انڈہ

انڈہ

مصنف: اینڈی وئیر

ترجمہ: عاصم بخشی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تم اپنے گھر کے راستے میں تھے جب تمہاری موت واقع ہوئی۔

یہ ایک کار  حادثہ تھا۔ کچھ خاص غیرمعمولی نہیں لیکن بہرحال مرگ آور۔تم نے اپنے پیچھے بیوی اور دو بچے چھوڑے۔یہ ایک بے اذیت موت تھی۔ہسپتال کے تکنیکی عملے نے پوری کوشش کی لیکن تم جانبر نہ ہو سکے۔ تمہارا جسم اس حد تک مسخ ہو چکا تھا کہ یقین کرو اچھا ہی ہوا۔

یہی وہ لمحہ تھا جب ہماری ملاقات ہوئی۔

‘‘ہائیں! یہ کیا ہوا؟’’،  تم نے کہا۔‘‘میں کہاں ہوں؟’’

‘‘تمہاری موت واقع ہو گئی،’’ میں نے حقیقت پسندانہ لہجے میں کہا۔آئیں بائیں شائیں کرنے کی ضرورت بھی کیاتھی۔

‘‘ایک ٹرک۔۔۔پھسلتا ہوا آ رہاتھا۔۔۔’’

‘‘بالکل،’’ میں نے کہا۔

‘‘میں۔۔۔کیا میں مر چکا ہوں؟’’

‘‘ہاں۔ لیکن اس میں بُرا محسوس کرنے کی کوئی بات نہیں۔ ہر کوئی مرتا ہے،’’ میں نے کہا۔

تم نے اردگرد نظر دوڑائی۔ ہر طرف خالی پن تھا۔ صرف میں تھا اور تم تھے۔

‘‘یہ کیا جگہ ہے؟’’ تم نے پوچھا۔‘‘کیا یہ حیات بعد الموت ہے؟’’

‘‘کم وبیش،’’ میں نے کہا۔

‘‘کیا تم خدا ہو؟’’  تم نے پوچھا۔

‘‘ہاں،’’ میں نے جواب دیا۔‘‘میں خدا ہوں۔’’

‘‘میرے بچے۔۔۔میری بیوی،’’  تم نے کہا۔

‘‘ان کا کیا؟’’

‘‘کیا وہ ٹھیک ٹھا ک ہوں گے؟’’

‘‘میں یہی دیکھنا چاہتا ہوں،’’ میں نے کہا۔‘‘تم ابھی ابھی مرے اور تمہاری پہلی پریشانی تمہارا خاندان ہے۔یہ بہت اچھی بات ہے۔’’

تم نے میری طرف حیرانی سے دیکھا۔تمہیں میں خدا کی طرح تو نہیں لگ رہا تھا۔بس ایسا ہی نظر آتا تھا جیسے کوئی بھی اجنبی مرد۔یا ممکن ہے عورت۔ یا شاید کوئی مبہم سی بااختیار شخصیت۔ خدا کی بہ نسبت کسی پرائمری اسکول کا استاد۔

‘‘پریشانی کی کوئی بات نہیں،’’  میں نے کہا۔ ‘‘وہ بھلے چنگے ہیں۔تمہارے بچے تمہیں ہر صورت ایک مکمل شخص کے طور پر یاد رکھیں گے۔ان کے پاس تم سے بدظن ہونے کا وقت ہی نہیں تھا۔تمہاری بیوی اوپر  اوپر سے تو ماتم زدہ  نظر آئے گی لیکن اندر سے اطمینان محسوس کرتی ہو گی۔بھئی صاف بات ہے کہ تمہاری شادی شدہ زندگی بکھر رہی تھی۔ہاں اگر یہ خیال تمہیں کچھ سکون دیتا ہے تو یوں کہہ لو کہ وہ اس اندرونی اطمینان پر شرمسار ہوگی۔’’

<iframe width="560" height="315" src="https://www.youtube.com/embed/ehRggplMieM" frameborder="0" gesture="media" allow="encrypted-media" allowfullscreen></iframe>

‘‘اوہ،’’  تمہارے منہ سے نکلا۔‘‘تو اب کیا ہو گا؟ کیا میں جنت یا جہنم میں جاؤں گا یا کچھ اور؟’’

‘‘ان میں سے کچھ بھی نہیں،’’ میں نے کہا۔‘‘تمہیں نیا جنم ملے گا۔’’

‘‘آہ،’’ تم نے کہا۔‘‘تو ہندو درست تھے۔’’

‘‘تمام مذاہب ہی اپنے تئیں درست ہیں،’’ میں بولا۔‘‘ میرے ساتھ آؤ ۔’’

ہم خلا میں لمبے لمبے ڈگ بھرنے لگے۔‘‘ہم کہاں جا رہے ہیں؟’’

