آخری دلیل

آخری دلیل

تمہاری محبت
اب پہلے سے زیادہ انصاف چاہتی ہے
صبح بارش ہو رہی تھی
جو تمہیں اداس کر دیتی ہے
اس منظر کو لازوال بننے کا حق تھا
اس کھڑکی کو سبزے کی طرف کھولتے ہوئے
تمہیں محاصرے میں آئے ایک دل کی یاد نہیں آئی
ایک گم نام پل پر
تم نے اپنے آپ سے مضبوط لہجے میں کہا
مجھے اکیلے رہنا ہے
محبت کو تم نے
حیرت زدہ کر دینے والی خوش قسمتی نہیں سمجھا
میری قسمت جہاز رانی کے کارخانے میں نہیں بنی
پھر بھی میں نے سمندر کے فاصلے طے کیے
پراسرار طور پر خود کو زندہ رکھا
اور بے رحمی سے شاعری کی
میرے پاس ایک محبت کرنے والے کی
تمام خامیاں
اور آخری دلیل ہے
Image: Henn Kim

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

A Freeman’s Utopia

It’s a protest; a revolt, it’s nihilism too,
My motherland has no borders, no demarcation, no boundaries,
I didn’t open my eyes to one flag,
To one chunk of land,
To one passport,
To a distinguished nationality,
I opened my eyes to this planet, our mother Earth

بلڈ پریشر

رضی حیدر: "بام فردوس سے کودیں گے حشیشین ابھی !
منہ میں دابے ہوئے طوماروں پہ پیغامِ خدا!
برہنہ حرف معانی کے لبادے اوڑے
اک گرانڈیل سے سائے کی طرح رقصاں ہیں
آتشِ خرد کے، الحاد کے گرد
اک پریزاد کے گرد ۔۔۔"

مہمان پرندوں کو الوداع

نصیر احمد ناصر:اگلے برس
جب تم اڑانوں کے صحیفے لے کے آؤ گے
تو جھیلوں کے کنارے
ہم تمہارے منتطر ہوں گے