آخری دلیل

آخری دلیل

تمہاری محبت
اب پہلے سے زیادہ انصاف چاہتی ہے
صبح بارش ہو رہی تھی
جو تمہیں اداس کر دیتی ہے
اس منظر کو لازوال بننے کا حق تھا
اس کھڑکی کو سبزے کی طرف کھولتے ہوئے
تمہیں محاصرے میں آئے ایک دل کی یاد نہیں آئی
ایک گم نام پل پر
تم نے اپنے آپ سے مضبوط لہجے میں کہا
مجھے اکیلے رہنا ہے
محبت کو تم نے
حیرت زدہ کر دینے والی خوش قسمتی نہیں سمجھا
میری قسمت جہاز رانی کے کارخانے میں نہیں بنی
پھر بھی میں نے سمندر کے فاصلے طے کیے
پراسرار طور پر خود کو زندہ رکھا
اور بے رحمی سے شاعری کی
میرے پاس ایک محبت کرنے والے کی
تمام خامیاں
اور آخری دلیل ہے
Image: Henn Kim

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

کائناتی گرد میں عریاں شام

اردو شاعری کے لیے یہ بات ایک نیک شگون ہے کہ شعراء کی نئی پود کافی حد تک غزل بمقابلہ نظم کے "موازنہ٫ انیس و دبیر" سے باہر آ گئی ہے اور نظم، اپنے نت نئے اسلوبیاتی تجربات کے ساتھ، غزل کی ساکھ کو متاثر کیے بغیر نئی تخلیقی آوازوں کے ہاں اپنے پورے قد کے ساتھ کھڑی ہے۔

دردِ زہ میں مبتلا کوکھ کا چارہ گر

جمیل الرحمان: وہ فلائی اووروں پر چل کر نہیں لوٹ سکے گا
اُسے پرانے راوی کو نئے راوی میں انڈیل کر
پانی کی تیز لہروں کو اپنی فولادی بانہوں سے چیر کر
اُس میں راستہ بناتی اپنی جرنیلی سڑک کو بچھا کر
اُسی پر چلتے ہوئے
لوٹنا ہوگا

انتظار کا الو

میں پرانا قیدی ہوں مجھ سے
دیواروں سے محبت نہیں ہوتی
ہوتی ہے تو پھر نفرت نہیں ہوتی
میں اپنے گوشت کے محاصرے میں بند
اپنے بدن کے ہراول دستوں کا سپاہی
میں اپنی ناف پر کمند ڈال کر
اس شہر کو گرانے آیا ہوں
تم سے جو ہوتا ہے
تم وہ کر لو