اظہار محبت پر پابندیاں ناقابل قبول ہیں۔ اداریہ

اظہار محبت پر پابندیاں ناقابل قبول ہیں۔ اداریہ

14 فروری دنیا بھر میں اظہار محبت کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے، اس روز ہر عمر کے افراد اپنے محبوب افراد کو تہنیتی پیغامات بھجواتے ہیں اور محبت کے اظہار کے مختلف انداز اپناتے ہیں۔ تاہم پاکستان جیسے قدامت پسند، مذہبی اور مردانہ برتری کے قائل معاشروں میں اظہار محبت کو غیرت، حیاء اور پاکیزگی کے منافی خیال کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں رواں برس بھی ٹی وی چینلوں پر ویلنٹائن ڈے کی تشہیر پر پابندی عائد رہی، یہ پابندی گزشتہ برس اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک حکمنامے کے تحے پیمرا نے عائد کی ہے جس کے تحت کوئی بھی چینل ویلنٹائن ڈے کی تقریبات اور اس دن کی سرگرمیوں کی کوریج اور تشہیر نہیں کر سکتا۔ اس حکمنامے کے علاوہ مذہبی تنظیمیں تدریسی اداروں اور عوامی مقامات پر اظہار محبت کی راہیں مسدود کرنے کے لئے کھلے عام لوگوں کی ذاتی زندگی میں مداخلت کو درست سمجھتی ہیں۔

ویلنٹائن ڈے کے خلاف اس بڑے پیمانے پر مذہب، ثقافت اور اخلاقیات کے نام پر رسمی اور غیر رسمی پابندیاں انفرادی آزادی اور ذاتی خودمختاری کے حق کے منافی ہیں۔ ان پابندیوں کا بنیادی محور ویلنٹائن ڈے یا اس دن کی سرگرمیاں نہیں بلکہ فرد کو اپنی زاتی زندگی کے فیصلےکرنے کی خود مختاری اور آزادی دینے میں ہچکچاہٹ ہے۔ یہ ہچکچاہٹ ان قدیم پدرسری معاشرتی اصولوں کی پیداوار ہے جنہوں نے فرد پر اجتماع، اصول پر روایت اور قانون پر اخلاقیات کو تقدم بخشا ہے۔ ویلنٹائن ڈے پر پابندی دراصل ایک ایسی سوچ کی عمل شکل ہے جہاں فرد اپنی ذاتی زندگی کے فیصلوں کے لئے معاشرے، ثقافت اور مذہب کا محتاج ہے۔

ویلنٹائن ڈے اور اظہار محبت پر پابندیوں کا سب سے زیادہ شکار یقیناً نوجوان طبقہ ہوتا ہے جو اپنی رومانی اور جنسی تسکین کے لئے دیگر افراد میں دلچسپی کا اظہار کرنے سے محروم کر دیا گیا ہے۔ ہمارا معاشرہ پہلے ہی ایک ایسی اخلاقی، ثقافتی اور مذہبی گھٹن کا شکار ہے جہاں دو یا زائد افراد کو باہم محبت کے آزادانہ مواقع میسر نہیں۔ یہ گھٹن ان افراد کے لئے بھی اتنی ہی حبس آلود ہے جو معاشرتی روایات اور مذہب کے مطابق رشتہ ازدواج میں منسلک ہیں، جتنی کہ غیر شادی افراد کے لئے ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اظہار محبت پر پابندیوں کا سب سے زیادہ اثر ان طبقات پر ہوتا ہے جو سماجی، سیاسی اور معاشی طور پر محروم اور پس ماندہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوان، خواتین اور ہم جنس پرست افراد ان پابندیوں کی زد میں سب سے زیادہ آتے ہیں۔ان پابندیوں کا ایک تکلیف دہ اور تشویش ناک پہلو عوامی مقامات پر اظہار محبت پر پابندی کی صورت میں ظاہر ہوا ہے اور جو عفت، غیر ت اور پاکیزگی کے غلط تصورات کی پیداوار ہے۔ ان پابندیوں کا مطلب یہ ہے کہ فرد اپنی رومانی اور جنسی تسکین کے لئے خود فیصلے کرنے کا مجاز اور اہل نہیں۔

پاکستان میں مذہبی شدپسندی کی ایک خطرناک صورت یہ اخلاقی جبر بھی ہے جو عدالتی فیصلوں، انتظامی حکمناموں اور عمومی سماجی رویوں کی صورت میں پہلے سے زیادہ نقصان دہ شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔ مذہب ، ثقافت اور اخلاقیات کو انفرادی آزادی اور ذاتی خود مختاری پر فوقیت نہیں دی جا سکتی ۔ محبت کا شائستہ اظہار آزادی اظہار رائے اور ذاتی زندگی کے حق کا حصہ ہے جس کی اجازت نہ صرف آئین پاکستان دیتا ہے بلکہ انسانی حقوق کا عالمی چارٹر بھی ہر بالغ فرد کو اپنی مرضی، میلان اور خواہش کے مطابق دوسرے فریق کی رضامندی سے خاندان شروع کرنے کا حق فراہم کرتا ہے۔ ہر بالغ فرد کے لئے اظہار محبت کا حق تسلیم کرنا لازمی ہے اور اس حق پر اخلاقیات، ثقافت اور مذہب کے نام پر پابندیاں نہ صرف غلط ہیں بلکہ غیر آئینی بھی ہیں۔

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

Save Shafqat, Save Pakistan’s Judicial System – Editorial

It is a shame that our collective sense of justice hardly goes beyond a frantic demand for vengeance. Since government

شہری آزادیوں پر ایک اور قدغن-اداریہ

اس قانون کی شق 34 تحت پا کستان ٹیلی کمیونکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کو یہ اختیار دیا جا رہا ہے کہ جو مواد اسے غیر مناسب لگے وہ پاکستانی صارفین کی اس مواد تک انٹرنیٹ رسائی روک سکتی ہے۔

فاٹا میں رہنے والوں کو مساوی شہری تسلیم کیا جائے-اداریہ

فاٹا میں رہنے والوں کو اگر اصلاحات کے ذریعے جلد مساوی آئینی اور شہری حیثیت نہ دی گئی تو حالات بہت جلد دوبارہ تشویش ناک ہو سکتے ہیں اور آپریشن ضرب عضب سے حاصل ہونے والی کامیابیوں کے اثرات زائل ہوسکتے ہیں۔