ادب کسی کا مسئلہ نہیں

ادب کسی کا مسئلہ نہیں

ادھر کچھ دنوں سے میں نے اپنے ہاسٹل کے کمرے سے باہر نکل کے چند ایک نئے دوست بنائے ہیں جن میں مختلف ہندوستانی اور غیر ملکی زبانوں کے ادب کا مطالعہ کرنے والے لڑکے لڑکیاں شامل ہیں ۔ میں ابھی انہیں پوری طرح دوست بھی نہیں کہہ سکتا کہ بس چند دنوں کی ملاقات ہے وہ بھی جوشام کی چائے پر یا رات کے کھانے کے بعد چہل قدمی کے وقت کیمپس میں ہوجاتی ہے۔ خیر وہ دوست ہوں یا نا ہوں اس سے مجھے کچھ خاص دلچسپی بھی نہیں ہے ۔خاص بات یہ ہے کہ جب جب ان لوگوں سے ملتا ہوں تو مختلف زبانوں کے ادبی رویوں پر طرح طرح کی باتیں ہوجاتی ہیں ۔ کوئی بہت منظم گفتگو نہیں بس ہم کہیں سے بھی شروع ہو جاتے ہیں اور ادب ، زبان ، تہذیب اور تاریخ کے مسائل زیر بحث آتے چلے جاتے ہیں ۔ دو چار روز قبل اسی طرح  ایک صاحب انہیں میں سے مل گئے جو کہ اچھی بنگالی زبان جانتے ہیں جغرافیہ کے کسی خاص موضوع پر ایم فل کر رہے ہیں مگر بنگالی ادب سے انہیں خاص لگاو ہے۔ادب تو خوب پڑھتے ہیں مگر ہندوستانی تاریخ سے زیادہ واقف نہیں اس لیے کہانی  اور شاعری پر بات کرتے ہوئے تاریخ کے گلیاروں تک نہیں جانتے ۔ میں بھی ان کی باتیں بہت غور سے سنتا ہوں کیوں کہ مجھے بنگالی زبان نہیں آتی اس لیے انہیں کہ منہ سے بہت سے بنگالی مصنفوں اور شاعروں کے نام معلوم ہوجاتے ہیں اور اسی کے ساتھ وہ باتوں ہی باتوں میں بہت سی ایسی باتیں تجزیاتی نوعیت کی کہہ جاتے ہیں کہ سن کر بہت لطف آتا ہے۔ میرے بارے میں انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ میں اردو زبان و ادب کا طالب علم ہوں اس لیے میری کم سنتے ہیں ۔اردو سے انہیں ذرا بھی دلچسپی نہیں اور کبھی انہوں نے راست طور پر یہ تک مجھ سے نہیں پوچھا کہ یہ غالب کس چڑیا کا نام ہے؟ ان کے بالمقابل ہمارے ایک دوسرے صاحب جو انہیں کے توسط سے مجھ سے ملے ہیں اردو ادب میں ان کی دلچسپی اچھی خاصی ہے۔ مذہباً غیر مسلم ہیں مگر اقبال کی شاعری انہیں بہت پسند آتی ہے۔ میں نے ایک روز ان سے اس راز کے بارے میں جاننا بھی چاہا کہ اقبال کے یہاں تو اسلام اسلام کے علاوہ کچھ اور نہیں دھر ا پھر آپ انہیں کیوں پسند کرتے ہیں کہنے لگے کے میری آنکھوں سے دیکھیے آپ کو اقبال آپ کے اپنے ان پسندیدہ شاعر ناسخ سے کہیں زیادہ اچھے معلوم ہوں گے جن کو آپ خدائے سخن کہتے پھرتے ہیں۔ اب ان کی آنکھوں اور میری آنکھوں میں کیا فرق ہے اللہ جانے مگر مجھے تو ایک عمر کے بعد علامہ اقبال ہمیشہ شاعر کم ،مذہبی رہ نما زیادہ لگے۔ خیر  ادھر کچھ روز میں ہم نے ادب کے کئی بالکل نئے موضوعات کے تعلق سے بہت سی باتیں کی ہیں جن پر مجھے تو ابھی تک کوئی ایسی تحریر بھی اردو میں نظر نہیں آئی جو  قابل ذکر ہو۔ مثلاً ادب میں قلب جنس کا کرتب ،اندھے شعرا کی نامیاتی شاعری، حرف کے تین وجودوں کی نمائش اور کہانی میں کشش ثقل کی حریت اور نہ جانے کتنے موضوعات ہیں جن کو ان احباب کے درمیان زیر بحث لایا جاتا ہے۔ بعض اوقات تو مجھے اپنے ان دوستوں کی نشست میں اردو کے گھسے پٹے موضوعات کی ذمہ داری قبول کر کے ذلت بھی جھیلنا پڑی ہے مگر اب کیا کیا ہے جائےکہ اپنے ان احباب میں اردو کے نام پر میری ہی طرف سب کی نگاہیں اٹھتی ہیں ۔ وہ صاحب جو کہ اقبال کو بہت زیادہ پسند کرتے ہیں وہ بھی اس امر میں کہ اردو کا تحقیقی اور تنقیدی حال برا ہے، میری جانب ہی تذلیل آمیز نگاہوں سے دیکھتے ہیں اور یہ کہہ کر عہد برآ ہو جاتے ہیں کہ میں نے اردو میں سے اقبال کو اٹھا لیا ہے اب باقی سب آپ کا۔ حالاں کہ اس حلقے میں منٹو اور پریم چند کے مداح بھی ہیں مگر ان دونوں کی پذیرائی کا حاصل ان کے ہندی زبان میں موجود افسانے ہیں ۔خیر میں نے اپنے اس چھوٹے سےحلقے کا نام حلقہ ارباب ذوق رکھا ہے  وہ بھی اس ترمیم کے ساتھ کہ اس ترکیب مسلسل کے کسی حرف پر نقطہ نہیں رکھا۔

