آزاد کشمیر کتنا آزاد ہے؟

آزاد کشمیر کتنا آزاد ہے؟

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے حوالے سے یہ دعویٰ عام ہے کہ یہاں ہندوستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے مقابلے میں زیادہ سیاسی آزادی موجود ہے۔ اس ضمن میں حال ہی میں جرمن نشریاتی ادارے ڈوئچے ولا نے عارف جمال سے ایک انٹرویو کیا ہے جسے یہاں ترجمہ کر کے شائع کیا جا رہا ہے۔ عارف جمال پاکستان اور اسلام پسندی کے ماہر ہیں۔ آپ نے امریکہ میں مقیم ہیں۔ عارف جمال "Call For Transnational Jihad: Lashkar-e-Taiba, 1985-2014." سمیت کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔

پاکستانی حکام ہندوستانی مقبوضہ کشمیر کے مقابلے میں پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر میں موجود نسبتاً زیادہ سیاسی آزادی کا اکثر ڈھنڈورا پیٹتے ہیں۔ ہندوستان کے زیرِانتظام کشمیر گزشتہ چند ہفتوں سے تشدد کی لپیٹ میں ہے۔ ہندوستانی حکام ریاست میں علیحدگی پسندوں کے خلاف سخت کارروائی کا عزم کیے ہوئے ہے۔ برہان وانی کی ہلاکت سے اب تک وادی میں 45 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ برہان وانی کا تعلق 1990 سے برسرپیکار سب سے بڑے باغی گروہ حزب المجاہدین سے تھا۔

ہندوستان پاکستان پر اپنے زیرانتظام کشمیر میں باغیوں کو تربیت دینے اور انہیں لائن آف کنٹرول کی دوسری جانب ہندوستانی کشمیر میں بھیجنے کے الزامات عائد کرتا آیا ہے۔
ہندوستان پاکستان پر اپنے زیرانتظام کشمیر میں باغیوں کو تربیت دینے اور انہیں لائن آف کنٹرول کی دوسری جانب ہندوستانی کشمیر میں بھیجنے کے الزامات عائد کرتا آیا ہے۔ پاکستان کی جانب سے ہمیشہ ان الزامات سے انکار کیا گیا ہے۔ 1947 میں آزادی کے بعد سے اب تک دونوں ہمسایہ جوہری طاقتوں کے مابین ہونے والی تین میں سے دو جنگیں کشمیر پر ہوئیں۔ دونوں ممالک ہی کشمیر کے کچھ حصے پر قابض ہیں اور دونوں ممالک پورے کشمیر پر اپنا حق جتاتے ہیں۔

ہندوستانی کشمیر کی ابتر صورت حال، پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کی انتخابی مہم کا اہم موضوع رہی۔ پیپلز پارٹی کے بلاول بھٹو اور تحریک انصاف کے عمران خان سمیت کئی ممتاز پاکستانی سیاستدانوں نے ووٹ حاصل کرنے کے لیے انتخابی جلسوں سے خطاب کیا۔ ان رہنماوں نے اپنی تقاریر کے دوران تنازع کشمیر پر ہندوستانی حکومت کے طرزعمل اور ہندوستانی مقبوضہ کشمیر میں سیاسی آزادی کے فقدان پر شدید تنقید کی۔ پاکستانی جہادی تنظیم لشکر طیبہ کے بانی حافظ سعید نے ہندوستانی مقبوضہ کشمیر میں جاری مسلح باغیوں کی حمایت کا بھی اعلان کیا۔

امریکہ میں مقیم پاکستان اور اسلام پسندی کے ماہر عارف جمال کا ڈی ڈبلیو کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہنا تھا کہ نئی دلی پر کمشیریوں کو سیاسی آزادی نہ دینے پر پاکستانی سیاستدانوں اور اسلام آباد کی تنقید غیر منصفانہ ہے، کیوں کہ پاکستان اپنے زیرانتظام کشمیر کا نظم و نسق بھی اسی جابرانہ انداز میں چلا رہا ہے۔ جمال کا کہنا تھا کہ پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی بھی یونہی مذمت کی جانی چاہیئے۔

ڈی ڈبلیو: پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر میں انتخابات اور انتخابی عمل کس قدر آزاد اور منصفانہ ہے؟

