10)"۔"انہیں سیروں میں مجھے یقین ہوا کہ مچھلی میرے شہر کا نشان ہے ۔ مجھے ایسا محسوس ہوا کہ میں نے مبہم سے معمے کا حل دریافت کر لیا ہے، لیکن اسی کے ساتھ مجھے یہ بھی محسوس ہونے لگا کہ حل اصل معمے سے بھی زیادہ مبہم ہے۔(11)"۔"سب سے بڑی کنجی ، جس کے پورے حلقے پر باریک باریک ہندسے کھدے ہوئے تھے، مجھے استاد کے چہرے سے مشابہ نظر آئی لیکن مشابہت کا سبب میری سمجھ میں نہیں آیا۔(12)"۔

• ساسان پنچم کو ایک کہانی تو نہیں کہا جا سکتا ۔ دراصل یہ ایک نوع کی تاریخی بحث ہے۔جس کو ایک دلچسپ موڑ پہ ختم کرتے ہوئے نیر مسعود نے ایک سوال قائم کر دیا ہے کہ جب ساسان پنجم کا وجود ہی مشکوک ہے تو ان کی زبان کے ہونے پر کیوں کر یقین کیا جائے ،پھر بھی کچھ لفظ ایسے ہیں جن کے معنی کا سراغ علما نے لگا لیا ہے ، جو ایک خاص طرح سے استعمال ہوتےتھے اور ان کے کچھ خاص معنی تھے۔ تاریخ البتہ ان کی نہ ملے مگر ان کے ہونے کا اثبات تو اسی امر سے ہو جاتا ہے کہ ان لفظوں نے ایک الگ معنی حاصل کر لیے تھے۔ نیر صاحب نے پہلے بادشاہ مہ آباد کا تذکرہ نہیں کیا ہے۔ صرف پانچویں کا کیا ہے۔ جس کو ساسان پنجم کہا جاتا ہے۔ اس موضوع پر غالبا اردو میں یہ ایک ہی افسانہ ہے۔ حالاں کہ فارسی میں اس پر لکھا گیا ہے۔ زرتشتی مذاہب کےمباحث کے ذیل میں۔

• نیر مسعود کی کہانیاں بہت سے تاریخی ، تہذیبی اور مذہبی مباحث سے نکل کر اپنا ایک الگ وجود قائم کرتی ہیں۔ ان کا مبہم اسلوب مختلف نوعیتوں کے علوم کی واقفیت کا تقاضہ کرتا ہے۔ ان کی ہر کہانی ایک ایسے پوشیدہ راز کی طرح ہے جو ایک خاص علم کے تالے سے مقفل کی گئی ہے اور اس کو کھولنے کے لیے اس کی صحیح چابی تک پہنچنا ضروری ہے۔ نیر مسعود اردو ادب کے ایسے واحد افسانہ نگار ہیں جنہوں نے اتنی مختلف النوع کہانیاں لکھی ہیں کہ ان کو مکمل گرفت میں لانا مشکل ہوجاتا ہے۔ ایک نشست اور ایک قرات میں ان کی زیادہ تر کہانیاں نہیں سمجھی جا سکتیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ان کہ کہانی کو کئی بار پڑھا جائے اور اس میں معنی کے تنوع کو سمجھا جائے اور اس علم سے خاص طور پر ایک رشتہ قائم کیا جائے جس کے حصول کے بنا اس کہانی کے اصل معنی تک پہنچنا نا ممکن ہے۔ بہت سادہ اسلوب میں نیر صاحب نے اردو کو بہت عمیق کہانیاں دی ہیں ۔ لہذا اگر ان کو روا روی میں پڑھا جائے تو کچھ یو محسوس ہوتا ہے کہ گویا پڑھا ہی نہیں ہے۔ نیر مسعود ٹرینوں اور بسوں میں سفر کرتے ہوئے یا بازار میں کسی دکان پر بیٹھ کر نہیں سمجھے جا سکتے اس کے لیے کتابوں کی وہ الماری درکار ہے جس میں مختلف النوع علوم کی کتب قرینے سے لگی ہوں ۔ کیوں کہ ان کا ابہام ہی ان کی شناخت ہے اور ان کا اسلوب ان کی ترسیل کا حربہ۔

