افراد جو لاپتہ ہوئے

افراد جو لاپتہ ہوئے

ہم نے بڑی غلطی کی
جو گہرائی کی جستجو میں
ڈوبنا اور تیرنا سیکھ لیا
دریا سے بولنے کا قرینہ جان لیا
لاپتہ فرد نام درج کرواتے
اپنے لبوں پہ نیا تالا لگواتا ہے
بلیک گاؤن پہنے
سٹیج پہ پرفارم کرتا
وہ سوچ نہیں سکتا
وگرنہ وہ دیہاڑی سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے
سچ بولنے والے گم شدہ افراد
برمودہ تکون میں بھٹکتے ہی
برائے نام جمہوریت کی سیل لگی رہتی ہے
بھاری بھرکم بوٹوں والے
باغیوں کو اٹھا کر
سیدھے سبھاؤ رہنے کے گر سکھاتے
"شش شش " چپ رہنے کو کہتے ہیں۔
مگر غیرت مند خون ابلتا ہے
جلدی جلدی جوش کھاتا ہے
بوٹوں کی نوکوں سے
چہروں کو بچاتے
پیٹ پہ لاتوں اور مکوں کی مار سہتے
اکثر سوچتے ہیں۔
گمشدہ لوگ کیسے ہوتے ہیں۔۔۔۔؟
سچ بولنے کی سزا
بچہ جنتی عورت کو بھی ملتی ہے
راکھ پھرولتی ماں
اپنے خواب کی تعبیر ڈھونڈتی رہتی ہے
ہم بد بخت لوگ
مذہب کی تکڑی میں جھولتے
جنسیات کی کتابیں
پرانی ردی میں ڈھونڈتے
عبائے اور ٹوپیاں پہنے
چوری چوری جنسی سبق پڑھاتے ہیں
مگر ذہنوں کی گرد
جھاڑے نہیں جھڑتی۔
اور
گم ہو جانے والوں کی تعداد بڑھنے لگتی ہے

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

نذر فیض

ہاں مجھے اتنی خبر ہے مرے ہمدم مرے دوست
زندگی اپنی جگہ مہمل و دشوار سہی

ہاں یہ اعلان ۔۔ انساں کی تاریخ کا شاہی فرمان ہے

اس طرح دیکھتے کیا ہو؟
یہ جان لو
آج میں ہوں اگر زد پہ ان کی تو کل تم بھی آجاؤ گے
چپ رہو گے اگر اِن کے پنجوں سے تم بھی نہ بچ پاؤ گے

کائناتی گرد میں عریاں شام

اردو شاعری کے لیے یہ بات ایک نیک شگون ہے کہ شعراء کی نئی پود کافی حد تک غزل بمقابلہ نظم کے "موازنہ٫ انیس و دبیر" سے باہر آ گئی ہے اور نظم، اپنے نت نئے اسلوبیاتی تجربات کے ساتھ، غزل کی ساکھ کو متاثر کیے بغیر نئی تخلیقی آوازوں کے ہاں اپنے پورے قد کے ساتھ کھڑی ہے۔