اگرچہ پاکستان دعویٰ کرتا ہے کہ اس کے زیرِانتظام کشمیر میں ایک "آزاد" حکومت موجود ہے، لیکن درحقیقت یہ ایک ایسا علاقہ ہے جس پر پاکستانی فوج قابض ہے۔
عارف جمال: اگرچہ پاکستان دعویٰ کرتا ہے کہ اس کے زیرِانتظام کشمیر میں ایک "آزاد" حکومت موجود ہے، لیکن درحقیقت یہ ایک ایسا علاقہ ہے جس پر پاکستانی فوج قابض ہے۔ پاکستانی مقبوضہ کشمیر کی حکومت اسلام آباد حکومت کی ہدایات کے مطابق چلائی جاتی ہے اور قانون ساز اسمبلی وہی قوانین بناتی ہے جو پاکستانی حکام کے لیے قابل قبول ہوں۔

"آزاد کشمیر" کے انتخابی کمیشن میں بھی وہی اہلکار تعینات کیے جاتے ہیں جو پاکستانی حکام کے لیے قابل قبول ہوں۔ کسی بھی ایسے سیاسی گروہ کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی جاتی جو پاکستانی کشمیر کی آزادی کا مطالبہ کرے۔

اگرچہ پاکستانی قوانین کا اطلاق کشمیر کی سرزمین پر نہیں ہو تا لیکن پھر بھی اسلام آباد کی حکومت کشمیر کے معاملات میں مسلسل دخل اندازی کرتی رہتی ہے ۔ 1947 میں آزادی کے بعد ابتداء میں پاکستانی سیاسی جماعتوں پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں سیاسی سرگرمیوں کی بھی اجازت نہیں تھی۔ یہ صورتحال 1970 کی دہائی میں تبدیل ہوئی جب قومی دھارے کی سیاسی جماعتوں کو کشمیر کی سیاست اور انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دی گئی۔ نتیجتاً آج کشمیر کی چار بڑی سیاسی جماعتوں میں سے تین پاکستان کی قومی سیاسی جماعتوں کی ہی شاخیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انتخابی مہم کے دوران ہر جماعت یہ ثابت کرنے کی کوشش کر تی ہے کہ وہ پاکستانی فوج اور سول انتظامیہ کی، دوسری جماعتوں سے بڑھ کر وفادار ہے۔

ڈی ڈبلیو: کیا پاکستان کی جانب سے ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں سیاسی آزادی کے فقدان پر تنقید درست ہے، جبکہ آپ کے کہے کہ مطابق خود اس کے زیرانتظام کشمیر میں ایک جعلی سیاسی نظام موجود ہے؟

ہندوستان یہ کہنے میں حق بجانب ہے کہ کشمیری علیحدگی پسندوں کو پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی مدد حاصل ہے۔
عارف جمال: میرا خیال ہے کہ ہندوستانی کشمیر میں بسنے والے لوگوں کو اتنی ہی سیاسی آزادی حاصل ہے جتنی بقیہ ہندوستان کے لوگوں کو میسر ہے۔ کشمیر ہندوستانی یونین کا آئینی حصہ ہے، اور اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کشمیریوں کو آئینی حقوق حاصل ہیں۔ بہت سے کشمیری کہیں گے کہ انہیں ہندوستانی آئین کی شق نمبر 370 کے تحت غیر کشمیریوں سے زیادہ حقوق حاصل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دائیں بازو کی قوم پرست جماعتیں اس آزادی کے خلاف ہیں اور آئین کی اس شق کا خاتمہ چاہتی ہیں۔

ڈی ڈبلیو: ہندوستان یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس کے زیرِانتظام کشمیر میں سرگرم علیحدگی پسند گروہوں کو پاکستان کی حمایت حاصل ہے۔ آپ ہندوستان کے اس دعوے کو کتنا درست سمجھتے ہیں؟

عارف جمال: ہندوستان یہ کہنے میں حق بجانب ہے کہ کشمیری علیحدگی پسندوں کو پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی مدد حاصل ہے۔ زیادہ تر کشمیری جہادی تنظیموں کے تربیتی کیمپ پاکستان علاقوں یا پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں واقع ہیں۔ کشمیر کا سب سے بڑا جہادی گروہ حزب المجاہدین، پاکستان کی جماعت اسلامی کا مسلح دھڑا ہے۔ اس تنظیم میں پاکستانی اور کشمیری مجاہدین دونوں شامل ہیں اور یہ تنظیم پورے پاکستان میں یوسف شاہ جو پیر سید صلاح الدین کے نام سے جانے جاتے ہیں کی سربراہی میں سرگرمِ عمل ہے۔ دیگر اسلامی گروہ جیسے جماعت الدعوۃ/لشکر طیبہ بھی پاکستان اور کشمیر دونوں جگہ پر فعال ہے۔

