آنسوؤں کی سیڑھی

آنسوؤں کی سیڑھی

میں نے
آنسوؤں سے
ایک سیڑھی بنائی ہے
یہ آنسو
ایک حادثے میں
زخمی ہو گئے تھے
زور سے مت بولو
آواز کے ارتعاش سے
آنسوؤں میں درد اٹھتا ہے
میں احتیاط سے
ان کو جوڑ کے
زینے بناتا ہوں
یہاں سے ہر چیز
نمی سے بنی ہوئی لگتی ہے
محبت
خواب
خوشی
اور آدمی بھی
آنسوؤں سے بنے ہوئے لگتے ہیں
یہ سیڑھی
بلند ہوتی جارہی ہے
ایک دن
آنسوؤں کی سیڑھی کے ذریعے
میں خدا تک پہنچ جاؤں گا
جس نے اپنی طرح
ہر چیز
آنسوؤں سے بنائی ہے

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Mustafa Arbab

Mustafa Arbab

Mustafa Arbab was born in a village of District Sanghar,Sindh in 1967.He obtained a masters Degree in urdu from Sindh University.He lives in Mirpur khas.He began his literary career as a short story writer in 1984. A collection of his poems,"Khawab aur Aadmi"was published in 1999.Writing both in Sindhi and Urdu, he is also acknowledged as a translator of Sindhi literature. His work are published in well-established literary journals of the Indo-Pak subcontinent.


Related Articles

نظم مجھے ہر جگہ ڈھونڈ لیتی ہے

نصیر احمد ناصر: میں اُسے نہیں لکھتا
وہ مجھے لکھتی رہتی ہے
اَن کہے، اَن سنے لفظوں میں
اور پڑھ لیتی ہے مجھے
دنیا کی کسی بھی زبان میں

بھوک کی کئی قسمیں ہیں

قاسم یعقوب: میں آج بہت بھوکا ہوں
میرے دل، ذہن اور جسم کے سارے خالی رستوں پر
بے سمت چلنے والے قافلوں کی دھول اڑ رہی ہے

کابوس

رضی حیدر: مری آنکھ یک دم کھلی دیکھتا ہوں،
کھلی کھڑکیوں سے ، سریع گاڑیاں چیختی تھیں-
کہ گھڑیوں کی ٹک ٹک کی آواز اتنی بلند سے بلند تر ہوئی جا رہی تھی