آج چھٹی ہے

آج چھٹی ہے
ٹھیک ہے
آج
میں نے شاعری کو زِپ لگا کر الماری میں
تہہ کرکے چابی تالا لگا لیا
جذبوں کو پلاسٹک میں لپیٹ کر فریزر میں
اگلے دن کے لئے پھر سے پگھلانے کے لۓ محفوظ کر دیا ہے
خواب کو مزیدار سا مصالہ لگا کر ہوابند ڈبےمیں
محفوظ کر لیا
شوق کی سبزیاں کاٹ کر مرتبان کے منہ پرکپڑا باندھ کر
تیزابی وقت کے سرکے میں گلانے کے لۓ رکھ دیا
جنون کو ڈائزا پام کا انجیکشن لگا کر
اگلے دن تک تازہ دم ہونے کے لۓ مزے سے سلا دیا
آشاوٴں اور تمناوٴں کا موبائل سائلینٹ موڈ پر کر لیا
آتش سبز کو پک جانے کے لئے
آٹے کے کنسٹرمیں دبا دیا
دیکھو ذندگی کا یہ ڈیکورم چھٹُی کے دن
مزید منًظم ہو گیا ہے نا

Related Articles

دو کیشیئرز

جمیل الرحمان: جسم کے الاؤ میں
خواب کے بہاؤ میں
اک پرانی حسرت کے
گھاٹ پر اُترنے تک
نظم اُس نے کہنی تھی

ایک خسارے کا احوال (اسد فاطمی)

وہ جس گھڑی مجھ پہ کھل گیا تھا؛ قمار خانے کی میز پر میرے نام کے سبوچے میں خاک ہے!

حرامی ہجرتیں

میں ادھورے نقشے بناتا ہوں
تم نے کہاں تک جانا ہے؟
آج کے دن، اس سال، اس صدی، اس کہکشاں کے انڈے میں
تم کہاں تک جا سکو گے؟