استنبول کے رنگروٹ و کپتان

استنبول کے رنگروٹ و کپتان
سلمان حیدر نے کیا پھبتی کسی ہے کہ
؎ اخوت اس کو کہتے ہیں لگے بینر جو پنڈی میں
تو ترکی میں اٹینشن فوج کا لفٹین ہو جائے

ذرا چشمِ تخیّل وا کرتے ہیں اور یہ دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اگر ٹینک انقرہ کی بجائے اسلام آباد پر چڑھ دوڑے ہوتے، آتشیں گولوں کا ہدف ترکش گرینڈ نیشنل اسمبلی کی بجائے پاکستان کی پارلیمان ہوتی، ترکی کے سرکاری خبر رساں ادارے ٹی آر ٹی کی بجائے پی ٹی وی، ریڈیو پاکستان اور اے پی پی میں فوجی گھس آئے ہوتے اور محاصرہ اتاترک انٹرنیشنل ائیر پورٹ کی بجائے علامہ اقبال انٹرنیشنل ائیرپورٹ کا ہوا ہوتا جہاں لندن سے واپس آتے وزیرِاعظم کا طیارہ اترنے والا ہوتا تو اس وقت کیا صورتحال ہوتی؟

کیا وزیرِ اعظم بھی مارشل لا کی اس جاری کوشش کے دوران ترک صدر کی طرح پرسکون رہ پاتے؟ کیا دو بار کے ڈسے وزیرِ اعظم خبر ملنے کے بعد پاکستان میں اترنے کا رسک لیتے؟
کیا وزیرِ اعظم بھی مارشل لا کی اس جاری کوشش کے دوران ترک صدر کی طرح پرسکون رہ پاتے؟ کیا دو بار کے ڈسے وزیرِ اعظم خبر ملنے کے بعد پاکستان میں اترنے کا رسک لیتے؟ عوام کا ردِّعمل کیسا ہوتا؟ کیا لوگ ٹینکوں کے سامنے لیٹ گئے ہوتے؟ سیاسی جماعتوں کیا بیانات دے رہی ہوتیں؟ حکومتی رہنما کیا کررہے ہوتے؟ الزام کس پر دھرا جارہا ہوتا؟ پولیس کیا کرتی؟ اور عالمی سطح پر کیا ہلچل مچی ہوتی؟ کیا پاک فضائیہ برّی فوج کے ٹینکوں پر طیّاروں سے بمباری کرتی؟ کیا اس مہم جوئی کے پیچھے فوج کا کوئی ایک گروہ ہوتا یا پوری فوج؟ کیا فوج اپنے ہی چیف کو یرغمال بناتی؟ ایسے اور اس جیسے دیگر کئی سوالات کا جواب اپنے تخّیل اور تجربے کی مدد سے لینا پڑے گا۔
ہمارا ذہن تو یہ کہتا ہے کہ یار لوگ اسے اسلام آباد کے سیاسی حبس سے پھوٹنے والا طوفان ہی سمجھتے اور کسی اجتماعی ردِّعمل کی بجائے اپنے اپنے بچاؤ کی فکر میں ہوتے۔ یوں بھی تو آج ساون کی پہلی تاریخ ہے، ہاڑھ کے حبس سے گھبرائے لوگ ہر قسم کے نتائج سے بے پروا ہو کر ہر بگولے اور بارش کو خوش آمدید کہنے کو بے تاب ہیں۔ اسلام آباد کی سیاسی فضا میں ایک عرصے سے جمود چھایا ہے۔ اکّادکّا بیان کی بدلی کبھی کبھار آتو جاتی ہے لیکن ماحول نہیں بدلتا۔ ایسے میں طوفان آئے تو لوگ گھروں سے باہر تو نکلیں گے لیکن محض تماشا دیکھنے۔ چند شہروں سے یہ توقع بھی رکھی جاسکتی ہےکہ ایسی ہنگامہ خیز رات کے بعدصبح سویرے مٹھائیوں کی دکانوں پر رش بڑھ جاتا اور دکانوں کی دکانیں خالی ہوجاتیں۔ ہمارے ہاں تو اس طوفان کو دعوت نامے بھی پہلے ہی شہروں شہروں آویزاں کر کے قوم کو ذہنی طور پر تیار کرلیا گیا تھا کہ ایسا بھی ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں۔

