اسلام آباد کی ٹیکسیاں کیا؟ شاہسواریاں

اسلام آباد کی ٹیکسیاں کیا؟ شاہسواریاں
یہ اسلام آبادی ٹیکسیاں اپنی روح میں وفاق کی علامت ہیں۔ ہر صوبے کے ہر شہر سے سمیٹ کر، گھسیٹ کر، گلے میں رسی ڈال کر، ٹرک پر لاد کر اسلام آباد اکٹھی کر دی گئی ہیں۔
ٹیکسیاں کراچی میں بھی ہوتی ہیں اور بہت بڑی ہوتی ہیں۔ لاہور میں البتہ ان کی خالہ کا بیٹا رکشہ زیادہ پُھدکتا پھرتا ہے۔ اسلام آباد میں بھی سابقہ دارالخلافہ کراچی کی سُنت میں ٹیکسیاں ہی ہوتی ہیں اور اِنہیں کا آج ہم نثری نغمہ بجائیں گے۔ نہیں بھائی، بینڈ وینڈ بجانے والے ہم کون ہوتے ہیں۔ ایسی باتیں جی میں مت ہی لایا کریں۔

اسلام آباد ملک کا وفاقی درالحکومت ہے۔ اس کی شاہراہوں پہ بلکہ جرنیلانہ، وزیرانہ، مشیرانہ، افسری گریڈانہ اور ان کے دفتر کی آستین میں جَڑے اعلٰی و طاقتور پرسنل اسسٹانہ راہوں کے منظر کا اہم جزو یہ ٹیکسیاں بھی اپنے تشخص و جوہر میں بہت وفاقیت کی حامل ہیں۔ اب میں سیاسیات کا علم جھاڑنے کی بالکل کوشش نہیں کروں گا کہ "پیارے بچو، وفاقی نظام یہ ہوتا ہے، وہ ہوتا ہے۔" مجھے پتا ہے آپ پڑھے لکھے پاکستانی ہیں۔

تو عرض کیا تھا کہ یہ اسلام آبادی ٹیکسیاں اپنی روح میں وفاق کی علامت ہیں۔ ہر صوبے کے ہر شہر سے سمیٹ کر، گھسیٹ کر، گلے میں رسی ڈال کر، ٹرک پر لاد کر اسلام آباد اکٹھی کر دی گئی ہیں۔ ان میں سے کچھ تو اس قدر پرانی ہیں کہ انہیں بنی نوعِ کاراں کے اسلاف کا رتبہ حاصل ہے۔ بڑی خوش ہوتی ہیں اتنا بغیر پوچھے بتائے کا ادب و احترام کی سزاوار بن کے۔ اتنی پرانی بھی ہیں کہ ان میں سے بعضوں پہ یونیسکو والے مسلسل اور گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کہ یہ موہن جو ڈارو سے تو نہیں لائی گئیں۔ بس اب کچھ ہی وقت باقی ہے انہیں باضابطہ طور پر "قومی و اجتماعی انسانی تاریخی ورثہ" قرار دینے میں۔ اس لیے جلدی جلدی ان کا جُھولا، یا جسے پنجابی میں "چُوہنٹا" کہتے ہیں، لے لیں ورنہ بعد میں تو انہیں دنیا جہاں کے عجائب گھروں کو کچھ "یار لوگ" سمگل فرما دیں گے، جس طرح کہ باقی ملکی نوادرات کے متعلق کبھی کبھار اچانک خبر آ جاتی ہے کہ کوئی کھیپ پکڑی گئی۔ ہورے کتنی کھیپیں قدردانوں تک پہنچ بھی تو جاتی ہوں گی۔

