اسیری

اسیری
اسیری
شاعرہ: لی میرے کل
ترجمہ: نسیم سید

میں اب تک تمہیں
یعنی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنے غاصبوں کو
یقین دلانے کی
کوشش کرتی رہی
"بے وقوف نیٹوعورتیں"
نہیں!!
نہیں !!
میں ان جیسی نہیں ہوں
میں تمہارے بنائے
اور تمہارے سمجھائے
سانچے میں
ڈھل چکی ہوں
میں نے تمہاری
پلائی ہوئی
شراب کے نشہ سے
خود کودھت کرلیا
تمہاری زبان
بڑی محنت سے سیکھی
تمہاری عورتوں جیسا
بننے کی کوشش کی
مگر۔۔۔۔۔۔
آج یہ نطم لکھتے ہوئے
میرے ماتھے پر
شرمندگی کا پسینہ ہے
تمہارے معیار پر
پورا اترنے کی کوشش
میری سوچ کی
اسیری کا ثبوت ہے گویا
گویا !!
میں اب تک اسیر ہوں
Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

ائیر پورٹ پر

حسین عابد: میرے پاس صرف ایک گیت ہے
تلاشی لینے پر
نہیں ملے گا

عورتوں کی تعلیم پر ایک آزاد خیال عورت کی نظر

جس طرح انسانی آزادی کی تحریک نے ممالک کو آزاد کیا۔ حرفتی تحریک نے پیشہ ور کا عقدہ وا کیا اسی طرح ہم بھی عورتوں کے تعلیمی نصاب میں ایک سریع السیر انقلاب چاہتے ہیں تاکہ عورت بندی خلاص ہو۔

اندھیرے کا گیت

نصیر احمد ناصر: اُدھر خدا کے بے ستون آسمانی محلات میں
اندھیرا روشن ستاروں کے آس پاس منڈلاتا رہتا ہے
اور موقع پاتے ہی وار کرتا ہے
اور اُن زمینوں تک جا پہنچتا ہے
جہاں دلوں کی کاشت کاری ہوتی ہے
اور دماغوں کے پھول کھلتے ہیں