ارباب اختیار کے نام کھلا خط

ارباب اختیار کے نام کھلا خط
محترم سالار اعظم، محترم وزیر اعظم اور جناب چیف جسٹس صاحب!

سانحہ پشاور میں شہید طالب علموں کی دکھی ماؤں کو کچھ صبر آہی گیاہوگا جب سانحہ پشاور کے ذمہ داردرندوں اور وحشیوں کو تختۂ دار پر لٹکایا گیا ہوگا۔ لیکن کلیجہ منہ کو آتا ہے جب ایک گونگی معذور بچی ادھورے اشاروں اور ان سنی آوا ز سے اپنی ماں آسیہ بی بی کے بارے میں پوچھتی ہے جس کو سانحپہ پشاور کے ذمہ داران جیسے جہنم زادوں کے خوف کے باعث جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا گیا ہے۔ کیا اس عیسائی بچی کو اس کی ماں سے جدا کر کے اس لیے سزا دی جارہی ہے کہ اس مسیحی گھر میں کوئی فوجی میڈل، کوئی نشانِ حیدر نہیں ہے؟ اگر ایسا نہیں ہے تو پھرپاکستان میں اقلیتوں کی جان، مال، عزت آبرو کارکھوالا آخر کون ہے؟ ان کی عزتِ نفس کو مجروح کرتے ہوئے ہمارا سماج ان کو چوڑے، چمار، ناپاک، پلید کہہ کر ان کے برتن الگ رکھتا ہے، ان سے مصافحہ کرنے سے قبل لاؤڈ اسپیکر سے فتوے کی آواز پر کان دھرتا ہے ان کو سکول میں باتھ روم استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ سماج کی ایسی ذہنی تربیت کون کرتا ہے۔کون ہے جس نے سمندری کے علاقے میں زاہدہ رانا ہیڈ مسٹرس کی ایسی مذہبی تربیت کی کہ اُس نے ایک8سالہ مسیحی بچی کو کہا کہ تم کوایک"کرسچن چوڑا" ہونے کے ناطے مسلمانوں کا باتھ روم استعمال کرنے کی جرأت کیسے ہوئی؟ زہر پھیلانے والے ان ملاؤں کے سامنے عدلیہ، قانون اور ریاستی ادارے آخر کب تک سر تسلیم خم رکھیں گے؟ کب تک ان کو دین فروشی کے اجازت نامے جاری کریں گے؟

کیا اس عیسائی بچی کو اس کی ماں سے جدا کر کے اس لیے سزا دی جارہی ہے کہ اس مسیحی گھر میں کوئی فوجی میڈل، کوئی نشانِ حیدر نہیں ہے؟ اگر ایسا نہیں ہے تو پھرپاکستان میں اقلیتوں کی جان، مال، عزت آبرو کارکھوالا آخر کون ہے؟
لعنت ہو ہم پر۔ لعنت ہو ہم پر۔ ہم پیغمبر رحمت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس کے نام پر لوگوں کو قید کرتے ہیں، زندہ جلاتے ہیں، اینٹیں مارتے ہیں، قتل کرتے ہیں، گلیوں میں گھسیٹتے ہیں، بھٹے میں زندہ جلا دیتے ہیں۔کئی ایسٹر، کئی کرسمس گزر گئے لیکن ایک بے بس اور لاچار بیٹی توہین رسالت کے نام پر اڈیالہ جیل میں قید اپنی ماں سے برسوں سے جداہے۔ مختلف فرقوں کی تکفیری تحریریں سرعام بازاروں میں پڑی ہیں، فتوؤں کی آلائشوں سے لتھڑی کتابیں ہر بڑے کتب فروش کے ہاں بک رہی ہیں، فرقوں کے درمیان لفظی جنگ کے علاوہ بارہا دنگافساد بھی ہوئے ہیں جن میں مذہبی کتب بھی جلائی گئیں لیکن کبھی قانون حرکت میں نہیں آیا۔ کسی دانشور نے کبھی توہین رسالت کے قانون کے نام پر اقلیتوں پر ہونے والے طلم اور ان کے خلاف منافرت پھیلانے پر تنقید نہیں کی جبکہ ہندوستان میں اعزازات واپس کیے جارہے ہیں، لیکن یہاں بلدیاتی انتخابات میں انہی دہشت گردوں کے ساتھ اتحاد کیا جا رہا ہے جن کے سبب یہ ارض پاک اس حال کو پہنچی ہے۔کیا آپ نہیں جانتے ہیں کہ بے بس غیرمسلم پاکستانی اپنے لخت جگر سینوں میں چھپائے ہندوستان جارہے ہیں۔ مسیحی و ہندو لڑکیوں کو زبردستی مسلمان کیا جا رہاہے۔ غارت گری کے حلف قرآن پر اُٹھائے جارہے ہیں۔

