ادبی تھیوری:ایک مغالطہ (پہلا حصہ)

ادبی تھیوری:ایک مغالطہ (پہلا حصہ)

youth-yell-featured

ادبی تھیوری اس لیے بھی ایک لایعنی فعل ہے کہ اس نے ادب کی اپنی شناخت ختم کر کے اسے دیگر سماجی علوم کے تابع کر دیا ہے۔
یہ بظاہر ایک عجیب سی بات ہے کہ اس وقت ادبی تھیوری کی وضاحت اور اس کے دفاع میں جو کچھ لکھا جا رہا ہے اس کی وجہ سے مزید مغالطوں میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔کہیں ساختیات کی وہ اصطلاحات اور ان کےمن چاہے مفاہیم قاری کو سمجھائے جا رہے ہیں جس کی وجہ سے ادبی معاملات انتشار کا شکار ہیں اور کہیں تھیوری کے نام پر ادبی متون کے بارے میں یہ غلط سکیم متعارف کرانے کا رواج عام ہے کہ ادب کی راست تفہیم حاصل کرنے کے لیے قرات کاایک خاص طے شدہ فارمولا سامنے رکھنا بہت ضروری ہے ۔مستزاد یہ کہ اِن تھیوری پسند ماہرین (مجھے انہیں نقاد کہنے اور ماننے میں تامل ہے) کی پیش کردہ تاویلات میں ایسی قطعیت پائی جاتی ہے جو آج کل سائنسی مباحث میں بھی نظر نہیں آتی۔۔اگر کوئی صاحب ان تھیوری پسند ماہرین سے متفق نہ ہو تو یہ اسے بزور شمشیر منوانے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔

ادبی تھیوری اس لیے بھی ایک لایعنی فعل ہے کہ اس نے ادب کی اپنی شناخت ختم کر کے اسے دیگر سماجی علوم کے تابع کر دیا ہے۔ یعنی یہ تھیوری ادب کے ساتھ دنیا کا ہر سماجی اور سائنسی علم زیر بحث لاتی اور بالآخر ادب کو بھول کر دوسرے علوم کے صغرے کبرے ملانا شروع کر دیتی ہے اور قاری حیرت زدہ رہ جاتا ہے کہ اس ادبی تھیوری نے آخر ایسا کون سا چمتکار دکھایا کہ ادب اچانک کسی ماورائی دھند میں گم ہوتا چلا گیا ہے۔ لیکن یہ معاملہ یہیں ختم نہیں ہوتا کیوں کہ مذکورہ تھیوری کے ماہرین اپنی گراں قدر تحریروں میں یہ باور کرانے میں لگے ہیں کہ جدید ادبی تھیوری اور اس کے متعلقات نے روایتی تنقیدی ڈسپلن ختم کر دیا ہے۔۔اس سے زیادہ مزے کی بات یہ ہے کہ پاک و ہند میں ایسے احباب کی اب کوئی کمی نہیں جو تھیوری زدگی کے اس بے فیض اور بے برکت عمل سے کامل بےزاری کا اظہار کر رہے ہیں اور اس نام نہاد نظریاتی ماڈل کی حقیقت جان چکے ہیں۔یہ بے رنگ تنقیدی ماڈل اب کسی میوزیم میں رکھ دینا چاہئے تا کہ مشرق کی دریافت کرنے والوں کو اندازہ ہو سکے کہ کس طرح گلوبلائزیشن کا نعرہ مارنے والے ایک مدت تک اردو دان طبقے کو بیوقوف بناتے رہے ہیں۔