‘‘کسی خاص جگہ نہیں،’’ میں نے کہا۔‘‘بس چہل قدمی کے ساتھ گپ شپ ذرا مزا دیتی ہے۔’’

‘‘تو آخر مقصد کیا ہے؟’’ تم نے پوچھا۔‘‘جب میں دوبارہ جنم لوں گا تو ایک خالی تختی ہوں گا نا؟ ایک بچہ۔ لہٰذا اس زندگی کے سارے اعمال و تجربات بس اکارت جائیں گے۔’’

‘‘ہرگز نہیں!’’ میں نے کہا۔‘‘تمہارے اندر اپنے سارے  گزرے جنموں کا علم اور تجربہ موجود ہے۔بس تمہیں ابھی وہ یاد نہیں۔’’

میں چلتے چلتے رکا اور تمہیں دونوں کندھوں سے تھام لیا۔‘‘تمہاری روح تمہارے تصور سے بھی زیادہ پُرشکوہ، خوبصورت اور دیوقامت ہے۔انسانی ذہن میں بس تمہاری حقیقت کی ایک ننھی سی مقدار ہی سما سکتی ہے۔یہ کسی گلاس میں انگلی ڈال کر یہ جانچنے کی طرح ہے کہ وہ گرم ہے یا سرد۔ تم اپنے آپ کا ذرا سا حصہ برتن میں ڈال کر باہر نکالتے ہو تو اندر موجود تمام تر تجربات حاصل کر چکے ہوتے ہو۔تم پچھلے اڑتالیس سال سے ایک انسان کے اندر ہو او ر پھیل کر اب تک اپنے باقی ماندہ بے پایاں شعور کو محسوس نہیں کر سکے۔اگر ہم یہاں خاطرخواہ رکے رہیں تو تمہیں سب یاد آنا شروع ہو جائے گا۔ لیکن دو جنموں کے دوران یہ  سب کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔’’

‘‘تو میں کتنے جنم لے چکا ہوں؟’’

‘‘اوہ، متعدد۔ کتنے ہی زیادہ۔اور کتنی ہی مختلف زندگیوں میں،’’ میں نے کہا۔‘‘اس بار تم ۵۴۰عیسوی میں ایک چینی کسان لڑکی ہو گے۔’’

‘‘ذرا ٹھہرو، کیا؟’’  تم ہکلائے۔‘‘تم مجھے ماضی میں بھیج رہے ہو؟’’

‘‘ہاں تکنیکی طورپر تو شاید ایسا ہی ہے۔ وقت، جیسا کہ اسے تم جانتے ہو، صرف تمہاری کائنات میں ہی موجود ہے۔ جہاں سے میں آیا ہوں وہاں صورتِ حال مختلف ہے۔’’

‘‘تم کہاں سے آئے ہو؟’’ تم نے کہا۔

‘‘اوہ یقیناً،’’ میں نے وضاحت کی۔‘‘میں کہیں سے تو آیا ہوں۔ کسی دوسری جگہ سے۔ اور میرے جیسے دوسرے بھی ہیں۔مجھے معلوم ہے تم جاننا چاہو گے کہ وہاں سب کچھ کیسا ہے لیکن یقین مانو تم نہیں سمجھ سکتے۔’’

‘‘اوہ،’’ تم نے ذرا مایوسی سے کہا۔‘‘لیکن سنو، اگر میں وقت کے سلسلے میں مختلف جگہوں پر جنم لیتا ہوں تو کسی نہ کسی وقت خود سے بھی مڈبھیڑ ہو سکتی ہے۔’’

‘‘یقیناً۔ایسا ہوتا ہی رہتا ہے۔اور چونکہ دونوں زندگیاں صرف عمر کا ادراک رکھتی ہیں اس لئے پتہ بھی نہیں چلتا کہ اصل  واقعہ کیا ہے۔’’

‘‘تو پھر آخراس سب کا مقصد کیا ہے؟’’

‘‘واقعی؟’’ میں نے پوچھا۔‘‘میرا مطلب ہے تم سنجیدگی سے حیات کے معنی جاننا چاہتے ہو؟ کیا یہ ذرا ڈھیلا ڈھلایا سا کلیشے نہیں؟’’

‘‘یہ ایک معقول سوال ہے،’’ تم اپنے سوال پر اڑے رہے۔

میں نے تمہاری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا۔‘‘حیات کے معنی یعنی میرے لئےاس ساری کائنات کی تخلیق کا مقصد یہ ہے کہ تم بالغ ہو جاؤ۔’’

‘‘تمہارا مطلب ہے انسانیت؟  یعنی تم چاہتے ہو کہ ہم بالغ ہو جائیں؟’’