محترم وزیر اعظم!
ریاست تو اپنے عوام کی محافظ ہے، لیکن ایک مسیحی دکھیاری ماں پر توہین رسالت کا جھوٹا الزام لگاکر اسے مذہبی شدت پسندوں کے خوف سے پابند سلاسل کر دیا گیاہے۔ مملکت خداد پاکستان کے سنہری قوانین کے تحت توہین مذہب کے قوانین تمام مذاہب اور ان کی محترم ہستیوں کو تحفظ حاصل ہے۔ لیکن احمدیوں، عیسائیوں، ہندووں اور یہودیوں کے خلاف نفرت آمیز مواد سرعام چسپاں کیا جاتا ہے۔ احمدیوں کی عبادت گاہوں، مسیحی بستیوں پر حملوں کے دوران انجیل مقدس اور احمدیوں کی مقدس کتب کے صحیفے بھی جلائے گئے ہیں، احمدیوں کے خلاف نفرت آمیز مواد سرعام دکانوں پر فخر سے لگایا جاتا ہے لیکن ریاست انہیں تحفظ نہیں دیتی۔ مذہبی بنیاد پرستوں کا ایک ٹولہ گرجا گروں کو گرا رہا ہے، مقدس اوراق روند رہا ہے، سرعام نفرت انگیز جرائم کا ارتکاب کر رہا ہے لیکن ریاست کہاں ہے؟ خدا کے بعد زمین پر ریاست کے سوا اور کوئی نہیں ہے جو ان دہشت گردوں کو لگام دے سکے۔

مذہبی بنیاد پرستوں کا ایک ٹولہ گرجا گروں کو گرا رہا ہے، مقدس اوراق روند رہا ہے، سرعام نفرت انگیز جرائم کا ارتکاب کر رہا ہے لیکن ریاست کہاں ہے؟ خدا کے بعد زمین پر ریاست کے سوا اور کوئی نہیں ہے جو ان دہشت گردوں کو لگام دے سکے۔
محترم چیف جسٹس صاحب!
یہ سچ ہے کہ ایک بے بس اورلاچار مسیحی عورت شاید آئین پاکستان کے تحت مسلمان قرار پانے والوں کی طرح پنج وقتہ نمازی، پرہیزگار اور متقی نہیں، اکثریت کی رگوں میں موجزن دیانت داری اور حب الوطنی کی ایمانی حرارت کے برعکس شاید ہماری دانست میں آسیہ بی بی اس ایمان سے محروم ہے لیکن کیا آپ کی عقل اور ضمیر تسلیم کرتاہے کہ ایک ان پڑھ اور بے بس عورت آسیہ بی بی کو محض الزام اور جھوٹی گواہیوں کی بنیاد پر قید کر دیا جائے؟ ایک استاد جنید حفیظ کو نہ صرف قید رکھا جائے بلکہ اس کے وکیل راشد رحمان کو بھی قتل کر دیا جائے؟ آسیہ بی بی کے حق میں آواز اٹھانے پر سلمان تاثیر اور شہباز بھٹی کو بھی قتل کر دیا جائے۔ دن اور رات کے فرق سے محروم اس قیدی عورت کی بینائی اب ختم ہو رہی ہے جو8x10 کی کال کوٹھڑی میں قید ہے، جس کے ساتھ دونوں قید خانے بھی عورت قیدی نہ ہونے کی وجہ سے خالی اور ویران ہیں۔

محترم چیف جسٹس صاحب!
توہین رسالت کا الزام لگانے والوں کا احتساب کون کرے گا؟ ان گھناونے کرداروں کو بے نقاب کون کرے گا جو اپنے مفادات کے لیے اس قانون کا غلط استعمال کر رہے ہیں، ان مظلوموں کو انصاف کون دے گا جو مشتعل ہجوم کے ہاتھوں بے گھر ہوتے ہیں، جان بچاتے پھرتے ہیں؟ ان کے تحفظ کے لیے اور انہیں انصاف دلانے کے لیے جلسے، جلوس اور ریلیاں کیوں نہیں نکالی جاتیں؟ کیاآپ کا ضمیر یہ گواہی دینے کو تیار ہے کہ دنیا کے افضل ترین اور اعلیٰ ترین انسان حضرت محمد مصطفی، احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت، عقیدت اور حرمت کے نام پر سفاکیت، بے رحمی اور ایذارسانی جائز ہے؟ کیا ان کے نام پر ایسے گھناؤنے قوانین متعارف کروا کر بے گناہوں کو اذیتیں دینا گناہِ کبیرہ نہیں؟ کیا توہین مذہب اور توہین رسالت کے یہ قوانین غیر انسانی نہیں جو مزاج محمدیہ سے بھی متصادم ہیں؟

