اليعازر مر گیا

اليعازر مر گیا
اليعازر مر گیا
بلب کا جبڑا کھلے، آگ برس جاۓ تو؟
گر یہ استخر ابھی، خون سے بھر جاۓ تو؟

یا یہ استخر
(جہاں آب کے منشوروں سے
رنگ ہستی سے فنا کی یہ دھنک ابھری ہے)
،کوئی استخر نہ ہو ، کوکھ ہو میری ماں کی
،اور میں میں نہیں ، شاید وہ اچھالتا پانی
جس نے سانسوں کی طنابوں کو پکڑ رکھا تھا
وائے قسمت کے مرے ہاتھ میں رسی نہ رہی!!

آہ میرا یہ جنیں خون اگلتا جاۓ
اس قدر خون مری ماں کا بطن بھر جاۓ
اس قدر خون کہ جراح کا لبادہ میرے
سرخ ایام کی تنہائی سا گاڑھا ہو جاۓ
اورتانبے کے کسی گرم سے برتن میں ابھی
میرے لاشے کے کٹے لخت پڑے ہلتے ہوں
Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Razi Haider

Razi Haider

Razi Haider is an engineer by profession , Kashmiri by heart , a poet and photographer. His Interests include politics, ontology, ethical philosophy, theology film and photography history.


Related Articles

بھینسے کا خدا

حسین عابد: حمد اس کی جو روند دیتا ہے
مٹی، ریت، خاردار میدان
دہلا دیتا ہے ٹیلوں کے دل

کچھ مرنے کے لیے زندہ چھوڑ دیے گئے ہیں

نصیر احمد ناصر:
موت کسی کے دل میں نہیں تھی
لیکن مارے گئے
جو بچ گئے
وہ کیمپوں میں
مرنے کے لیے زندہ چھوڑ دیے گئے ہیں
پتا نہیں انہیں کب، کہاں اور کیسے موت آئے گی

کاروبار

خدا کا شکر ہے اب کام اچھا چل رہا ہے