اصل و نسب

اصل و نسب
اصل و نسب
شاعر: ٹیڈ ہیوز
مترجم: یاسر چٹھہ

 

وقتِ ازل میں ایک چینخ تھی
جس نے پیدا کیا خون
جس نے بنائی آنکھ
جس نے پیدا کیا خوف
جس نے بنائے پَر
جس نے بنائی ہڈی
جس نے بنایا سنگِ گرانِیت
جس نے اگایا بنفشہ
جس نے بنایا گیتار
جس نے تخلیق کیا پسینہ
جس نے جَنا آدم
جس نے جَنی مریم
جس نے جنا عیسٰی
جس نے بنائی نِیستی
جس نے کبھی نہیں جنا تھا
ہر گز نہیں، کبھی بھی نہیں، بالکل بھی نہیں
جس نے جنا کوا
واسطۂِ خون رونے دھونے کے لیئے
کیڑوں مکوڑوں کے لئے، روٹی کے چُورے کے لئے
ہر ایسی ویسی چیز کے لئے
بے بال و پَر گھونسلےکی آلائیشوں میں کپکپاتے رہنے کے لئے

Image: Hans Kanters

Yasser Chattha

Yasser Chattha

The author teaches English at Model College for Boys Islamabad. In the past he was affiliated with Council for Social Sciences Pakistan. His translation of English poetry has recently been published as a book.


Related Articles

زوالِ عمر

تبسم کاشمیری:نیند اب ایک ایسی چیز ہے
جو صرف بچے کی آنکھ میں ہے
طالب علم کی جیب میں ہے
یا پرندے کے گھونسلے میں

محبت کی نظمیں (حصہ اول)

تصنیف حیدر: رات
اس کی نظمیں سنتے گزری
جیسے سیاہ آنئوں پر نیلی روشنیوں
کا رقص ہو

ڈی این اے کی خود سے لڑائی

ثروت زہرا: علیشا سب سے پہلے
جننے والی کوکھ نے تم کو جدائی دی
عقائد نے ترے سوتک سے پاتک تک کے بارے میں
صفائی دی