انھیں معلوم کیا ہے؟

انھیں معلوم کیا ہے؟
کہ برفیلے دنوں میں لاکھ پنجھی مرگئے ہوں
ساتھیوں کا جس قدر ناقابل تسخیر دکھ ہو
ایک دن پھر ایک نغمہ گونجتا ہے
زندگانی جاگ اٹھتی ہے
 
ندی کو برف نے مغلوب جتنا کر لیا ہو
اک توانا تیز انگڑائی سے جب بیدارہوتی ہے
تو مرگِ برف ہوتی ہے
 
درختوں میں اندھیرا بولتا ہو
اک شعاعِ نور سے اک روز وہ بھی جگمگا اٹھتا ہے
 
لہو میں برف جمتی جا رہی ہو
سانس بھی معدوم ہوتا جا رہا ہو
 
کہیں اک بیج پورے پیڑ کو آغوش میں لے کر
دبا ہو برف میں
برفیلی درزوں سے نمو کرتا نکلتا ہے
 
لہو کی سرد رو سے نیند جتنی بھی جڑی ہو
ایک برفیلی گپھا میں
ایک گابھن ریچھنی
جنتی ہے بچے
اور اس کی چھاتیوں سے
لاکھ نورانی شعاعیں پھوٹ پڑتی ہیں
 
گلہری پورے جنگل کو دبا کر بھول جاتی ہے
مگر اک دن خزانہ ڈھونڈ لیتی ہے
 
ستم کا دور آخر ختم ہوتا ہے
 
انہیں معلوم کیا ہے
 
مرنے والے تب مرا کرتے ہیں
سوچوں کو شہید اور خوشبوؤں کا قتل ہو
 
قاتل، بدن کی جنگ جیتیں گے
مگر سوچیں کہاں مغلوب ہوں گی
یہ دریا کب رکیں گے
درختوں پر ثمر آتا رہے گا
ندی بھی جوش تو کرتی رہے گی
 
پنچھیوت کے گیت بھی بہتے رہیں گے
پھول بھی کھلتے رہیں گے
 
سوچ کے یہ سلسلے چلتے رہیں گے


Related Articles

Rape, Football Matches and Us

Trivialized references to rape are ubiquitous and pervasive, on the one hand, and normalized and deeply rooted, on the other, in not only Pakistani society, but also around the world.

“Mitchell-Angelo”

I’m a maestro at this art of “Mitchcraft”,
But I draw humiliated, solemn faces,
They call me “Mitchell-Angelo”

آج کا تیسرا شمارہ؛ تاثراتی جائزہ

• بظاہر ہم بہت سی باتوں کے متعلق محسوس کرتے ہیں کہ یہ ہی ہمارا جذبہ صادق ہے، لیکن کسی