ترکی کے وزیر برائے افرادی قوّت سلیمان سوئلو تو حامیوں سمیت ٹی آر ٹی کا قبضہ چھڑانے پہنچ گئے تھے لیکن ہمارے وزیر برائے افرادی قوّت صدرالدین شاہ راشدی صاحب شاید اگلے وزیرِِاعظم بننے کے خواب دیکھ رہے ہوتے۔ دیگر حکومتی اتحادیوں اور حکومتی جماعت کے اپنے اراکین کی اکثریت بھی نئے سیٹ اپ میں اپنی جگہ بنانے پر غور کر رہی ہوتی۔ صدرِ مملکت ایوانِ صدر میں اپنا سامان باندھ رہے ہوتے اور پریشان ہوتے کہ کراچی کی اگلی پرواز کب ملے گی اور مل بھی سکے گی یا نہیں۔ادھر فضا میں محوِ پرواز وزیرِاعظم کے سرخ و سپید چہرے کی لالی مزید واضح ہوچکی ہوتی، عین ممکن ہے عرقِ انفعال ٹپکنے لگتا کہ آخر تیسری بار کسی اور کو وزیرِاعظم کیوں نہ بنا دیا۔ جناب تو پانامہ لیکس پر قوم سے خطاب کے دوران اس قدر گھبرائے تھے، فوجیں چڑھ دوڑتیں توان کے تازہ جراحت کیے گئے قلب پرجانے کیا بیتتی۔ ترک صدر نے تو بغاوت کی خبر سنتے ہی سواحلِ بحیرہ روم جہاں وہ چھٹیاں گزارنے گئے تھے سے واپس استنبول کو پروان بھر لی اور ابھی غدر مچے چوبیس گھنٹے بھی نہیں گزرے کہ ترک پارلیمان کا اجلاس طلب کر لیا گیا ہے۔ ہمارے ہاں تو اگر ایسی نوبت آن پڑتی اور پارلیمان کا اجلاس طے ہوتا تو اسے معطّل کر دیا جاتا۔

تیسری بڑی سیاسی جماعت کے نوعمر قائد کے میڈیا دفتر سے کچھ اس قسم کا بیان جاری ہوتا کہ نہ پتہ چلتا حکومت کی حمایت کی ہے یا باغیوں کی۔
چند ایک حکومتی وفادار (جن کی اکثریت وزیرِاعظم کے اپنے خاندان سے ہی تعلق رکھتی ہے) اپوزیشن جماعتوں کی حکومت مخالف تحریک کو اس سازش کا حصّہ بتا رہے ہوتے۔ کسی محفوظ مقام سے نجی ٹیلیویژن کے ذریعے پریس کانفرنس کرتے ہوئے یہ سمجھانے کی کوشش کرتے کہ خاندانِ اوّل کے خلاف حکومت کے پہلے دن سے ہی سازشیں شروع تھیں۔ حکومت اور فوج کے ایک صفحے پر ہونے کے سب دعوے دباؤ میں کیے گئے تھے۔ ہم احتساب کے لیے مکمّل طور پر تیّار تھے لیکن اپوزیشن جماعتوں کی نیّت پہلے دن سے ہی صاف نہیں تھی۔ جیسے ترک حکمرانوں نے اس سازش کا سِرا پنسلوینیا (جہاں فتح اللّٰہ گیولن جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں) میں ڈھونڈ نکالا ہے ویسے ہی ہمارے وزیرِِاعظم کے اعزّا بھی اس بغاوت کے پیچھے ایک ’غیر ذمہ دار سیاسی جماعت‘ کے سربراہ کو بتاتے وغیرہ وغیرہ۔

اور اس 'غیرذمہ دار سیاسی جماعت' کے سربراہ جو خود بھی چھٹیاں گزارنے لندن گئے ہیں نے بنا اس بات کا انتظار کیے کہ حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کامیاب بھی ہوتی ہے یا نہیں بیان داغ دینا تھا کہ ہم احتساب کی اس فوجی کوشش کی پرزور حمایت کرتے ہیں۔ جبکہ تیسری بڑی سیاسی جماعت کے نوعمر قائد کے میڈیا دفتر سے کچھ اس قسم کا بیان جاری ہوتا کہ نہ پتہ چلتا حکومت کی حمایت کی ہے یا باغیوں کی۔ یہ قائد ابھی زیرِ تربیت ہیں اس لیے براہِ راست بیان دینے کے قابل ابھی نہیں ہوئے ہیں سو ان کے بیانات بذریعہ ٹوئٹر یا میڈیا دفتر سے ہی جاری کیے جاتے ہیں۔

