ان چکھے گناہ کی مٹھاس

ان چکھے گناہ کی مٹھاس

میں لذت کی شیرینی میں لتھڑے ہونٹ
اپنی ہوس کی بے صبری زبان سے چاٹ رہا ہوں
مٹھاس میرے پورے وجود میں اتر گئی ہے
مگر زبان چپڑ چپڑ چاٹتی چلی جاتی ہے
مسلسل شیرینی چاٹتے چاٹتے
زبان اور ہونٹوں پر زخم نمودار ہو گئے ہیں
اپنے ہی خون کی کڑواہٹ حلقوم میں اترتی ہے تو
چونک اٹھتا ہوں ۔۔۔۔۔
کہ سامنے قفط میں ہوں اور خون کی کڑواہٹ
مگر وہ گناہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جس کی لذت ابھی ابھی میرے بدن میں اتر رہی تھی
میرے عقب میں کھڑا
آئینے میں میرا منہ چڑا رہا ہے۔

Image: Gerard Reyes by Alejandro Santiago

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

بلاسفیمی

عطا تراب: منادی ہے
کہ جگنو جگمگاتے ہیں
تو سورج دیوتا کی شان و شوکت
ماند پڑتی ہے

اَلایَلَلّی

جون ایلیا:میں اپنے چاروں طرف سے کتنی ہی اپنی لاشوں کا انبوہ سَہ رہا ہوں
میں اپنے بیروں کے اندروں میں نڈھال ہوں اور ڈھے رہا ہوں
مرے جنازے اٹھائے جاتے ہیں، مرے کاندھوں پہ لائے جاتے ہیں

برزخ دھندلے خوابوں کا

نصیر احمد ناصر: اک عمر کا سارا قصہ ہے
دکھ درد خوشی کا حصہ ہے