انسانی حقوق کا عالمی دن--- جدوجہد جاری رہے گی ۔ اداریہ

انسانی حقوق کا عالمی دن--- جدوجہد جاری رہے گی ۔ اداریہ

ایک ایسے وقت میں جب پاکستان میں انسانی حقوق کے کارکن ریاستی اور غیر ریاستی عناصر کے ہاتھوں رضا محمود خان یا سبین محمود کی طرح لاپتہ ہونے،یا مار دیئے جانے کے شدید خطرے سے دوچار ہیں، آج دنیا بھر میں انسانی حقوق کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ گزشتہ چند برس کے دوران پاکستان سمیت دنیا بھر میں بنیادی آزادیاں محدود ہوئی ہیں، پاکستان سمیت بیشتر ممالک میں دہشت گردی کو جواز بنا کر انسانی حقوق کو حاصل آئینی تحفظ کا نظام کمزور ہوا ہے اور جمہوری عمل تنگ نظر اور بنیاد پرست مذہبی و قومی جماعتوں کے دباؤ کاشکار ہوا ہے۔ عالمی سطح پر جاری اسلامی دہشت گردی، علاقائی تنازعات ، اور قوم پرست، نسل پرست اور مذہبی سیاسی قوتوں کے فروغ نے انسانی حقوق اور آزادیوں کے لئے جاری کوششوں کو نقصان پہنچایا ہے۔ بالخصوص پاکستان میں ریاستی اداروں اور غیر ریاستی مذہبی عناصر اتنے طاقتور ہیں ان کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی اطلاعات سامنے لانے اور سزا دینے کا نظام مفلوج اور غیر موثر ثابت ہوتاہے ۔ عدلیہ اور منتخب نمائندوں کی جانب سے لاپتہ افراد کے معاملے میں لاچارگی قابل افسوس اور تشویش ناک ہے۔ حال ہی میں لاہور سےلاپتہ ہونے والے انسانی حقوق کے کارکن رضا محمود خان کا معاملہ اس بات کا ثبوت ہے پاکستان میں انسانی حقوق کے لئے آواز اٹھانے والے محفوظ نہیں۔ شدت پسند سیاسی مذہبی گروہ تحریک لبیک یا رسول اللہ کے حالیہ دھرنے پر گفتگو کے بعد ان کی گمشدگی ایک خطرناک اتفاق ہے، ویسا ہی خطرناک جیسا اس سے قبل جبری طور پر لاپتہ کیے گئے بلاگرز کا عسکری اداروں پر طنز اور تنقید کرنے کی جرات کرنا تھا۔

عسکری ادارے اور شدت پسند غیر ریاستی عناصر خوف زدہ کرنے اور خاموش کرانے کی حکمت عملی پر اپنے اپنے طور پر عمل پیرا ہیں اور سیاسی جماعتوں اور جمہوری قوتوں کو بری طرح پسپا کر دیا گیا ہے۔ پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے واقعات متواتر اور سنگین ہیں اور ان میں عسکری ادارے اور غیر ریاستی عناصر کے ملوث ہونے کے آثار محض تاثر یا اتفاق نہیں۔ اس گمان کو اس امر سے تقویت ملتی ہے کہ ایک جانب ریاستی اداروں کے دباؤ پر ایسی قانون سازی کی گئی ہے جوان اداروں کے انسانی حقوق سے متصادم اقدامات کو قانونی تحفظ فراہم کرتی ہے، تو دوسری جانب مذہبی بنیاد پرست گروہ اور ریاستی ادارے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر سزا سے عملاً مستثنیٰ ہیں۔

یہ پاکستان میں یقیناً جبر کے ایک اور تاریک اور مایوس کن دور کا آغاز ہے، جب ایک جانب جمہوری عمل کمزور ہے، منتخب سیاسی جماعتیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور شدت پسندی کے متشدد مظاہر پر خاموش ہیں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر مواخذہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ ایسے میں انسانی حقوق کے کارکنان کی ذمہ داریاں مزید بڑھ جاتی ہیں۔ یہ وقت انسانی حقوق کے لئے پرامن اور مسلسل جدوجہد جاری رکھنے کا ہے، یہ وقت دنیا بھر میں انسانی حقوق کی ہمہ قسم خلاف ورزیاں خواہ وہ کسی بھی رنگ، نسل، صنف یا قومیت کے افراد کے خلاف ہوں کے خلاف ہوں پر آواز اٹھانے کا ہے، یہ وقت انسانی حقوق کے عالمی منشور کے تحت سب افراد کا بلا تفریق مساوی حیثیت دلانے کے لئے کوشش کرنے کا ہے۔

عالمی سطح پر #MeToo جیسی تحریک کی کامیابی یہ بتاتی ہے کہ جلد یا بدیرمذہبی شدت پسندی، نسل پرستی اور قومیت پرستی کے خلاف مقامی اور عالمی جدوجہد ایک بہتر مستبل تعمیر کرے گی۔ ہماری تاریخ فوجی آمریت، معاشی استحصال اور مذہبی شدت پسندی کے خلاف جدوجہد کی تاریخ ہے اور عسکریت پسند مذہبی بنیاد پرستی، ریاستی اداروں کے ماورائے آئین اقدامات اور کمزور جمہوری نظام کے باوجود پاکستان میں انسانی حقوق کی جدوجہد جاری رہے گی۔

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

ایک لبرل اور جمہوری پاکستان - اداریہ

پاکستان کے وزیراعظم میاں نواز شریف نے ہندو برادری کو یقین دہانی کرائی ہے کہ اگر ان پر ظلم ہوتا ہے اور ظالم مسلمان ہے تو وہ ہندو برادری کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ دیوالی وہ دوسرا موقع ہے جب وزیراعظم نواز شریف نے پاکستان کو مساوات، برداشت اور رواداری پر مبنی ایک لبرل اور جمہوری پاکستان بنانے کا اعادہ کیا ہے۔

Editorial - Issue 5

Whenever Pakistan is discussed in an optimistic light there are a few factors that are usually mentioned, including its geo-political position,

علم دین یا سر سید احمد خان-اداریہ

دو فروری 2015 کودہشت گردی سے متاثرہ پاکستان کی منتخب اسمبلی میں فرانسیسی ہفت روزہ شارلی ایبڈوپر حملہ آور دہشت گردوں کے لواحقین اور اس ہفت روزہ کے مالک کو قتل کرنے والے کے لیےانعامی رقم کا اعلان اور اس پر حزب اختلاف اور حکمران جماعت کی خاموشی یہ ظاہر کرنے کے لیے کافی ہے پاکستان میں دہشت گردی کی ترویج کا نظریاتی عمل ابھی بھی سرکاری سرپرستی میں جاری ہے۔