ان اسلام آباد کی شاہ سواریوں کی رفتار اتنی ہی ہوتی ہے جتنی مملکتِ پاکستان کے سیکرٹیریٹ کی فائلوں کی ہوتی ہے۔
ان اسلام آباد کی شاہ سواریوں کی رفتار اتنی ہی ہوتی ہے جتنی مملکتِ پاکستان کے سیکرٹیریٹ کی فائلوں کی ہوتی ہے۔ اب اگر آپ نے اس شاہ سواری کا سفر کیا ہے یا کبھی آپ کی فائل ان مخروطی توند والے بابوؤں کے زیرِ دام آئی ہے تو آپ عاقل اور بالغ گواہ بن سکتے ہیں، اگر نہیں تو کوئی ٹیکسی والا ہی وعدہ معاف گواہ کرنا پڑے گا کہ چلتے میں کچھوے اور خرگوش کی کہانی میں کچھوے کو بھی چاروں شانے چِت کرا دیں۔ لیکن خدا نہ کرے خراماں خراماں چلتے رستے میں اگر کبھی بارش آجائے تو یہ ناک میں پانی ڈلنے کے کارن سڑک کنارے اُبکائیاں لیتے کھڑی ہو جاتی ہیں۔ ایسے میں آپ کو ٹانگے کہ آگے جُتا بِدکا اتھرا گھوڑا تو کافی معصوم لگنے لگتا ہے۔

ان کے کرائے؟ بس کے کرائے ہوتے ہیں۔ مطلب جو ان کے سائیسوں یعنی ڈرائیوروں کے استادانہ منہ سے نکل گیا وہی مستند ہوتا ہے۔ ان میں میٹر ندارد۔ یوں بھی آج کے دنوں میں بجلی کا میٹر ہی کیا کم ہے جو یہاں بھی میٹر درکار ہو۔ کرایہ۔۔۔ بس زبان کی خود ساختہ مشین سے ہی کام تمام۔ ان اسلام آباد کی ٹیکسیوں کے کرایوں پہ تیل کی قیمتوں کا صرف اوپر کی طرف اثر ہوتا ہے۔ اگر قیمتیں کہیں نیچے آ جائیں تو ان کی جانے بلا۔ کہتے ہیں کیا فرق پڑتا ہے پٹرول کی قیمتوں میں چند کوڑیاں کم ہو جانے سے۔ آپ لاکھ کہو کہ سعودی عرب کا بجٹ اس تیل کی دھار کی وجہ سے خسارے کی گھاٹیوں میں چلا گیا۔ تو جواب دیں گے کہ کیا کہتے ہو بھیا وہ تو یمن یافتہ ہوا ہے۔ بہر صورت زیادہ کرایہ مانگ لیتے ہیں۔ عادت اور جیب کی تنگ دامنی سے مجبور آپ وجہ پوچھیئے تو کہیں گے کہ "بھئی دودھ مہنگا ہوگیا ہے، خشک میوے مہنگے ہوگئے ہیں۔" بندہ کچھ دیر تو دماغ پہ زور دیتا ہے کہ بھلا مشین کو دودھ، دہی، لسّی یا مونگ پھلی سے کیا لینا دینا! لیکن تھوڑی دیر بعد ہی اپنے دماغ کی پوٹلی سنبھال کے اپنی راہ لیتا ہے۔ ویسے بھی اپنے اسحاق ڈار صاحب (جو ڈارون سے بس ون یعنی ایک درجہ ہی پیچھے رہ گئے ہیں) کے ٹیکسوں اور ڈیوٹیوں کے نظریہِ ارتقاء کی گتھیاں سلجھانے کی کوششوں ہی میں عام آدمی کے خالی معدہ میں تبخیر ہو ہی جاتی ہے۔