کیا شیریں دہن علماء کسی طرح آسیہ بی بی کی معذور بیٹی کو یہ سمجھا سکتے ہیں کہ اس کی ماں پر حرمت رسول صلی اللہ و آلہ وسلم کے نام پر جو ظلم وستم جاری ہے، قید وبند کے جو پہاڑ توڑے جارہے ہیں، جس طرح اسے ایک اندھیری کوٹھڑی میں رکھا گیا ہے اس سے شان محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں کتنا اضافہ ہوا ہے؟
کیا شیریں دہن علماء کسی طرح آسیہ بی بی کی معذور بیٹی کو یہ سمجھا سکتے ہیں کہ اس کی ماں پر حرمت رسول صلی اللہ و آلہ وسلم کے نام پر جو ظلم وستم جاری ہے، قید وبند کے جو پہاڑ توڑے جارہے ہیں، جس طرح اسے ایک اندھیری کوٹھڑی میں رکھا گیا ہے اس سے شان محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں کتنا اضافہ ہوا ہے؟ کیا اسی بیٹیوں کو یہ سمجھایا جا سکتا ہے کہ جو زہرقید کی صورت میں تمہاری ماں کی رگوں میں اتار جارہا ہے اس سے سماج کے اندھیرے دور ہورہے ہیں؟ کون ہے جو ان معصوموں کو بتا سکتا ہے کہ اسلام کی خدمت کے لیے ان کی ماں پر توہین رسالت کو مقدمہ قائم کرنا ضروری تھا؟ اس مقدمے کے بعد سے پاکستان میں برکتوں اور رحمتوں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ ہر چہرہ نورو ہدایت سے جگمگا رہاہے۔ وظائف و تسبیحات میں مشغول معاشرہ اب صرف قیامت کے انتظار میں بے قرار ہے۔ دین کا خوب بول بالا ہو رہا ہے۔ ہر مدرسے سے رواداری، تحمل اوربرداشت کے چشمے پھوٹ رہے ہیں جو گلی کوچوں سے راستہ بناتے ہوئے پاکستان کی قومی اسمبلی کے پھاٹک پر دستک دے رہے ہیں، جو سیاست دانوں کے لیے بھی رشد و ہدایت کا باعث بن رہے ہیں ۔گویا تمہاری ماں آسیہ بی بی کو سزا دینے کے بعد پاکستان کا ہر کونہ ایمان اوراخلاق کے زیور سے آرستہ ہو چکا ہے۔ محبت، اخوت، بھائی چارے اور امن و سکون کی صدائیں چاروں صوبوں سے بلند ہو رہی ہیں۔

اے سپہ سالارِ اعظم!
سیاست دان، جج حضرات سب ہی مشکل حالات میں آپ کی طرف دیکھتے ہیں۔ جمہوریت کے غسل کے لیے آپ ہی کے متبرک ہاتھوں کو چوما جاتا ہے۔ اعلیٰ ترین عدالت کے جج بھی آپ جیسے جری اوربہادر سپہ سالاروں کی ایک فون کال پر بحال ہوتے ہیں۔ آپ کے حلال شب خون کے دوران ریڈیو، ٹیلی ویژن کی دیواریں آپ کی ابرو کی ہلکی سی جنبش سے ریت کی طرح بیٹھ جاتی ہیں۔ لہٰذا آپ سے ہی عاجزانہ درخواست ہے کہ ایک لاچار اور بے بس عورت کو قید سے آزاد کرنے کا بندوبست فرمائیں تاکہ ایک معذور بیٹی اپنی ماں سے مل کر اپنی گونگی زبان میں آپ کے لیے اظہار تشکر کے الفاظ دل میں ہی دہرا سکے۔

والسلام
ایک خیر اندیش شہری

Related Articles

دہشت گردی کے خلاف جنگ کا مستقبل کیا ہو گا؟

کراچی میں جاری مجرمانہ دہشت گردی، پاکستان بھر میں موجود مذہبی دہشت گردی اور بلوچستان میں جاری مسلح مزاحمت پر سیاسی جماعتوں کے درمیان کیا اتفاق رائے موجود ہے اور کس حد تک ہماری سیاسی قیادت سنجیدہ ہے، اس بارے میں کچھ بھی حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

آصف زرداری چین میں نہیں رہتے

کسی دانشور سے دریافت کیا گیا کہ حضرت! کرپشن کی تعریف کیا ہے؟ دانشور نے بہت ہی سادہ زبان میں

8 Basic Things Every Pakistani Should Know About Transgender People

Their stories are regularly distorted by the media, their executioners are seldom found, and never brought to justice, they are