اناالبشر

اناالبشر
انسان نے انسان کو بہت کھوجا ہے۔صدیوں سے بھٹکتا انسان ابھی تک بھٹک رہاہے ۔بشر اپنے کھروں کو کھوجتا اور اپنے پوروں کو پورتاہے ۔اپنے ہونے کو ڈھونڈتا ہے اور اپنے کھونے کو پوجتاہے ۔ اس نے اپنے اندر بھی اپنی بازیافت کا سفر کیا ہے اور خود کو خود سےباہر بھی دریافت کیاہے ۔اس نے اپناانکار بھی کیا ہے اور غیر کو خود بھی کہاہے ۔اپنے وجود کے آگے بھی بھاگا ہے اور اپنے سائے کے پیچھے بھی بھاگا ہے ۔اس نے خود کو پایا بھی ہے اور خود کو کھویا بھی ہے ، خود کو پانے کے بعد خود سے مکرا بھی ہے اور خود کو کھو کر خود کو سمیٹتا بھی رہا ہے۔
یہ بشر کیاہے؟ مادے کا اظہار ہے ، شعور کا شاہکار ہے یا پھر مادے اور شعور کا گٹھ جوڑ ہے ؟اگریہ مادے اور شعور کی مل بھگت ہے تو کیا مادے سے شعور پھوٹا ہے یا پھر شعور نے مادے کا لبادہ اوڑھا ہے؟اس کی فطرت کیا ہے ، ماہیت کیا ہے، ساخت اور عناصر کیا ہیں؟
انسان حادثہ ہےیا کوئی فیصلہ ہے ؟یہ کوئی الجھاؤ ہے یا کسی ترتیب و تکوین کا ایک جزو؟ یہ ارتقا کا نتیجہ ہے یا تخلیق کا نمونہ ہے؟یہ کسی مطابقت کا صلہ ہے یا پھر کسی اختلاف کا مظہر ہے ؟انسان صرف انسان ہے یا پھر حیوان نے کمر سیدھی کی ہے؟
انسان سکوں ہے یا حرکت ہے؟ وحدت ہے یا کثرت ،کثرت ہے یا ثنویت؟یہ عین ہے یا غیر، یہ جوہر ہے یا عرض ،یہ داخل ہے یا خارج ،یہ خلاق ہے یا تخلیق، یہ مجبور ہےیا مختار ؟یہ خود سے ہے یا کسی کے سہارے سے ہے؟ یہ کائنات کا جزو ہے یا پھر کائنات اس کُل کے لیے ہے؟یہ جبریت میں جکڑا ہو اہے یا اختیار کی دولت سے مالامال ہے یہ کسی کُل سے الگ ہوا ہے یا پھر کسی کُل کی طرف لپک رہا ہے؟
انسان نے بڑا لمبا سفر طے کیا ہے یہ چقماق سے کھیلا ہے، خوف کے سایوں میں پلا ہے ، برف کے طوفانوں سے بچا ہے، حیرت کے دشت ہائے امکان میں بے سمت پھرا ہے۔بشر نے بشریت کی صلیب ازل و ابد کے پھیلاو میں اٹھائی ہے، یہ پہاڑوں کے اندھےغاروں میں بسا ہے ،پات پتر کی اوڑھ میں چھپا ہے۔ اس نے بیج کو بویا اورگندم سے آٹے کی چکی تک کا سفر کیا ہے۔ اس نے اپنے تحفظ کے لیے اجتماعیت کا میلا سجایا ہے، اس نے ملکیت کا تصور گھڑا ہے اور طبقاتی تقسیم کو جناہے۔ اس نے بلندیوں کو چھوا ہے اور بڑی بڑی تہذیبوں کو جنم دیا ہے۔یہ خود پہ اڑا ہے ، خود پہ چڑھا ہے، خود سے لڑا ہے۔ اس نے خود کو گھڑا ہے اور اپنے گھڑے میں گرا ہے۔
یہ وجود صرف مادی نہیں، محض تاریخی نہیں، اسے صرف حیاتیاتی قرار دنہیں دیا جا سکتا،اس محض شعور اور تحت شعور کا گورکھ دھندا نہیں کہا جاسکتا۔یہ بشر صرف معاشرتی ،تخیلاتی،روحانی یامابعد الطبیعاتی نہیں؛ انسان سب کا مجموعہ ہے۔
انسان نے اپنی تلاش آپ کر کے بڑا ظلم سہا ہے، انسان نے انسان کو بہت تلاشا ہے لیکن ابھی تک خود کو خود سے تلاش نہیں کر پایا۔اس نے ہمیشہ خود کو محدود زاویہ سے دیکھا ہے،انسان کا تجزیہ کسی ایک سطح پر کسی طورنہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی کوئی ایک پہلو اس کی ہمہ جہتی کو بیان کر سکتا ہے۔ انسان کی شناخت میں غلطی کی ایک وجہ یہ ہے کہ انسان خود کو اپنے ہی گھڑے ہوئے نظریات کی کسوٹی پر پرکھتا ہے۔اسی وجہ سے کچھ لوگ اسے محض حیاتیاتی وجود قرار دیتے ہیں، ان کی ہر تعریف پر حیاتیات غالب ہوتی ہے اور کچھ اسے محض مادے کا ڈھیر مانتے ہیں ان کی تمام تشریحات مادی بنیادوں پر کھڑی ہوتی ہیں۔ کچھ اسےایک نفسیاتی ڈھانچہ مانتے ہیں اور اس کے تمام مسائل ،تمام محرکات، تمام مقاصد نفسیات ہی میں ڈھونڈتے ہیں۔
مگر یہ وجود صرف مادی نہیں، محض تاریخی نہیں، اسے صرف حیاتیاتی قرار نہیں دیا جا سکتا،اس محض شعور اور تحت شعور کا گورکھ دھندا نہیں کہا جاسکتا۔یہ بشر صرف معاشرتی ،تخیلاتی،روحانی یامابعد الطبیعاتی نہیں؛ انسان سب کا مجموعہ ہے۔ تسکین اور حقیقت سے وابستہ تعریف اس انسان کے لیے بس یہی ہے کہ وہ عبد ہے۔ عبد جو جذبوں کا جہاں ہے اور ان جذبوں کی اسی تعریف سے تسکین ممکن ہے ۔ عبدیت انسان کو اس کی حقیقت سے ملاتی ہے، مقصدیت سے آشنا کرتی ہے اور زندگی کو مفہوم عطا کرتی ہے۔ عبدیت ہی سے انسان سے جڑی ہر چیز بامعنی ہے ۔یہ عبدیت ایک برتر حقیقت کی خواہش ہے اور اس حقیقت کو پانا انسان کی آرزو ہے، یہ قرب کی جس جنت سے نکلا ہےاسی جنت میں جانا اس کی سرشت ہے ۔