تھیوری پرست گروہ یہ سمجھنے کے لیے تیار نہیں کہ ایک تخلیقی تجربہ اپنی ذات میں کتنا آفاقی اور ہمہ رنگ ہوتا ہے۔
ادبی تھیوری کچھ اس لیے بھی ناقص اور لایعنیت سے بھری ہے کہ اس نے اول تو تخلیقی ادب کو ادب ہی نہیں سمجھا اور اگر بضرورت ادب سمجھ بھی لیا تو محض تخلیقات کے خارجی حصوں سے سروکار رکھا ہے، تخلیق کے باطن میں اتر کر تخلیقی تجربے کی معنویت دریافت کرنا اس تھیوری کو پسند نہیں رہا۔ تھیوری پرست گروہ یہ سمجھنے کے لیے تیار نہیں کہ ایک تخلیقی تجربہ اپنی ذات میں کتنا آفاقی اور ہمہ رنگ ہوتا ہے۔تھیوری پسند ماہرین کے پاس چند مغربی نام اور مٹھی بھر مغربی تصوارت ہیں جن کی بے معنی تکرار سے وہ ایک مخصوص حلقے کو ناجائز طریقے سے متاثر کرنے پر تلے ہوئے ہیں ۔۔۔ادبی تھیوری کے نام پر بہترین ادبی تخلیقات کے ساتھ انفرادی اور اجتماعی سطح پر نامناسب تنقید کی زد میں ہیں۔ افسوس کا مقام یہ بھی ہے کہ اس ژولیدہ موضوع پر لکھے گئے بے رنگ مقالے اور بے رنگ کتابیں آج کل جامعات میں متعارف کروائی جا رہی ہیں اور طلبہ سے یہ توقع رکھی جا رہی ہے کہ وہ ان بے رنگ تحریروں سے ادب کی رنگین تصویریں بنانے کی کوشش کریں گے۔۔۔ ادبی تھیوری درحقیقت رنگ گورا کرنے والی ایک ایسی کریم ہے جو سفید اور خوبصورت چہروں پر زبردستی لگائی جا رہی ہے اور اسے اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ چہرہ مسخ ہو رہا ہے یا نکھر رہا ہے،مقصد یہی ہے کہ بس کریم فروخت ہونی چایئے۔

جیسا کہ پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ ادبی تھیوری اپنی اصل کے اعتبار سے ایک لایعنی فعل ہے کیوں کہ اس میں فن پارے کے فکری اور موضوعاتی پہلووں کو یکسر مسترد یا نظر انداز کر دیا جاتا ہے اور تمام تر توجہ اُن لسانی اصولوں پر مرکوز کر دی جاتی ہے جو فن پارے کی بنت میں کسی نہ کسی حوالے سے فعال ہوتے ہیں۔گویا متن کی تشکیل و تعمیر میں فکر کا عنصر محض ایک اضافی شئے ہے اور اصل چیز وہ لسانی ضابطے ہیں جو متن کو ثروت مند بناتے ہیں۔اگر اس اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم میر، غالب اور اقبال کا مطالعہ کریں تو سوچیں کیا غدر مچے گا!!!!

تخلیقی فن پارہ صرف اپنی لسانی ساخت کی وجہ سے اہم نہیں ہوتا بلکہ اپنے فکری عناصر کی وجہ سے بھی فن پارہ بنتا ہے۔
تخلیقی فن پارہ صرف اپنی لسانی ساخت کی وجہ سے اہم نہیں ہوتا بلکہ اپنے فکری عناصر کی وجہ سے بھی فن پارہ بنتا ہے۔ادبی تھیوری نے فن پارے کے فکری اور معنوی پہلو کو جس احمقانہ شدت سے رد کیا وہ بجائے خود ایک مضحکہ خیز عمل ہے۔۔۔ایک تماشا یہ بھی ہوا کہ ساختیات،ادبی تھیوری، جدیدیت، مابعد جدیدیت اور تانیثیت پر لکھنے والے مقامی میشل فوکو بحیثیت مصنف اپنے ارادی منشا کو نہ صرف تسلیم کرتے ہیں بلکہ اسے زبردستی دوسروں پر مسلط بھی کرتے ہیں لیکن تخلیق کاروں کے ارادی منشا کو کسی صورت ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ ادبی تھیوری نے مغربی ایجنڈے سے کچھ مستعار اصطلاحات حاصل کر کے ادبی جہالت اور ادبی جعل سازی کو خوب فروغ دیا ہے اور اس تھیوری نما پیراسائٹ کو اردو ادب کے حسین و جمیل پیکر پر منڈھ دیا ہے۔ (جاری ہے)

Related Articles

فسطائیت کیا ہے

بنیتو مسولینی (1883-1945)   (مسولینی کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ اٹلی کے فسطائی دور میں ۱۹۲۲ سے ۱۹۴۵تک

جھوٹ کی عادت نہیں مجھے

حکومت اسقدر دیدہ دلیری اور ڈھٹائی سے عوام کے کانوں میں جھوٹ انڈیل رہی ہے کہ اس پر سچ کا گمان ہونے لگتا ہے۔

برطانوی ہندوستان میں عقیدت پر مبنی اسلام اور سیاست

حقیقت یہ ہے کہ اس موضوع پر اس کتاب کے علاوہ کوئی دوسری کتاب اس قدر محققانہ انداز میں اب تک نہیں لکھی جا سکی ہے۔