‘‘نہیں، صرف تم۔میں نے یہ پوری کائنات تمہارے لئے تخلیق کی ہے۔ ہر نئی زندگی کے ساتھ تم پھلتے پھولتے ایک جسیم و عظیم گیانی بن جاتے ہو۔’’

‘‘صرف میں؟ باقی سب کا کیا؟’’

‘‘دوسرا کوئی ہے ہی نہیں،’’ میں نے کہا۔‘‘اس کائنات میں صرف میں اور تم ہی تو ہیں۔’’

تم نے خالی خالی نظروں سے میری طرف دیکھا۔‘‘لیکن زمین پر موجوداتنے بہت سے لوگ۔۔۔’’

‘‘ہر ایک تم۔ تمہارے مختلف جنم۔’’

‘‘ہائیں! میں ہر کوئی ہوں!’’

‘‘اب تم بات سمجھے،’’ میں نے شاباشی سے تمہاری کمر تھپتھپائی۔

‘‘میں ہر ایک انسان ہوں جو کبھی بھی تھا؟’’

‘‘اور کبھی بھی ہو گا، ہاں۔’’

‘‘میں ابراہام لنکن ہوں؟’’

‘‘اور تم جان ولکس بوتھ بھی،’’  میں نے لقمہ دیا۔

‘‘میں ہٹلر ہوں؟’’  تم نے ہیبت زدہ ہوتے ہوئے کہا۔

‘‘اور وہ لاکھوں لوگ بھی جنہیں اس نے قتل کیا۔’’

‘‘میں عیسیٰ ہوں؟’’

‘‘اور ہر کوئی جس نے اس کی اتباع کی۔’’

تم خاموش  ہو گئے۔

‘‘تم نے جب بھی کسی کو نشانہ بنایا،’’ میں نے کہا،‘‘تم آپ اپنا نشانہ بنے ۔ کوئی بھی نیکی کی تو اپنے ساتھ کی۔کسی بھی انسان کا کوئی بھی مسرت و غم کا لمحہ دراصل خود تمہارا  ہی تجربہ تھا اور ہو گا۔’’

تم نے کافی دیر سوچا۔

‘‘کیوں؟’’ تم پوچھا۔‘‘آخر یہ سب کس لئے؟’’

‘‘کیوں کہ کسی دن تم میرے جیسے بن جاؤ گے۔ کیوں کہ تم یہی ہو۔ تم میری ہی نوع سے ہو۔میرے بچے ہو۔’’

‘‘ہائیں،’’ تم نے بے یقینی کے عالم میں کہا۔‘‘تمہارا مطلب ہے میں خدا ہوں؟’’

‘‘نہیں۔ ابھی نہیں۔ ابھی تو تم جنین ہو۔ مسلسل بڑھ رہے ہو۔ایک دفعہ تم وقت کے کُل پھیلاؤ میں موجود ساری زندگیاں جی لو تو پیدائش کے قابل ہو جاؤ گے۔’’

‘‘تو یہ ساری کائنات،’’ تم نے کہا،‘‘یہ صرف۔۔۔’’

‘‘ایک انڈہ ہے۔’’ میں نے جواب دیا۔‘‘چلو اب اگلے جنم کا وقت ہو گیا۔’’

اور یوں میں نے تمہیں اپنی منزل کی جانب روانہ کر دیا۔

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

ایک قیدی کا خط

قیدی ضروری نہیں مجرم بھی ہو،بسااوقات خود ساختہ اورنام نہاد مقتدر گروہوں کے تخلیق کردہ ’’تعصب‘‘رنگ ، نسل، ذات اور عقیدے کی بنیاد پرہمارے پر کُتر دیتے ہیں، پھر ہمارا نصیب زندان کی اونچی دیواروں کو تکنا رہ جاتا ہے اورہماری نسلیں تک قیدی بن جاتی ہیں۔

تمغہ

علی اکبر ناطق: میرے کان پولیس کے ترانوں سے گونجتے رہے اور میں آہستہ آہستہ قدم اُٹھاتاہوا اسٹیج کی طرف بڑھتا گیا۔ حتیٰ کہ دو تین قدم چلنے کے بعد میری حالت میں اعتدال آگیا۔ بالآخر مَیں نے بھی اپنا میڈل ترانوں اور نعروں کے شور میں وصول کر لیا۔

پھیری والا چڑیا گھر

ڈاکٹر احمد حسن رانجھا: گلے میں چھتروں کا ہار اور منہ پر کالک مل کر پورے میلے میں پھیرایا گیا۔ لوگ انہیں مڑ مڑ کر ایسے دیکھ رہے تھے جیسے وہ پھیری والے چڑیا گھر کے بندر ہوں۔ یہ تماشہ تو انہیں دس روپے کے ٹکٹ کے بغیر ہی میسر آگیا تھا۔