ایک بہت ہی اہم مسئلہ جس پر ہم نے گذشتہ رات گفتگو کی وہ یہ ہے کہ آخر ادب کس کا مسئلہ ہے ؟ میں اس حوالے سے یہ بتا دوں کہ اس گفتگو میں یہ سوال ہماری تقریبا ایک گھنٹے کی گفتگو کے بعد قائم ہوا جس ایک گھنٹے میں ہم منتشر اور غیر منظم انداز میں اسی سوال پر بات کر رہے تھے ۔ ادب کس کا مسئلہ ہے؟ اس پر بہت سی باتیں ہوئیں بہت سی باتوں سے مجھے اپنی کچھ خیالات کی ترمیم کرنی پڑی اور کچھ کو میں نے بالکل درست جانا۔ یہ سوال حالاں کہ کوئی بہت نیا نہیں ہے کہ آخر ادب کس کا مسئلہ ہے ؟ اس پر کئی بار الگ الگ انداز میں گفتگو ہوئی ہے اور ہوتی رہی ہے مگر اس سوال کی سب سے خاص بات ہی یہ ہے کہ یہ جتنا پرانا ہے اتنا ہی نیا ہے۔ میں اس ذیل میں ادب کی تعریف سے تو بات نہیں شروع کر تا مگر کیا کیا جائے کہ جملہ احباب نے پہلے جم کر اسی پر بحث کی۔ ہم پانچ دوست جن میں ہماری ایک نیم محبوبہ دوست بھی شامل ہیں مسلسل اس بات پر مصر تھے کہ ہر وہ چیز ادب ہی ہے جو سننے، بولنے اور دیکھنے میں آتی ہے۔ مگر ہمارے ایک دوست جو فرانسسی زبان کے طالب علم ہیں ایک قدیم اور منظم رائے پر بڑی مستعدی سے جمے رہے کہ ادب کی  صحیح تعریف صرف یہ ہی ہے کہ اس کو علم اور فن کے ایک خاص شعبے فنون لطیفہ سے باہر نہ جانے دیا جائے۔ ان کا خیال تھا کہ اگر ہم کائنات کی ہر شئے اور ہر معلوم احساس کو ادب کہہ دیں گے تو ادب اور مذہب میں کوئی خاص فرق نہیں رہ جائے گا۔ ان کے بقول ادب کوئی اللہ میاں نہیں ہیں جو ظاہر ، باطن، اول اور آخر ہر جگہ ہوں ۔ ادب ایک محدود زندگی کا محدود شعبہ ہے جس کو آپ صرف کتابوں میں پاتے ہیں ۔ انہوں نے اس بات پر بھی خاصہ زور دیا کہ ادب کا کتاب سے باہر کوئی تصور نہیں سوائے اس کے کہ آپ اس کو ایک آنسو یا ایک مسکراہٹ کہہ لیں جو خاصہ مبہم مقدمہ ہے۔ مگر اس کے برعکس ہم لوگوں کی یہ رائے تھی کہ ادب دنیا نہیں کائنات کے اس آخری چھور تک بسیط ہے جہاں تک انسان اپنے حواس کے ساتھ پہنچا ہے اور ادب اس خیال سے بھی کہیں زیادہ آگے کی چیز ہے جو ابھی ایک لاکھ برس بعد وجود میں آئے گا۔ میں بھی اس بات کا قائل ہوں کہ اگر ادب کا بسط اتنا نہ ہوتا تو کوئی وجہ نہیں تھی کہ ہم نظریات اور خیالات کے اتنے گھنے جنگل میں پھنسے ہوتے۔ میں نے اپنے دوست کو قائل کرنے کے لیے اس بات کا اظہار بھی کیا کہ جس زمانے میں میں بمبئی کےایک چھوٹے سے اردو اسکول میں زیر تعلیم تھا اس وقت میں روز اپنے گھر سے ایک روپیہ یا دو روپیہ لے کر اسکول جایا کرتا تھا ۔ اسکول کا جب آدھا وقت پورا ہو جاتا تھا اور بچوں کو کھانے پینے کی اجازت ملتی تھی اس وقت ان ایک دو روپیوں سے میں کچھ خریدتا تھا اور ایک ناز اور ادا سے اپنے دوستوں کو دکھا کر کھاتا تھا اور جب کبھی میرے پاس پیسے نہیں ہوتے تھے تو وہ مجھے دکھا کر کھاتے تھے اور مجھے بہت افسوس ہوتا تھا۔ آج جب میں اس صورت حال کے بارے میں غور کرتا ہوں تو نہ مجھے فخر محسوس ہوتا ہے نہ افسوس ہوتا ہے بلکہ میرے چہرے پر ایک مسکراہٹ دوڑ جاتی ہے یا کبھی کبھار ماضی کی موت پر آنسو ڈھلک جاتا ہے لہذا آپ اس مسکراہٹ اور اس آنسو کو ادب کہیں گے یا نہیں ؟ وہ میرے اس مقدمے پر جز بز تو ہوئے مگر نہ انہوں نے اس کا کوئی واضح جواب دیا اور نہ ہی میری بات سے متفق ہوئے۔ ان کے نزدیک زندگی کے Expressionادب نہیں ہیں ۔ مگر میرا خیال تھا کہ ادب کو آپ جن لکھے ہوئے یا بنے ہوئے ٹکڑوں میں قید کر رہے ہیں وہ ان میں کبھی قید ہی نہیں ہوا ۔ بہر کیف جب ہم نے ادب کی بیک وقت دو تعریفات پر جم کر بحث کر لی تو ادب کے وجود کے اثبات اور اس کے رد و قبول پر خاصی بات چیت ہوئی۔ اس امر میں بھی ہم تمام احباب ایک دوسرے سے کچھ دور اور کچھ نزدیک ہی کھڑے نظر آئے اور من جملہ ہم سب کا خیال یہ تھا کہ ادب نے کس کو پالا پوسا ہے اس کا ہمیں علم نہیں اور نہ ہی ہمیں اس سے کچھ لینا دینا ہے ۔ ادب کو کون پڑھتا ہے اور کون نہیں یہ بھی سوال بہت اہم نہیں اہم یہ ہے کہ ادب کو محدود کون کرنا چاہتا ہے یا کون سمجھتا ہے کہ ادب صرف اس کا مسئلہ ہے ۔ اردو کی حد تک میں نے اپنے احباب کو اس بات کا احساس دلایا کہ اردو میں اس کا نظام بہت ہی خراب ہے ۔مثلاً میں نے کہا کہ میں یہ جانتا ہوں کہ اردو کا ادب ہمارے یہاں بہت پڑھا جاتا ہے  ، ہمارے یہاں سے مراد ہر اس جگہ جہاں اردو بولی ، سنی اور سمجھی جاتی ہے۔ ساتھ ہی دنیا کی مختلف زبانوں میں بھی اردو کی بہت سی کتابوں کے تراجم ہوئے ہیں اور لوگ ان کو بھی دلچسپی سے پڑھتے ہیں ۔ مگر اردو میں ایک خاص طبقہ اللہ جانے کہاں سے وجود میں آ گیا ہے ،ایسا! جو خود کو ادب کا سب سے بڑا دعوے دار سمجھتا ہے۔ ایسا دعوے دار کہ اس کے بنا اردو میں ادب کا وجود مکمل نہیں ہوتا ۔ یہ دعوے دار اردو میں ایک بڑا طبقہ ہے اس میں دس ، بیس یا پچاس لوگ نہیں ہیں بلکہ ایسے ہزاروں اور لاکھوں لوگ ہیں جو اردو ادب کے دعوے دار کی حیثیت سے خود کو اپنے گھر، اپنے محلے، اپنی بستی، اپنے گاوں شہر اور ملک یا بیرون ملک منوانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں ۔ وہ لوگ اردو میں بہت کچھ لکھتے ہیں اورمجھے اس سے بھی اختلاف نہیں کہ وہ بہت کچھ پڑھتے بھی ہیں مگر اپنے اس پڑھنے ، لکھنے کے پیچھے یہ مقصد دبائے بیٹھے ہیں کہ ہمیں کسی طرح اردو کا دعوے دار قبول کر لیا جائے۔ ایسے لوگوں میں نقاد، شاعر، محقق، مدون ، مدیر ، صحافی اور سوشل وورکر سبھی طرح کے لوگ شامل ہیں ۔ ان کو ایسا لگتا ہے کہ وہ اردو کے لیے کچھ کر رہے ہیں ، اس کو زندہ رکھے ہوئے ہیں اور نہ جانے یہ خناس کہاں سے ان کے ذہن میں گھس گیا ہے کہ اردو میں ان کے ہونے سے بہت تازگی ہے ۔ ایسےلوگ باطنی طور پر خود کو مخلص سمجھتے ہیں اور اپنی ادبی معلومات کا سامنے والے پر رعب جماتے ہیں اور اس سے ان کے چہروں پر ایک قسم کی مسکراہٹ نمودار ہوتی ہے جس کو وہ انکسار کے رومال سے صاف کر لیتے ہیں ۔ ان میں بہت غریبی میں زندگی گزارنے والے وہ ادیب بھی شامل ہیں جن کو ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے اردو کی خدمت کرتے کرتے اپنی زندگی گزار دی اور وہ امرا بھی جو اردو کی آن لائن ویب سائٹس چلا رہے ہیں، اس کے پرچے چھاپ رہے ہیں ، اس کی کتابیں چھپوا کر مفت تقسم کر رہے ہیں یا اسی طرح کے دوسرے کاموں میں لگے ہیں ۔ اردو کی خدمت کرنے کے یہ دعوے دار خود کو عام میں نہیں گنتے ان کا خیال ہے کہ یہ بالائے عام یا کچھ خاص ہیں ۔ حالا ں کہ میں نے اکثر ایسے لوگوں سے یہاں تک کہا ہے کہ آپ کا وجود اس میکینک سے بھی ارزاں ہے جو ہائے وے پر ایک دفتی ہاتھ میں لیے کھڑا رہتا ہے کہ اگر کسی کی گاڑی خراب ہے تو وہ اسےیہاں ٹھیک کرا سکتا ہے۔ کسی زبان کی خدمت کا تصور یوں بھی ایک جعلی تصور ہے۔ اردو کےبڑے ادارے اپنی دکانیں زیادہ تر ایسے ہی تصورات سے چلاتے ہیں ابھی کچھ روز قبل غالب کے حوالے سے ایک صاحب نے جو ایک بڑے ادارے سے جڑے ہوئے ہیں اس بات کا دعوی کیا تھا کہ ہم نے اپنے ادارے سے غالب پر اتنی زیادہ کتابیں شائع کی ہیں اور ان پر اب تک اتنا کام ہوا ہے۔ ایک ادیب جو ایک ایسے ادارے کا ذمہ دار ہو جس کو غالب جیسے بڑے اور عظیم مفکر کے نام سے منسوب کیا گیا ہو اس پر یہ گنتی بہت بھونڈی معلوم ہوتی ہے۔ غالب پر کتابیں لکھنے سے غالب کو کون سا فائدہ ہو جائے گا یا کون سا نقصان یا خود ادب کو کون سا فائدہ یا نقصان ہو جائےگا۔ بڑا شاعر جو واقعی بڑا ہوتا ہے وہ یوں بھی کسی ادارے اور کسی سیاسی تنظیم کا محتاج نہیں ہوتا اور ادب تو کسی بڑے شاعر کا بھی محتاج نہیں ۔ اردو کی صورت حال اس ضمن میں زیادہ خراب ہے جس کی نہ صرف قومی سطح پر بلکہ ملکی اور غیر ملکی سطح پر بھی یہ ہی حالت ہے ۔ اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اردو میں ادب کس کا مسئلہ ہے اس پر اردو والے کچھ خاص سنجیدگی سے غور کرتے ہیں ۔ ادب پڑھنا ہر کسی کا مشغلہ ہے یا ادب سوچنا ، دیکھنا اور لکھنا یہ بھی ہر کسی کا کام ہے۔ زندگی کے ایک حسن کو جی لینا ہی اپنے آپ میں بہت بڑی بات ہے چہ جائے کہ اس کو قید کرنا اور اس کو قید کر کے اس سے اپنی شہرت کا متقاضی رہنا۔ زندگی بڑھ رہی ہے انسان زندگی کی مختلف جہات میں زندہ ہے۔ جی رہا ہے اور سوچ رہا ہے ایسے میں ادب اس سے بہت آگے کہیں بہت دور نکل چکا ہے ۔ لہذا اس کی خدمت ہم کیا کریں گے کہ یہ زندگی کے مستقبل کا مسئلہ ہے۔ کوئی ادب جو وجود میں آتا ہے اس کے اثرات ہزاروں سال پہلے مرتب ہو چکے ہوتے ہیں ایسے میں وقت کی ایک خاص پائپ لائن میں پھنسے ہونے کے بعد ادب کو اپنا مسئلہ سمجھنا سب سے بڑی غلطی ہے۔ وقت ادب کا ہتھیار ہے۔ ایک نوکیلا ہتھیار جس سے وقت مختلف زبانوں کے جوہر تراشتا ہے اور ان جواہرات میں مختلف النوع شاعر اور ادیب۔ کسی غالب، ٹیگور یا شیکسپیر کو نہ ہم پیدا کرتے ہیں نہ ان کو ہمارے سہارے کی ضرورت ہوتی ہے یہ سارے کھیل وقت کے ہیں اور وقت کو اپنی حرکت کے لیے ان میں سے کسی کی ضرورت نہیں۔ لہذا ادب کو بھی اپنے وجود کے لیے کوئی درکار نہیں ہوتا۔ ادب اگر بادی النظری میں کسی کا مسئلہ ہو سکتا ہے تو صرف اس شخص کا جو یہ سمجھنے میں کامیاب ہو جائے کہ ادب کسی کا مسئلہ نہیں۔

