!!!آپ کو کہیں دیکھا ہے

!!!آپ کو کہیں دیکھا ہے
میں بہت پریشان ہوں۔ کیاآپ کے ساتھ کبھی ایسا ہواکہ آپ کسی دکان پر زندگی میں پہلی بار جائیں اور دکاندار نے آپ سے ادھار واپس کرنے کا مطالبہ کر دیا ہو؟ آپ نے ہمیشہ محتاط رہ کر زندگی گزاری ہواور ایک دن آپ کے کردار پر انگلی اٹھا دی جائے۔آپ کواس غلطی کی سزا ملی ہو جو آپ نے کی ہی نہ ہو۔اپنی شادی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ آپ خود ہوں؟ آپ کے ساتھ ایسا یقیناً نہیں ہوا ہو گا۔لیکن میرے ساتھ ایسا ہو رہا ہے۔ مجھے لگتا ہے مجھ جیسے میرے کئی ہم شکل لوگ میرے ہی عہد اور اسی ملک میں میرے اردگرد موجود ہیں اور وہ میرے ہم شکل ہونے کا نہ صرف فائدہ رہے ہیں بلکہ میری ساکھ کو بھی بری طرح نقصان پہنچا رہے ہیں۔غلطی وہ کرتے ہیں اور بھگتنا مجھے پڑ تاہے۔
مجھے لگتا ہے مجھ جیسے میرے کئی ہم شکل لوگ میرے ہی عہداوراسی ملک میں میرےاردگرد موجود ہیں اور وہ میرے ہم شکل ہونے کا نہ صرف فائدہ رہے ہیں بلکہ میری ساکھ کو بھی بری طرح نقصان پہنچا رہے ہیں۔
گئے دنوں کی بات ہے۔ نہ جانے کتنواں گھر چھوڑ کر ہم کتنویں گھر میں نئے نئے منتقل ہوئے تھے۔ میں گھر کاسودا سلف لینے محلے کی دکان تک گیا تو دکاندار نے دیکھتے ہی شکوہ شروع کر دیا۔ کہنے لگا "بیٹا! یہ اچھی بات نہیں ادھار واپس نہیں کرنا تھا تو نہ کرتے لیکن دکان پر آنا تو نہ چھوڑتے"۔ میں ہکا بکا رہ گیا۔ چاچا دکاندار پھر کچھ کہنے لگا، اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتا میں اپنی صفائی میں بولا " کیا کہتے ہیں آپ؟ میں تو زندگی میں پہلی بار اس دکان پر آیا ہوں اور اس محلے میں آئے مجھے بمشکل تین روز بھی نہیں ہوئے۔" میں شائد کچھ اور صفائی دیتا لیکن چاچا دکاندار فٹ بول پڑا کہنے لگا " نہ بیٹانہ ! تو بے شک ادھار واپس نہ کر پراتنا بڑا جھوٹ تو مت بول۔ میں بوڑھا ضرور ہو گیا ہوں مگر اتنا بھی بوڑھا نہیں ہوا"۔ اسی اثناء میں چاچے کا بیٹاداخل ہوا تو چاچا دکاندار نے جھٹ اس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا "بیٹا! دیکھنا ذرا یہ وہی لڑکا ہے نا جو ادھار لے کر بھاگ گیا تھا۔ آج پکڑا گیا ہے تو مان نہیں رہا "۔اس کے بیٹے نے مجھے دیکھا،تھوڑا توقف کیا، میرے قریب آیا اور بولا"نہیں ابا جان! لگتا تو وہی ہے مگر وہ نہیں ہے"۔ یہ سن کر میں نے سکھ کا سانس لیا۔ چاچا دکاندار کچھ دیر کے لیے تذبذب میں پڑ گیا پھر ہمت کر کے بولا"معاف کرنا بیٹا! میں کیا کروں تمہاری شکل ہی اس کمبخت سے بڑی ملتی جلتی ہے"۔ میں کیا کہتا، میں نے تو شکر ادا کیا کہ جان چھوٹی۔ جو لینا تھا خریدا اور گھر کو بھاگا۔ زندگی میں پہلی بار کسی سے شکل ملنے کے جرم میں مجھے خفت کا سامناکرنا پڑا تھا۔
ایک دن میرے استاد نے مجھے اپنے پاس بلایا اور غصے سے کہا"نالائق میں نے تجھے لیبارٹری سے بیگ لانے کے لیے بھیجا تھا اور تو ادھر ادھر مٹر گشت کرتا پھر رہا ہے، چل کان پکڑ لے" ۔ میں آئیں بائیں شائیں کرتااگران کے ہاتھ میں پلاسٹک ٹیپ میں لپٹا' مولا بخش' موجود نہ ہوتا۔ مار کے ڈر نے مجھے صفائی پیش کرنے کے قابل بھی نہ چھوڑا۔استاد کی چنگیزی مار کے قصے زبان زد عام تھے۔ فوراً بازو ٹانگوں کے نیچے سے گزار کے کان پکڑ لیے۔ ابھی' ککڑ' بنے کچھ دیر ہی گزری تھی کہ ایک لڑکے نے بیگ لا کر استاد صاحب کے حوالے کیا۔ استاد صاحب نے توقف کیا، قدرے ہڑبڑاتے اور شرمندگی سے مجھے سیدھا کھڑے ہو جانے کاحکم دیا اور بولے"نالائق میرا کیا قصورکم بخت تیری صورت ہی اس کلموُہے سے اس قدر ملتی ہے کہ میں تجھے 'وہی' سمجھ بیٹھا۔" میں جلدی سے سیدھا اٹھ کھڑا ہوا۔ سزا سے بچ جانے سے زیادہ مجھے اپنے ہم شکل کو رنگے ہاتھوں پکڑ لینے کی خوشی تھی۔ مگرمجھے مایوسی ہوئی کیونکہ ہماری شکل آپس میں اتنی ہی ملتی تھی جتنی کہ نہیں ملتی تھی۔جس طرح انسانوں کے لیے ریوڑ کی ساری بھیڑیں ایک جیسی ہوتی ہیں ایسے ہی شائد لوگوں کے لیے میں بھی تھا۔
بھائی اسی شہر میں رہتا ہوں کہیں کسی سڑک پر پیدل چلتے، سستا بازار کی کسی قطار میں آٹالیتے، بل جمع کراتے بنک کی کسی قطار میں، سڑک پر کسی غریب کی بند گاڑی کو دھکا لگاتے، کسی میلے ٹھیلے میں موت کا کنواں دیکھتے۔۔۔ ایسے ہی کہیں دیکھ ویکھ لیا ہوگااس میں عجیب بات کیا ہے ۔
کالج کے زمانے میں جماعت میں بیٹھا تھا کہ پرنسپل صاحب دو لڑکیوں کے ساتھ داخل ہوئے۔ پرنسپل صاحب نے لڑکیوں سے کچھ کہا جو میں سننے سے قاصر تھا۔ لڑکیوں نے ساری جماعت پر ایک" طائرانہ" نظر دوڑائی اور جیسے ہی مجھ غریب پر نظر پڑی وہیں جم گئی۔ تھوڑے توقف اور باہمی صلاح مشورے کے بعد بولیں "سر یہ لڑکا ہے"۔ ساری جماعت میری طرف دیکھنے لگی، کسی کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا۔ پرنسپل صاحب مجھے بڑی اچھی طرح جانتے تھےاور میری شرافت کی گواہی تو لڑکیاں بھی دیتی تھیں کیوں کہ میں سب کو باجی کہہ کر جو بلاتا تھا۔بہر حال پرنسپل صاحب نے لڑکیوں سے پریشان ہو کر کہا "بیٹا آپ ایک بار پھر غور سے اور سوچ کر فیصلہ کریں کہ یہ وہی لڑکا ہے کہیں آپ کو غلط فہمی نہ ہوئی ہو"۔ لڑکیاں یک زبان ہو کر گویا ہوئیں "سر پکا نہیں لیکن لڑکا یہی لگتا ہے۔" اتنے میں میری جماعت میں سے ایک لڑکی جو مجھ سے بہت زیادہ 'برادرانہ' عقیدت رکھتی تھی واقعہ کو سمجھتے ہوئے بولی"سر بات کیا ہے کچھ ہمیں بھی تو معلوم ہو۔" تو پرنسپل صاحب بولے " بیٹابات کچھ یوں ہے کہ یہ فلاں کالج کی بچیاں ہیں اور مجھے ملنے کل کالج آئی تھیں۔ان کا کہنا ہے کہ مجھے ملنے کے بعد واپس جاتے ہوئے راستے میں کالج کے لڑکے نے انہیں چھیڑا تھا۔پہلے تو میں نے کہا کہ میرے کالج کے لڑکے ایسا کبھی نہیں کر سکتے لیکن ان کی تسلی کے لیے میں نے انہیں کہا کہ کیا اگر وہ لڑکا سامنے آ جائے تواسے پہچان لو گی ۔ بس لڑکے کی تلاش میں جماعت میں لایا تھا انہیں ۔" پرنسپل صاحب جماعت کو بتا کر لڑکیوں سے پھر مخاطب ہوئے ۔کہنے لگے "بیٹا! آپ اپنی جگہ درست ہیں لیکن یہ لڑکا جسے آپ نے نامزد کیا ہے اس کی تو میں خود بھی ضمانت دینے کے لیے تیار ہوں کہ یہ ایسا کبھی نہیں کر سکتا تمہیں غلط فہمی ہوئی ہے"۔ یہ کہہ کر پرنسپل صاحب دونوں لڑکیوں کے ساتھ جماعت سے باہر نکل گئے۔جماعت میں کیا بھگدڑ مچی ،کیا واویلے ہوئے ،یہ ایک الگ قصہ ہے ۔ بریک میں میں کنٹین پر گیا تو وہ دونوں لڑکیاں میرے پاس آ گئیں اور کہنے لگیں "ہم آپ سے معافی چاہتی ہیں۔ ہو سکتا ہے ہمیں پہچاننے میں غلطی ہوئی ہواور کسی کی شکل آپ سے ملتی ہو۔ویسے ہمیں تو اب بھی آپ ہی وہ لڑکالگتے ہیں"۔ میرا دل چاہا گلا دبا دوں، لڑکیوں کا نہیں اس کا جس واہیات کی شکل مجھ سے ملتی تھی۔ کمبخت!! کرے کوئی بھرے کوئی۔
