آخری دلیل

آخری دلیل

تمہاری محبت
اب پہلے سے زیادہ انصاف چاہتی ہے
صبح بارش ہو رہی تھی
جو تمہیں اداس کر دیتی ہے
اس منظر کو لازوال بننے کا حق تھا
اس کھڑکی کو سبزے کی طرف کھولتے ہوئے
تمہیں محاصرے میں آئے ایک دل کی یاد نہیں آئی
ایک گم نام پل پر
تم نے اپنے آپ سے مضبوط لہجے میں کہا
مجھے اکیلے رہنا ہے
محبت کو تم نے
حیرت زدہ کر دینے والی خوش قسمتی نہیں سمجھا
میری قسمت جہاز رانی کے کارخانے میں نہیں بنی
پھر بھی میں نے سمندر کے فاصلے طے کیے
پراسرار طور پر خود کو زندہ رکھا
اور بے رحمی سے شاعری کی
میرے پاس ایک محبت کرنے والے کی
تمام خامیاں
اور آخری دلیل ہے
Image: Henn Kim

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

پانچواں مفرد

نصیر احمد ناصر: اگر تم میں انتظار کی شکتی ہوئی
تو میں عناصر کی نئی ترتیب کے ہمراہ
تمہیں ملنے آؤں گا

خشک نمی

عاصم بخشی: تیرے آنے میں ابھی وقت ہے اے راحتِ جاں
سینۂ خشک پہ لازم ہے کہ ایماں رکھے
تو جب آئے گی،
گھٹا چھائے گی،
بارش ہو گی

غلامانِ غلاماں ہیں

ثروت زہرا: ہمیں کوئی بھی ڈھانچہ دو گے
پل لیں گے
ہمیں کوئی بھی کھانچہ دو گے
ڈھل لیں گے