آدم کتبہ لکھتا ہے

آدم کتبہ لکھتا ہے
آدم کتبہ لکھتا ہے
آدم کتبہ لکھتا ہے
جیون بھر اپنے کرموں سے
اپنی قبر کا کتبہ لکھتا رہتا ہے
یہ خطاطی
جو خطِ تقدیر میں لکھی جاتی ہے
انمٹ ہوتی ہے
یہ خطِ تقدیر بنا سیکھے ہی شاید آ جاتا ہے
سب اپنی قبروں کے کتبے خود لکھتے ہیں
بعض اوقات بڑی دلچسپ کہانی پیدا ہو جاتی ہے
اپنا کتبہ
اور کسی کی قبر کا کتبہ بن جاتا ہے
اور جیون کی قبر
بنا اپنے کتبے کے
نا معلوم ہی رہ جاتی ہے
لا وارث قبروں پر کون دعا پڑھتا ہے!
جیون کی اس قبر پہ اپنا کتبہ لکھ کر جانا
اپنی قبر پہ کتبہ اپنا ہی جچتا ہے!


Related Articles

گونگے لفظ چبانے والو

سلمان حیدر: پستولوں کو طمنچہ کہہ دینے سے
بولی کو گولی نہیں لگتی
اور آئین کے تختہ سیاہ پر لکھ دینے سے
کوئی زباں نافذ نہیں ہوتی۔۔۔۔۔۔۔۔

ڈبلیو ایچ آڈن کی ایک نظم

نیچے اترتا خالی صحن میں
عین اُسی کے مسخ نین و نقوش کا اک سایہ
جو رویا، پھر دیو ہیکل ہوا، اور بھرّائی آواز میں گویا ہوا، ہائے وائے

دیکھ سکتے ہو تو دیکھو!

نصیر احمد ناصر: خفیہ خزانے کے پرانے آہنی صندوقچوں میں
سرخ سِکوں کی جگہ ڈالر بھرے ہیں