یہ تو وہ اقعات ہیں جن میں مجھ 'نالائق'پر' تعزیرات ہیر پھیر' کے تحت مقدمات درج ہو سکتے تھے۔ لیکن کچھ ایسے وقت بھی مجھ پر گزرے جن میں مجھے یہ سننے کو ملا کہ "حضور!! آپ کو کہیں دیکھا ہے"۔ اس پر تلملانے کے باوجود میں اس کے سواکچھ نہ کہہ پاتاکہ "بھائی اسی شہر میں رہتا ہوں کہیں کسی سڑک پر پیدل چلتے ،سستا بازار کی کسی قطار میں آٹالیتے، بل جمع کراتے بنک کی کسی قطار میں، سڑک پر کسی غریب کی بند گاڑی کو دھکا لگاتے،کسی میلے ٹھیلے میں موت کا کنواں دیکھتے۔۔۔ ایسے ہی کہیں دیکھ ویکھ لیا ہو گا اس میں عجیب بات کیا ہے ۔" جواب ملتا "نہیں نہیں جناب!!! یاد آیا۔آپ کی شکل تو میرے پتو کی والے پھوپھا کے بڑے لڑکے سے ملتی ہے" اب دل تو چاہا کہ ایک چکر پتو کی کالگا کر اوراس ناہنجار اپنے ہم شکل سے دو ہاتھ کرآؤں کہ صاحب زادے یا تو اپنی صورت میں تھوڑی ردوبدل کراؤ یا اپنے اس رشتہ دار کوروکو کہ تمہاری شکل دوسروں میں نہ ڈھونڈتا پھرے۔
پہلے تو میں اس سلسلے کو چپ چاپ شرافت سے برداشت کرتا رہا کہ اس کے سوا چارہ بھی تو کوئی نہیں۔ مگراب بہت ہو گیا۔ کیونکہ ان دنوں میرے گھر والے مجھے رشتہ ازدواج میں منسلک کرنے کے ہنگامی انتظامات میں مشغول ہیں۔ایک بڑا اچھا رشتہ دیکھ رکھا ہے۔ لڑکی کی ماں اور میری ماں دل و جان سے رشتے پر راضی ہیں۔ مجھے بھی کوئی اعتراض نہیں ۔ بس ایک مسئلہ ہے ۔ لڑکی کے والدصاحب راضی نہیں ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ لڑکا نامعقول ہے اور اس کا اخلاق و کردار مشکوک ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ایک با ر کسی پارکنگ میں 'اس' لڑکے نے میرے ساتھ بدتمیزی کی تھی اور نہ صرف میری گاڑی پر چابی سے خراشیں ڈالی تھیں بلکہ میرا منہ چڑاتے ہوئے فرار ہو گیا تھا۔ اب مجھ غریب نے لاکھ صفائیاں دیں کہ میں تو زندگی میں کبھی ان سے ملا تک نہیں ۔بلکہ میں تو خود پریشان ہوں کہ کچھ لوگ میرے ہم شکل ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مجھے بدنام کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ لیکن وہ اسے بھی میری ڈرامہ بازی سمجھتے ہیں۔ اب آپ تو میرے تمام حالات سے واقف ہیں ۔ میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ یا توآپ آ کر لڑکی کے والد صاحب کو حقائق سے آگاہ کردیں یا پھر میرے کسی ہم شکل کو پکڑ کر ان کے سامنے پیش کرنے میں میری مدد کریں۔

Related Articles

معاشرتی عدم استحکام اورذرائع ابلاغ

۔ آج یہ صورتحال ہے کہ حقیقی دنیا میں افراد کے احساسات اور جذبات سے واقفیت حاصل کئے بغیر ہی موبائل اور انٹرنیٹ پر وائرلیس اورآن لائن محبت کی جاتی ہےاوراگربات نہیں بن پاتی توکسی فلمی سین کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے محبت کے یہ جیالے حقیقت میں بدلہ لینے نکل جاتے ہیں ۔

Living With It!

"On World AIDS day the global community acknowledges HIV/AIDS as a larger issue for all humanity and not just for

پاکستان میں الحاد کے فروغ کی وجوہ

علی رضا: میرا ذاتی خیال یہ تھا کہ یہ لوگ شاید کسی فلسفیانہ پس منظر سے تعلق رکھتے ہوں گے یا ایلیٹ کلاس سے جن کا مذہب سے ےتعلق بہت ہی ثانوی سا ہوتا ہے۔ لیکن میری توقعات کے برعکس اکثر ملحدین بہت ہی مذہبی گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