1990 کے اوائل میں، پاکستانی فوجی جرنیلوں نے جہاد کشمیر کو حریت کانفرنس کی صورت میں ایک سیاسی چہرہ دیا۔ اس تنظیم کے دفاتر پاکستانی شہر راولپنڈی میں ہیں، حالاں کہ اس کی چوٹی کی تمام قیادت ہندوستانی کشمیر میں ہے۔

جموں و کشمیر پر مشتمل ایک آزاد ریاست کا تصور پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر کی انتظامیہ کے لیے ناقابل قبول ہے۔
ڈی ڈبلیو: بعض تجزیہ کاروںکا کہنا ہے کہ دونوں طرف کے کشمیری ہندوستان اور پاکستان دونوں سے آزادی چاہتے ہیں۔ پھر کیا وجہ ہے کہ ہمیں پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر ایسی کوئی تحریک نظر نہیں آتی جیسے ہندوستانی مقبوضہ کشمیر میں نظر آتی ہے؟

عارف جمال: یہ دعویٰ درست نہیں (کہ پاکستان میں ایسی کوئی تحریک نہیں)، بظاہر ہمیں لگتا ہے کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں آزاد ریاست کے قیام کی حمایت بڑے پیمانے پر موجود نہیں۔ جموں و کشمیر کی سابقہ شاہی ریاست کے علاقوں پر مشتمل آزاد ریاست کے قیام کی خواہاں جماعت جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کی بنیاد 1960 کی دہائی کے وسط میں رکھی گئی تھی لیکن پاکستانی افواج نے اسے طاقت کے زور پر بری طرح کچل دیا۔ تاہم 1980 کی دہائی میں اسلام آباد حکومت نے (ہندوستانی کشمیر میں) ایک علیحدگی پسند تحریک شروع کرانے کے لیے کچھ عرصہ جے کے ایل ایف کی حمایت اور سرپرستی کی، تاہم 1990 کی دہائی میں یہ حمایت بھی واپس لے لی گئی۔

جموں و کشمیر پر مشتمل ایک آزاد ریاست کا تصور پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر کی انتظامیہ کے لیے ناقابل قبول ہے۔ انتخابات کے دوران ایک آزاد کشمیر کے حصول کے لیے جلسے جلوس نکالنے پر پابندی ہے۔ تاہم پاکستانی کشمیری اس سیاسی صورت حال اور اسلام آباد حکومت کے سلوک سے نالاں ہیں۔ اگر آزادی کی حامی جے کے ایل ایف جیسی جماعتوں کو زیادہ سیاسی آزادی میسر ہو تو پاکستان سے آزادی کے مطالبے میں شدت آ سکتی ہے۔

ڈی ڈبلیو: کیا استصواب رائے کے ذریعے کشمیر کا تنازع حل کیا جا سکتا ہے؟

میرا نہیں خیال کے استصواب رائے یا ریفرنڈم کے ذریعے کشمیر کا تنازع حل کیا جا سکتا ہے کیوں کہ اسلام آباد حکومت کشمیر کا مسئلہ حل کرنے کی خواہاں نہیں۔ پاکستان کی طاقتور فوج دفاع کے لیے خطیر رقم کا جواز رکھنے کے لیے اس تنازعے کو زندہ رکھنا چاہتی ہے۔ یہ مسئلہ تبھی حل ہو سکے گا جب اسلام آباد میں ایک جمہور حکومت فوج کی مداخلت کے بغیر فیصلے کرنے کے قابل ہوگی۔

Related Articles

گلگت بلتستان؛ زمینوں پر سرکاری قبضہ، ناجائز ٹیکس اور معاہدے ختم کیے جائیں

پاکستانی پارلیمنٹ کی جانب سے نافذ کردہ تمام غیر آئینی ٹیکسوں بشمول جنرل سیلز ٹیکس، کسٹم ڈیوٹی اور انکم ٹیکس کی وصولی گلگت بلتستان میں ایک آئین ساز اسمبلی کے قیام تک بند کر دی جائے۔

نتیجہ وہی مگرشور نہیں

19 نومبرکو بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے پر نتیجہ پھر وہی۔ اِس مرحلے پرخاں صاحب کو اپنے آبائی حلقے عیسیٰ خیل میں بھی بدترین شکست کاسامنا کرنا پڑا اور تحریکِ انصاف 16 میں سے 15 نشستیں ہار گئی۔

قلات کے الحاق کا تنازعہ

قلات اور پاکستان کے مابین بات چیت ابھی جاری تھی جب خاران اور لسبیلہ کے مقامی سرداروں نے حکومت پاکستان سے اپنی جداگانہ حیثیت تسلیم کرانے کی کوشش کر دی۔