آ ہم جسموں کا روزہ افطار کریں

آ ہم جسموں کا روزہ افطار کریں
آ ہم
جسموں کاروزہ افطار کریں

اور جب شہر کی گلیوں میں
رات کی زخمی لاش آگرتی ہے
سورج اپنی سرخی سے
کچھ قبروں کے کتبے لکھ جاتا ہے
دن کی بوسیدہ الماری سے
ٹڈیوں کے غول برآمد ہوتے ہیں
اور جگہ جگہ سے
اُجلی صبح کے خواب کتر جاتے ہیں

اِس موہوم سی حسرت پر
کہ ہم اندھی تقدیروں کے غار سے نکلیں
کوئی ہمیں جیون کی
دلدل میں کھینچتارہتا ہے
کوئی ہماری شریانوں میں
خوف کی بھاری زنجیریں چھنکاتا ہے
دنیا اِس جھنکار میں جکڑی جاتی ہے

جب محرومی کی ریت بدن میں اُڑتی ہے
ایسے میں بس ایک سہولت ہے
اپنے تالُوکی خشکی میں
میں تیرے لمس کی شیرینی چکھ لیتا ہوں
مجھ کو تیری طلب کا روزہ لگنے لگتا ہے

اس سے پہلے کہ یہ روزہ
موت کے برہم ہاتھ میں ٹوٹے
آہم اِس کو
اپنے جسم کے میٹھے پھل سے اِفطار کریں
رات کی زخمی لاش
!شہر پر گرنے سے پہلے
Zahid Imroz

Zahid Imroz

Zahid Imroz is a poet, writer and physicist. He has published two books of poems. He teaches physics and also works on global peace and security.


Related Articles

غیر حاضر مالک مکان

چارلس سیمیِچ: یقینآ آسان کر سکتا ہے وہ
مسئلہ جب یہ ہو
کہ ہمیں اس کا اتا پتا معلوم ہو
لگام دے سکتا ہے ہمارے تخریبی شکوک کو
ٹھنڈا کرسکتا ہے ہمارے بلند بانگ غصے کو

حادثہ (شیراز علی)

مکمل زمانے میں کیا کیا ہوا ہے میں تجھ کو بتاؤں کہ جانے سے تیرے یہ کتنا بڑا حادثہ ہو

بدتمیز

وجیہہ وارثی: میں سوجاتا ہوں خواب آور گولیاں کھا کے
وہ خواب میں بھی نہیں آتی
صبح جب آنکھ کھلتی ہے
وہ سو رہی ہوتی ہے
میرے سینے پر اپنی دونوں ٹانگیں رکھ کے