ارسطو کی منطق اور علماء و مفتیانِ کرام

ارسطو کی منطق اور علماء و مفتیانِ کرام
مسلم فکر میں قیاس علم الکلام، فقہ اور شریعہ کے نزاعی معاملات میں نتائج اخذ کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ مسلم مدارس میں منطق کو پڑھانے کا بنیادی مقصد بھی یہی رہا ہے کہ اس طرح سے طلبہ کو اسلام کے بنیادی اصولوں کو سامنے رکھتے ہوئے مختلف حالات سے متعلق دینی رہنمائی حاصل کرنے اور لوگوں کو رہنمائی فراہم کرنے کے قابل بنایا جائے۔ بوعلی سینا سے کی منطق سامنے آنے سے قبل مسلم دنیا ارسطو کی منطق کو ہی استخراج کے لیے استعمال کرتی آئی ہے۔ آج مسلم مدارس میں منطق جیسے اہم مضامین پر توجہ نہیں دی جاتی اور ارسطو کی منطق کی روایتی شکلیں ہی طلبہ کو سکھائی جاتی ہیں۔

مدارس میں منطق کی تدریس کے ضمن میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ منطق کا نصاب اور اس کا استعمال نہایت فرسودہ ہے
کبھی کبھار سوچتا ہوں کہ مولوی/مفتی صاحبان کو خراب کرنے میں ارسطو کی منطق کا بہت عمل دخل ہے۔ مدارس میں یہی منطق پڑھائی جاتی ہے۔ منطق ایسے قوانین کا علم ہے جن کو لاگو کرنے سے ہمارا ذہن غور و فکر میں غلطی سے بچ جاتا ہے، گویا منطق صحیح فکر کے ضوابط بتاتی ہے۔ اِس کی دو قسمیں ہیں، استخراجی منطق اور استقرائی منطق۔ ارسطو نے استخراجی منطق کی طرح ڈالی، وہی مدارس میں داخل ہے)۔

مدارس میں منطق کی تدریس کے ضمن میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ منطق کا نصاب اور اس کا استعمال نہایت فرسودہ ہے حتیٰ کہ اس ضمن میں یہ فرق بھی روا نہیں رکھا جاتا کہ validity اور truth تو الگ چیزیں ہیں۔ ضروری نہیں کہ valid argument آپ کو ایک ایسا نتیجہ بھی نکالنے میں مدد دے جو حقیقت پر مبنی ہو۔

ارسطو کی منطق میں زیادہ زور استخراج پر دیا جاتا ہے کہ کس طرح دو قضیوں (جملوں/دعووں) کو ترتیب دیا جائے تو نتیجہ درست نکلے گا، اِس ترتیب کی چار صورتیں گنوائی جاتی ہیں۔ ایک صورت کی مثال دیتا ہوں، جیسے زید انسان ہے۔ یہ ایک قضیہ (جملہ/دعویٰ) ہے۔ ہر انسان فنا ہونے والا ہے، یہ دوسرا قضیہ (جملہ/دعویٰ) ہے۔ اب دونوں کو ملاتے ہیں

زید انسان ہے (دعویٰ اول، اِسے صغریٰ کہا جاتا ہے)
ہر انسان فنا ہونے والا ہے (دعویٰ ثانی، اِسے کُبریٰ کہا جاتا ہے)
نتیجہ: زید فنا ہونے والا ہے۔

میں نے جب بھی کسی کے خلاف فتاویٰ دیکھے، فوری ذہن میں آیا کہ یہ سب ارسطو کی منطق کے سوچے سمجھے بغیر استعمال کیا دھرا ہے کہ بس مولوی صاحب کے کان میں کوئی بھنک پڑی تو اُنھوں نے فوری دوسرا دعویٰ نتھی کیا اور نتیجہ نکال لیا۔
ارسطو کی منطق "استخراجی" (Deductive) کہلاتی ہے، اِس کا سارا زور قیاس (استخراج) کی ترتیب پر ہوتا ہے، یہ مواد سے بحث ہی نہیں کرتی کہ وہ درست ہے یا نہیں۔ اِس منطق میں دونوں دعووں کی صداقت کو جانچنے کا مرحلہ نہیں آتا۔
قضایہ (جملوں/دعوں) کی صداقت اور صحت کی جانچ پڑتال "استقرائی" (inductive) منطق کا کام ہے۔ مولوی صاحبان نے "استقرائی منطق" نھیں پڑھی ہوتی۔ یہ صرف ارسطو کی "استخراجی منطق" کو سمجھے ہوتے ہیں، وہی مدارس کے نصاب میں داخل ہے۔ بس جیسے تیسے دو باتیں سُنیں، اُن کی صحت جانچے بنا، خود ہی نتیجہ نکال لیا، گویا خود ہی مدعی، خود ہی منصف۔
ایک اور مثال دیتا ہوں، زید شرابی ہے۔ (پہلا دعویٰ) ہر شرابی فاسق ہوتا ہے۔ (دوسرا دعویٰ) ایسے میں ارسطو کی منطق بتاتی ہے کہ اِن دو باتوں کو جوڑیں