آپ اگر ان کی ڈرائیور کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھیں تو آپ کے چرنوں پہ ان ٹیکسیوں کی پٹرول کی بوتل پڑی ملتی ہے۔ اس میں سے ایک رگ میں سے پٹرول انجن کی طرف گامزن ہوتا ہے اور دوسرے طرف سے سواری کے نتھنے میں۔
گو کہ یہ بات ابھی تحقیق طلب ہے اور امید ہے کہ کوئی سبزی بیچنے والا اس کا کوئی نتیجہ نکال ہی لے گا کہ ان گاڑیوں کی حرکت کون سی حرکیات کے زمرے میں آتی ہے۔ ہیں، کیا؟ آپ کو اعتراض ہے کہ سبزی والا اب طبیعات و میکانیات کے سر بستہ راز کھولے گا؟ ویسے آپ بھی کمال کے بھلے مانس ہیں جب ڈاکٹر مجاہد کامران پنجاب یونیورسٹی والے ایک کیمیا دان ہونے کے با وصف نو/گیارہ کی سازشی توجیہات سے ہمارے کند ذہنوں کو منور کرسکتے ہیں، داعش کے متعلق کتابیں رقم کرسکتے ہیں، تو سبزی والے کو آپ اتنا ہی فاتر العقل سمجھتے ہیں کہ وہ میکانیات و حرکیات کی روح کو چشمے نہیں پہنا سکتا۔ اس میں کیا شک ہے کہ سائنس، سائنس کی ڈگریوں والوں کی تو گھر کی مرغی ہوتی ہے۔ اب اگر وہ اس پہ کام کریں گے تو وہ اسے دال ہی کردیں گے نا۔ آپ ان کا وقت مت ضائع کیجئے انہیں اخباروں میں کالم اور آرٹیکل لکھنے دیجئے۔

کس جھنجھٹ میں پڑ گئے تھے ہم بھی۔ فرض کر لیتے ہیں کہ اسلام آباد کی ٹیکسیاں حرکت کرتی ہیں۔ گو کہ زیادہ بار تو دھکے سے ہی حرکت کرتی ہیں لیکن پھر بھی سنہ دو ہزار کے شروع میں جب پاکستان "ترقی ہی ترقی" کرتا جا رہا تھا اس دوران ایک گیس آئی جسے سی این جی کہتے تھے۔ ان اسلام آباد کی ٹیکسیوں پہ بھی سی این جی لگ گئی۔ تو چند سال ان کی رگوں میں گیس دوڑی۔ یہ کچھ سستے بھاؤ میں مل جاتی تھی۔ اب جب یہ سی این جی کا رمضان طویل ہوا تھا یہ ٹیکسیاں "پٹرول کی بوتل" پہ لگ گئیں۔ آپ اگر ان کی ڈرائیور کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھیں تو آپ کے چرنوں پہ ان ٹیکسیوں کی پٹرول کی بوتل پڑی ملتی ہے۔ اس میں سے ایک رگ میں سے پٹرول انجن کی طرف گامزن ہوتا ہے اور دوسرے طرف سے سواری کے نتھنے میں۔ ساتھ والی سیٹ پر ڈرائیور اپنے منہ میں سگریٹ ڈال کر زندگی کے غموں کو اسلام آباد کی ہواؤں میں غلط کرتا ہے۔ سواری دعا کرتی ہے مولا آج بچا لینا جیسا کہ تو نے اتنے سالوں سے خود کش بمباروں سے بچا رکھا ہے۔ بشرطیکہ کسی وی آئی پی کے لیئے روٹ نا لگا ہو یہ اسلام آباد کی ٹیکسیاں اپنی حرکت میں بابرکت رہتی ہیں، لیکن ہمیں اب اجازت دیجئے۔

Image: Dawn News

Yasser Chattha

Yasser Chattha

The author teaches English at Model College for Boys Islamabad. In the past he was affiliated with Council for Social Sciences Pakistan. His translation of English poetry has recently been published as a book.


Related Articles

اور جب لکھنوی تہذیب سے پردہ اٹھتا ہے

تصنیف حیدر: شجاع الدولہ عیاشی میں بجز شراب نوشی کے منہمک رہتے تھے۔ اکثر عورتوں کی مباشرت میں راغب اور لہو ولعب میں مصروف رہتے تھے۔ لیکن مزاج میں حیا و شرم اور عفو و اغماض اور ترحم تھا

درینہ کا پل اور سرگودھا سرگودھا ہے‎

سرگودھا والوں نے اتنی زندہ دلی کب سیکھی یا وہ ہمیشہ سے ہی ایسے ہیں، میں کچھ نہیں کہہ سکتا مگر اتنا ہے کہ ان دنوں سرگودھا سرگودھا ہے۔

Poems of an Exile

Hasan Mujtaba is a Pakistani journalist and poet living in self-exile in the US since 1999. His Urdu poetry collection “Koel Shehr Ki Katha” (The Tale of a Cuckoo City) is more of a treatise on his experience of exile...