Related Articles

ریو اولمپکس میں پاکستان کی شرمناک نمائندگی

غضب خدا کا کہ عالم اسلام کی واحد ایٹمی طاقت بلکہ عالم اسلام کا قلعہ مملکت خدادا اسلامی جمہوریہ پاکستان کی بیس کروڑ آبادی سے ہمیں صرف سات جوان ملے جو ریو اولمپکس میں سبز ہلالی پرچم کی نمائندگی کریں گے۔

ایک زرداری، سب پر بھاری

دسمبر 2007 میں رنڈوا ہونے والے سابق صدر آصف علی زرداری جمعہ کے روزکراچی پہنچے اور اپنے مِشن کا آغاز اگلے ہی روز وزیر اعظم نواز شریف کی دعوت پر 70 مختلف اقسام کے کھانوں کا مزہ چکھنے کے بعد لاہور سے کیا

خواجہ سراوں کی زندگی

خواجہ سراوں کی زندگی دہکتے انگاروں پر گھسٹتی ہے ۔شاید ہم اس قدر بے حس ہو گئے ہیں کہ ہمیں ان تڑپتی زندگیوں کے دکھ درد کا ادراک ہی نہیں بلکہ ہم کسی نہ کسی طرح ان انگاروں میں تپش بڑھانے کا سبب بن رہے ہیں۔