انقلاب کا لازمی مگر بھولا سبق

انقلاب کا لازمی مگر بھولا سبق

سماجی بہتری اور طبقاتی فرق کا خط مستقیم ازل سے ہی پریشان چلا آیا ہے۔جاگیر دارانہ نظام ہو یا کلیسا کی بالا دستی کا سماں،سر پھرے اذہان معاشرتی تبدیلی کا خواب آ نکھوں میں سجائے صوت ہزار کا موسم دیکھنے کے منتظر ہوتے ہیں لیکن کبھی پنوشے تو کہیں ڈیگال آڑے آ تا ہے۔انقلاب کے دنوں کی مصروفیت اور ہوتی ہے، سکون کی اور۔۔۔ لیکن اس تمام عمل کے دوران بنیادی اسباق کو ذہن نشین رکھنا چاہیئے تا کہ سمت کے تعین میں دشواری پیش نہ آئے۔ تاریخ زمانہ نے کئی آسمانی اور زمینی انقلابات کا مشاہدہ کیا ہے لیکن جو انقلابی فضا پاویل ولاسوف اور اس کی بستی میں تشکیل پاتی ہے،دنیا کا کوئی بھی انقلاب اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔

میکسم گو رکی کی شہرہ آفاق تصنیف ماں ڈکنز کے الفاظ میں تبدیلی قلب کا ایک ایسا نمونہ ہے جو کسی بھی انقلابی تحریک کا منشور اعظم ہے۔ باپ کے انتقال کے بعد واڈکا کے نشے سے لڑکھڑاتا نوجوان یکا یک کس طرح دنیا بھر کے مزدوروں کا نمائندہ بن جاتا ہے؟ کیوں اس کی ماں نیلو ونا روایتی تہذیب میں رہتے ہوئے ایک غیر روایتی کردار ادا کرتی ہے ؟اس کی ازسر نو تفہیم آج کل کی وسائل سے لبریز دنیا کے محروموں کے لئے ایک سبق ہے کیونکہ بر صغیر پاک و ہند سامراجیت کے خاتمے میں مارکسزم اور سوشلزم سے مدد لے سکتا تھا مگر ہمارے دانشور شاید مقامی زبانوں کے ساتھ ساتھ عالمی منشور انقلاب سے بھی نہ جڑ سکے اور نتیجہ استحصالی قوتوں کے حق میں برآ مد ہوا۔

انقلابی بیٹوں کے علاوہ ماں کا مطالعہ ہماری ماؤں کے لئے بھی لازم ہے کیونکہ نیلوونا کا کردار دراصل پو رے ناول پر حاوی ہے۔وہ نہ صرف انقلابیوں کی جدوجہد کا حصہ بنتی ہے بلکہ انقلابی لٹریچر کی بحافظت ترسیل بھی اس کی ذمہ داری ہے جسے اس نے بخوبی سر انجام دیا۔صداقت کا جو سفر ایک کمرے سے شروع ہوا تھا اسے ماں کے اخلاص اور غیر معمولی محنت نے ہی بام عروج پر پہنچایا۔ماں کا حاصل مطالعہ صرف کمیونسٹ دوستوں کے لئے کارآمد نہیں بلکہ یہ ایک عالمی تصنیف ہے جس کا شاید نعم البدل ملنا ممکن نہ ہو۔ اسی لئے تو گو رکی کا ہر شارح اور سماجی مفکر متفق علیہ ہے کہ پا ویل کے ساتھیوں کا ماں کو اپنی ماں کہنا اور سمجھنا اس خواب کی تعبیر تھا جو ایک انصاف، برابری اور ترقی پسند معاشرے کی صورت میں دنیا کے ہر محنت کش نے دیکھا تھا۔

پیشہ ورانہ تربیت کا کو ئی بھی نصاب گورکی کے ناول ماں کا مقابلہ نہیں کر سکتا اور عصر حاضر میں جہاں مارکیٹ اکانومی نے ماں باپ کو یکساں مصروف کر دیا ہو ،بچے عدم تو جہ اور جنسی ہراسانی کا شکار ہوں وہاں ایسا ادب ہی ہے جو ہمارے ذہنو ں کی تطہیر کر سکتا ہے کیونکہ عالمی اقدار کا پھیلاؤ ماں کا اولین مقصد ہے۔

ہمت،لگن ،انصاف اور سماجی تربیت اگر انسانی شکل میں مجسم ہو کر سامنے آ جائیں تو نیلوونا کی ہی شبیہ بنتی نظر آتی ہے۔اس کی گرفتاری کا منظر ہو یا اس کے بیٹے کی، شفیق مسکراہٹ اور حوصلہ اس کے آس پاس رقص کرتے ہیں کیونکہ 110 سال سے جوان ماں تا قیامت زندہ رہنے والی کتاب ہے اور اس کو ہم سب کے سرہانے موجود ہونا چاہیئے۔

Muneeb Hassan

Muneeb Hassan

منیب الحسن رضا جامعہ کراچی سے اردو ادب میں ایم اے کی سند کے ساتھ طلائی تمغہ حاصل کر چکے ہیں اور شھر کراچی کی ادبی محافل میں باقاعدگی سے شریک ہوتے ہیں۔ مغربی ادب کا تقابلی موازنہ ان کا خاص میدان ہے۔ ایک نجی میڈیا چینل سے بھی منسلک ہیں۔ ادبی اور سماجی موضوعات پر باقاعدگی سے لکھتے رہتے ہیں


Related Articles

Birds of Sialkot

کوئٹہ کے ماما غلام رسول اور سیالکوٹ کے کامران سلیم کا دکھ ایک ہے مگر رونے کا انداز الگ ہے ۔

The King’s Speech

Rab Nawaz The King’s Speech, tipped to win big at this year’s Oscars, is a rich, absorbing British drama chronicling

ظروف سازی کی دم توڑتی روایت

رہن سہن کھانا پینا اور اوڑھنا بچھونا مہذب معاشرت کی پہلی نشانیاں تھیں۔ تین قدیم تہذیبیں جن میں ایک دریائے دجلہ اور دریائے فرات کے کنارے عراق میں میسوپوٹامیہ کی تہذیب ہے، دوسری دریائے نیل کے کنارے مصر اور تیسری وادی سندھ کی تہذیب ہے سبھی جگہ ظروف سازی کی روایت اور صنعت موجود تھی۔