ترک عوام تو اپنے صدر کی پکار پر لبیک کہتے سڑکوں پر نکل آئے لیکن ہمارے ہاں جمہوریت کے نام پر چند لبرل مجاہد فیس بک پر ضرور نکلتے سڑکوں پر شریف حکمرانوں کی تصویر اٹھائے کسی کا نظر آنا محال ہے کہ حکمران جماعت انتخابات میں بھلے کامیاب ہو لیکن جلسوں میں اپوزیشن کی چھوٹی موٹی جماعت بھی ان سے زیادہ کامیاب رہتی ہے۔ فیس بک پر بھی اس لیے ایسی آوازیں سنائی دے جاتیں کہ فوجی باغیوں نے اپنے ترک ہم منصبوں کی طرح ٹیلیویژن سکرینوں کو تو قابو میں لے لیا ہوتا لیکن سوشل میڈیا پر قابو پانا ان کے بس سے باہر ہے۔ پورے ملک میں برقی مواصلات کے تمام ذرائع بند کر کے وہ خود کو بھی مفلوج نہیں کرسکتے۔

ترک عوام تو اپنے صدر کی پکار پر لبیک کہتے سڑکوں پر نکل آئے لیکن ہمارے ہاں جمہوریت کے نام پر چند لبرل مجاہد فیس بک پر ضرور نکلتے سڑکوں پر شریف حکمرانوں کی تصویر اٹھائے کسی کا نظر آنا محال ہے
ترک فوج کے برعکس ہماری فوج کی کوشش یہ رہی ہے کہ کم از کم اپنی کمان کی حد تک مکمّل اتحاد نظر آئے۔ ماضی قریب میں حزب التحریراور اس سے پہلے چند تنظیموں نے فوج میں نفوذ کر کے حکومت پر قبضے کے منصوبے ضرور بنائے لیکن ان کی یہ کوششیں ابتدائی مراحل پر ہی ہائی کمان کی نظر میں آتی رہیں اور ایسے عناصر کی بروقت سرکوبی کردی جاتی رہی۔ فوجی حکومتیں صرف تبھی قائم ہوئیں جب سپہ سالار نے خود یہ طے کرلیا ہو کہ اب حکومت کو نہیں چلنے دینا۔ ترکی کے فوجیوں نے بھی اگر تربیت کاکول سے پائی ہوتی یا چند افسران کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ سے کچھ کورسز کر گئے ہوتے تو شاید وہ ایسے مضحکہ خیز مارشل لا کی کوشش سے باز ہی رہتے جس میں فوجیوں کو عوام نے پکڑ کر جوتے مارے۔ہماری پرزور سفارش ہے کہ ہمارے ہاں کے حربی تربیتی اداروں میں بیرونِ ممالک کے فوجیوں کے لیے کامیاب مارشل لا کے کورسز کا انتظام کیا جائے تا کہ کل کو پھر کسی فوج کو یوں عزیمت نہ اٹھانی پڑے۔اللّٰہ کے بندو، یہ ساڑھے سات بجے شام کون سا وقت ہے مارشل لا لگانے کا۔ اور سیدھا پارلیمان پر بمباری کر دی۔ کچھ ہماری تاریخ ہی پڑھ لی ہوتی۔

بہت ہوگئی تخیّل کی سیر اب اس آنکھ کو بند کرتے ہیں اور اپنے جمہوری دور کی طرف واپس لوٹتے ہیں۔ ارے یہ کیا۔ جنابِ وزیر اعظم نے ترکی کی صورتحال پر غور کے لیے کابینہ کا خصوصی اجلاس بلا لیا۔ کیا اجلاس میں صرف ترکی کی بغاوت پر ہی غور ہو گا یا ہمارے ہاں اس کی نقالی کے امکانات بھی گفتگو کے دائرے میں آئیں گے۔ یہ جاننے کے لیے دیکھتے رہیے ٹیلیویژن سکرینز تاوقتیکہ وہ تاریک پڑ جائیں۔
Salahuddin Safdar

Salahuddin Safdar

Salahuddin Safdar is a graduate of mass communication from University of the Punjab, he is currently pursuing his M. Phil from Quaid-e-Azam University. He is working with the National Assembly of Pakistan as parliamentary researcher.


Related Articles

طبقاتی جدوجہد کیا ہے؟

فاروق بلوچ: انقلاب کے بعد بھی طبقاتی کشمکش جاری رہے گی اور طبقات کا خاتمہ بتدریج خاتمہ ہو گا۔ طبقات کی بتدریج ٹوٹ پھوٹ سے ریاست بھی بتدریج تحلیل ہو گی۔

صحافتی پھوپھیاں اور سیاسی طلاقیں

عمران خان اور ریحام خان کی شادی سے ایک ماہ پہلے صحافتی پھوپھیوں نے زرد صحافت کا جو ڈھول بڑی دھوم دھام سے بجانا شروع کیا تھا وہ اُن کی طلاق تک پہنچتے پہنچتے تقریباً پھٹ چکا ہے۔

Stateless in Pakistan

Citizenship to the country is a fundamental right of the residents who call the country their home. Hence, denial of