زید شرابی ہے (صغریٰ(
ہر شرابی فاسق ہے (کُبریٰ(
نتیجہ: زید فاسق ہے، نکلتا ہے۔

اب دونوں دعووں کی صحت اور چھان پھٹک کی ذمہ دار ارسطو کی منطق نہیں۔ یہ کام استقرائی منطق کا ہے، جس سے علمائے کرام غافل ہوتے ہیں، ایسے میں دعووں کی چھان پھٹک کیے بغیر، وہ اندھا دھند اِنہیں جوڑ کر خود ہی نتیجے نکال کر فتاویٰ داغتے ہیں۔

میں نے جب بھی کسی کے خلاف فتاویٰ دیکھے، فوری ذہن میں آیا کہ یہ سب ارسطو کی منطق کے سوچے سمجھے بغیر استعمال کیا دھرا ہے کہ بس مولوی صاحب کے کان میں کوئی بھنک پڑی تو اُنھوں نے فوری دوسرا دعویٰ نتھی کیا اور نتیجہ نکال لیا۔
چند مزید مثالیں:

زید نے کدو کی توہین کی ہے (پہلا دعویٰ)
کدو کی توہین کفر ہے (دوسرا دعویٰ، کیونکہ کدو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پسند تھا۔ یہ دعویٰ بھی مولوی صاحب کی اپنی اختراع یا سُنا سُنایا ہے)
نتیجہ: زید کافر ہے۔

زید نے صحابی کی توہین کی/ گالی دی (پہلا دعویٰ، اِس کی ویری فیکیشن بھی نہیں کی گئی)
صحابی کی توہین کفر ہے (دوسرا دعویٰ، اس کی تصدیق بھی نہیں کی گئی)
نتیجہ: زید کافر ہے۔

اِن مثالوں میں پانچ دعوے تھے۔
1۔ قادیانی کافر ہیں
2۔ زید نے کدو کی توہین کی ہے
3۔ کدو کی توہین کفر ہے
4۔ زید نے صحابی کی توہین کی
5۔ صحابی کی توہین کفر ہے

مولوی صاحبان ارسطو کی منطق پڑھ کر، خود مدعی، خود ہی منصف بننے کی روش پر گامزن ہوجاتے ہیں، اپنے دعووں کے صحیح یا غلط ہونے کے حوالے سے اُنھوں نے منظم سائنسئ انداز میں تحقیق نہیں کی ہوتی، اُن کا زور صرف جملوں کو ترتیب دینے پر ہوتا ہے۔
اِن کے صحیح ہونے یا غلط ہونے کی بحث، ارسطو کی منطق میں کی ہی نہیں جاتی۔ قضایا (دعووں) کی صحت و عدمِ صحت کی بحث، استقرائی منطق میں کی جاتی ہے، جو مدارس میں نھیں پڑھائی جاتی۔ گویا مولوی صاحبان ارسطو کی منطق پڑھ کر، خود مدعی، خود ہی منصف بننے کی روش پر گامزن ہوجاتے ہیں، اپنے دعوں کے صحیح یا غلط ہونے کے حوالے سے اُنھوں نے منظم سائنسئ انداز میں تحقیق نہیں کی ہوتی، اُن کا زور صرف جملوں کو ترتیب دینے پر ہوتا ہے۔

یہاں یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ منطق کا علم اب ارسطو کی منطق سے بہت ترقی کر کے ایک بہت مختلف شکل اختیار کر چکا ہے۔ اور مدارس میں جس طرح منطق پڑھائی جاتی ہے اور جس طرح اسے فتوی سازی میں استعمال کیا جاتا ہے وہ نہایت نقصان دہ ہے۔ مدارس میں جدید منطقی علوم پڑھانے کی اشد ضرورت ہے وگرنہ ہماری مذہبی فکر کا جمود برقرار رہے گا۔
Amjad Abbas

Amjad Abbas

Amjad Abbas holds a degree of Shahadat-ul-Alamia. Hi did his Masters in Arabic from International Islamic University Islamabad and M. Phil from NUML. Currently he is working as a researcher is Jamia-al-Kausar and Al Baseera.


Related Articles

جمہوریت: ترقی کا راستہ

پاکستان اپنے قیام سے لے کر آج تک مختلف گروہوں اور طبقوں کے درمیان طاقت، اقتداراور مفادات کی جنگ کے باعث شدید مشکلات کا شکار رہا ہے۔

تھری جی ،فور جی اور ایس سی او

عصر حاضر میں انٹرنیٹ ایک بنیادی ضرورت اورانسانی زندگی کا ایک اہم جزو بن چکا ہے۔

موت کا سلنڈر

متعدد مہلک حادثات میں سینکڑوں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کے باوجود پبلک ٹرانسپورٹ میں غیر معیاری گیس سلنڈروں کے استعمال کو روکا نہیں جا سکا۔