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Taleef Haider

Taleef Haider

Taleef Haider is a student of M. Phil. Urdu at Jawahar Lal Nehru University. He is a poet and has written many critical essays for various literary magazines.


Related Articles

مادری زبان کا عالمی دن

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تعلیم و ثقافت کی تحقیق کے مطابق پاکستان کے شمالی علاقہ جات، صوبہ سرحد، بلوچستان، کشمیر، بھارت اور افغانستان سے ملحقہ سرحدی علاقوں میں بولی جانے والی 28 چھوٹی مادری زبانوں کو ختم ہونے کا خطرہ لاحق ہے

سماجی مظاہر کی طبقاتی تقسیم

یہ بھی مانا کہ مجھے پتہ لگ گیا ہے کہ جینز استری کر کے نہیں پہنتے، ٹی شرٹ کے نیچے بنیان کا مذاق اڑایا جائے گا اور شلوار قمیص کے ساتھ جوگر پہن کر میں پینڈو ہی لگ سکتا ہوں لیکن پھر بھی میں اپنا ماضی اپنے جسم سے کیسے کھرچ کر پھینک دوں؟ میں کیسے اس بات پر شرمندہ ہونا شروع کر دوں کہ ہمارے کپڑوں سے اب سے کچھ عرصہ پہلے تک بانو سوپ کی 'بو' آتی تھی اور میرا سارا بچپن پرچ میں چائے انڈیل کر پیتے گزرا ہے؟

جھروکوں سے جھانکتی کہانیاں

اندرون لاہور کی گلیوں میں راہ نوردی کرتے، لوگوں کے چہروں کے علاوہ قدیم حویلیوں اور مکانوں کے جھروکے اور کھڑکیاں کسی بھی عکاس کی نگاہ کو اپنی جانب ملتزم کرسکتے ہیں۔