امتناع کا مہینہ - اختر حسین جعفری

[soundcloud url="https://api.soundcloud.com/tracks/175297062" params="auto_play=true&hide_related=false&show_comments=true&show_user=true&show_reposts=false&visual=true" width="100%" height="300" iframe="true" /]

اس مہینے میں غارت گری منع تھی، پیڑ کٹتے نہ تھے، تیر بکتے نہ تھے
بہرِ پرواز محفوظ تھے آسماں
بے خطر تھی زمیں مستقر کے لیے
اس مہینے میں غارت گری منع تھی یہ پرانے صحفوں میں مذکور ہے
قاتلوں، رہزنوں میں یہ دستور تھا، اس مہینے کی حرمت کے اعزاز میں
دوش پر گردنِ خم سلامت رہے
کربلاؤں میں اترے ہوئے کاروانوں کی مشکوں کا پانی امانت رہے
میری تقویم میں بھی مہینہ ہے یہ
اس مہینے کئی تشنہ لب ساعتیں، بے گناہی کے کتبے اٹھائے ہوئے
روز و شب بین کرتی ہیں دہلیز پر اور زنجیرِ در مجھ سے کھلتی نہیں
فرشِ ہموار پر پاؤں چلتا نہیں
دل دھڑکتا نہیں
اس مہینے میں گھر سے نکلتا نہیں
 اختر حسین جعفری

اختر حسین جعفری

Asad Fatemi

Asad Fatemi

Asad Fatemi is a freelance writer and a poet. He is a former editor of Urdu section of Laaltain. He lives in his hometown in district Jhang.


Related Articles

خواب کے دروازے پر

نصیر احمد ناصر: میں تمہیں
خواب کے دروازے پر
اسی طرح جاگتا ہوا ملوں گا

آدم بو! آدم بو!!

ثروت زہرا: نفرت کی آندھی پھر دروازے پر
آدم بو آدم بو چیخ رہی ہے
تم شمشانوں کی خاموشی سے
خوابوں کو پھرباندھ رہے ہو

موسم

شہر کے وسط میں بلند و بالا عمارتوں کے درمیان سڑکوں پر لوگوں کا بہت بڑا ہجوم ہے۔