احساس

احساس
قائم چنگیزی
art-353-changezi-300x0
خدایا،
میں نہیں کافر،
نہ مجھ کو کفر بکنے کا ھے کوئی شوق
!پریشاں ہوں ۔۔۔۔
خدا میرے، تو مجھ سے چاہتا ھے کیا؟
نہ پوچھا مجھ سے اور مجھ کو اسیر ِ زندگی کر دی!

خداوندا،
اگر اک روز تم اُس عرش ِبالا سے اتر آؤ
کسی افلاس کے مارے کا کوئی چیتھڑا اوڑھو
غرور اپنا، اگر روٹی کے اک ٹکڑے کے بدلے میں
کسی جاھل، کسی سفّاک کے قدموں میں رکھ دو تم
مگر پھر بھی، ڈھلے دن جب
تھکے ہارے۔۔۔
نہ کوئی شئے ھو ہاتھوں میں،
نہ کوئی حرف ہو لب پر۔۔۔۔
جو یوں تم گھر کو لوٹو تو ۔۔۔۔
زمین و آسماں کو کُفر بولوگے۔۔۔۔۔
نہ بولوگے؟؟

خداوندا،
اگر تم گرمیوں کی دھوپ میں آوارہء و تشنہ
کسی دیوار کے سایے میں بیٹھو اور
کسی گندے سے برتن کے کنارے رکھ کے ہونٹ اپنے
جو دیکھو سامنے اونچے محل۔۔
مَر مَر کے وہ سب قصر ِ عالیشاں ۔۔۔
زمین و آسماں کو کفر بولوگے۔۔۔۔
نہ بولوگے؟؟

خداوندا،
اگر اک روز تم انساں بنو
انسان سا محسوس کرلو تم
پشیماں ھوگے تم خود اپنی خلقت پر
"یہ آخر کیا کیا میں نے؟"
"یہ آخر کیوں کیا میں نے؟"

خداوندا،
تری دنیا میں انساں ہونا اور رھنا،
بہت دشوار ھے، مولا
بہت ہیں غم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہت غم، اُن کے حصّے میں
جو انساں ھیں اور جو احساس رکھتے ہیں!!


شاعر: کاروؔ
فارسی سے اردو منظوم ترجمہ: قائمؔ چنگیزی



Related Articles

مزارعے

اس بارتمہارے حصے میں آنے والی
گندم کی بوریوں کی بھرپائی بہت مشکل ہے

قبرستان کو پوسٹ کی گئی نیم پلیٹ

سدرہ سحر عمران:ہوا مجھے آواز دیتی رہی
مگر۔۔۔۔ میرے پاؤں نہیں جانتے تھے
کہ
ایک رستہ پچھلی گلی میں بھی نکلتا ہے

آج کے دن

تنویر انجم:فرج کو کھانوں سے بھرو
اور دفتر کی تیاری کرو
آج کے دن نظموں کو چھٹی دے دو