• اسی شمارے میں فروغ فرخ زادکی تین نظمیں بھی شامل کی گئی ہیں جن کا ترجمہ نیر مسعود نے فارسی سے اردو میں کیا ہے۔ یہ نظمیں آفتاب کی طرح،اندھیری راتوں میں اور ہدیہ ہیں۔ فروغ فرخ زاد فارسی کی بہت مشہور شاعرہ تھی جن کا انتقال 32 برس کی عمر میں ایک حادثے کا شکار ہونے کی وجہہ سے ہو گیا تھا۔ ان کی نظموں میں ایک نوع کی کسک پائی جاتی ہے۔ جیسے بہت کچھ ہے جس کی مخالفت میں فروغ فرخ اندر ہی اندر کسمسارہی ہیں ۔ ان تین نظموں کے مطالعے سے بھی اس بات کا احساس ہو جاتا ہے۔ ایک چھوٹی سی نظم "ہدیہ"دیکھیے:

میں انتہائے شب کی بات کر رہی ہوں
انتہائے ظلمت،انتہائے شب کی بات کر رہی ہوں میں
تم آو میرے گھر اگر تو میرے مہرباں
تمہارے ساتھ اک چراغ بھی ضرور ہو
اور اک دریچہ بھی ہو جس سے جھانک
میں کم سے کم گلی میں دیکھ تو سکوں
کہ میرے گھر کے پاس ہی
بہت سے ایسے لوگ ہیں جو شاد و با مراد ہیں

• اس نظم میں بظاہر ایک طرح کی یاسیت نظر آتی ہے ، مگر یہ واقعہ ہے کہ اس میں اس روشنی اور امید کی جھک زیادہ واضح ہو گئی ہے۔ جس کی خواہش میں شاعرہ اپنے موہوم سے تصور کا اظہار کر رہی ہے۔یہ مطالبہ کہ اگر تم آو میرے گھر تو اک چراغ بھی تمارے ساتھ ہو۔ بصیر ت کا مطالبہ ہے جس سے کور چشمی اور انتہائے ظلمت کو دور کیا جا سکے۔ انتہائے ظلمت بھی خاصہ معنی خیز ہے اس سے مشاہدے کی انتہا بھی مراد لیا جا سکتا ہے۔ بہر کیف نظم سادہ ہے مگر معنی سے بھرپور۔

• اس شمارے کی آخری کہانی بابا مقدم کی پنجرے ہے جس کا ترجمہ فارسی سے نیر مسعود نے کیا ہے۔ پنجرے کے موضوع پر ایسی کہانی اردو میں شاید ہی لکھی گئی ہو۔ اس کو پڑھ کر لکھنو کا وہ ماحول ضرور ی آ جاتا ہے جہاں کے نوابین اور حکمرانوں کو طرح طرح کے پرندوں اور جانوروں کو جمع کرنے کا شوق تھا۔ ایک فلسفیانہ نکتے پر ختم ہونے والی سچی کہانی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالے:
1۔ ص:20،25،شمارہ-1،آج،مدیر :اجمل کمال۔
2۔ ص:25،شمارہ-1،آج،مدیر :اجمل کمال
3۔ ص:38،شمارہ-1،آج،مدیر:اجمل کمال
4۔ ص:52،شمارہ-1،آج، مدیر:اجمل کمال
5۔ ص:53،شمارہ-1،آج،مدیر:اجمل کمال
6۔ Isha Basant Joshi, “Lucknow observer
7۔ Isha Basant Joshi, “Lucknow observer
8۔ ص:79، شمارہ-1،آج،مدیر:اجمل کمال
9۔ ص:79، شمارہ-1،آج،مدیر:اجمل کمال
10۔ ص:84، شمارہ-1،آج،مدیر:اجمل کمال
11۔ ص:84، شمارہ-1،آج،مدیر:اجمل کمال
12۔ ص:89، شمارہ-1،آج،مدیر:اجمل کمال

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

امتناع کا مہینہ - اختر حسین جعفری

اس مہینے میں غارت گری منع تھی، پیڑ کٹتے نہ تھے، تیر بکتے نہ تھے

قصور میرا بھی ہے شائد

اچانک میرا منہ کھلا اور آتش فشاں پھٹ پڑا، میرے منہ سے سیاسی قائدین خصوصاً اس سیاسی قائد کے بارے میں جس کے گھر کے قریب میں پہنچ چکا تھا کے خلاف نعرے ابلنے لگے۔

فسطائیت کیا ہے

بنیتو مسولینی (1883-1945)   (مسولینی کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ اٹلی کے فسطائی دور میں ۱۹۲۲ سے ۱۹۴۵تک