اونچی شلوار اور تاریخ کا ٹھنڈا گوشت

اونچی شلوار اور تاریخ کا ٹھنڈا گوشت
ابھی دفتر پہنچا ہی تھا کہ ظفر بھائی (ظفر معراج ) کا ایس ایم ایس آیا ۔لکھا تھا "جاوید چوہدری کا کالم پڑھو"۔ کالم پڑھا عنوان تھا "الٹی شلواریں ٹھنڈے گوشت "۔کالم پر بات کرنے سے پہلے اور اپنا تبصرہ آپ کی خدمت میں پیش کرنے سے پہلے جاو ید چودھری کے ایک ٹی وی شو کو آپ کے سامنے رکھنا چاہوں گا۔ ایکسپریس ٹیلی وژن پر اپنے پروگرام "کل تک "کا ایک پروگرام ہمارے ممدوح نے اس بات سے شروع کیا کہ ایک وقت تھا جب دنیا میں پاکستانی پاسپورٹ کو بڑی عزت اور قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا ۔ ثبوت کے طور پر انہوں نے انیس سو اکسٹھ میں صدر ایوب کے دورہ امریکہ کی ویڈیو فٹیج چلائی اور کہا کہ دیکھیں کس طرح امریکی صد رجان ایف کینڈی خود صدر ایوب کا استقبال کرنے ایر پورٹ پر آیا تھا ۔اس سارے تبصرے میں انہوں نے ایک بار بھی اس بات کا ذکر کرنا مناسب نہیں سمجھا کہ اس وقت پاکستان سوویت یونین کے خلاف امریکہ کا اتحادی تھا اور امریکہ کو سرخ خطرے کے خلاف لڑنے کے اپنی خدمات کی بار بار یقین دہانی کروانے کے بعد اس مقام تک پہنچا تھا ۔بہار انیس سو اکسٹھ میں امریکی نائب صدر جانسن نے پاکستان کا دورہ کیا تو صد ر ایوب نے فوجی امداد لینے کے جانسن کو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ پاکستان امریکہ کو سوویت یونین کے مقابلے میں ناکام ہوتا نہیں دیکھ سکتا اور امریکہ کا دشمن پاکستان کا دشمن ہے ۔ یہاں زیادہ تفصیل کی گنجائش نہیں ہے کیونکہ ہم اپنے اصل موضوع سے ہٹ جائیں گے ۔مزید تفصیل کے لیے حسین حقانی کی کتاب Magnificent Delusions دیکھی جا سکتی ہے ۔موصوف نے تاریخ کو نہ تو پڑھنے کی زحمت کی اور نہ ہی اسے سمجھنے اور تجزیہ کرنے کی کوشش یا شاید ریٹنگ کے چکر میں آپ نے اس بات پر غور ہی نہیں کیا کہ قوم اس سے گمراہ ہو گی ۔لیکن جس شخص کو آپ شرابی کہتے ہیں اس نے چچام سام کے نام اپنے چوتھے خط میں صدر ایوب کے دورہ امریکہ سے کوئی دس سال پہلے امریکی امداد اور اس کے مضمرات کا تجزیہ کر دیا تھا آپ بھی ملاحظہ کر لیں شاید کہ کچھ کام آ جائے
افسوس کہ جاوید چودھری صاحب کوئی فکر انگیز تبصرہ پیش کرنے کی بجائے تاریخ کی ایک من گھڑت تشریح کرنے میں جت گئے

" آپ پاکستان سے فوجی امداد کو معاہدہ ضرور کریں گےاس لیے آپ کو اس دنیا کی سب سے بڑی اسلامی سلطنت کے استحکام کی بہت زیادہ فکر ہے اور کیوں نہ ہو اس لیے کہ یہاں کا ملا روس کے کمیونزم کا بہترین جوڑ ہے فوجی امداد کا سلسلہ شروع ہوگیا تو آپ سب سے پہلے ان ملاﺅںکو مسلح کیجئے گا ان کے لئے خالص امریکی ڈھیلے ، خالص امریکی تسبیحیں اور خالص امریکی جائے نمازیں روانہ کیجیئے گا استروں اور قینچییوں کو سرفہرست رکھیے گا ، خالص امریکی خضاب لاجواب کا نسخہ بھی اگر آپ نے ان کو مرحمت کردیا تو سمجھیے پو بارہ ہیں فوجی امداد کا مقصد جہاں تک میں سمجھتا ہوں ان ملاﺅں کو مسلح کرنا ہے"۔
افسوس کہ جاوید چودھری صاحب کوئی فکر انگیز تبصرہ پیش کرنے کی بجائے تاریخ کی ایک من گھڑت تشریح کرنے میں جت گئے۔ کچھ ایسا ہی انہوں نے فلم منٹو دیکھنے کے بعد منٹو کے ساتھ کیا۔اس کی ایک وجہ تو سمجھ آتی ہے کہ فلم سے کچھ ایسا ہی تاثر ملتا ہے کہ منٹو ایک شرابی آدمی تھا جس نے بیٹی کی دوائی پر اپنی شراب کو ترجیج دی ۔ فلم منٹو کو جس انداز میں پیش کرتی ہے اس سے جاوید چودھری جیسا شخص یہی نتیجہ نکال سکتا تھا کہ
"ہمیں یہ حقیقت ماننا ہو گی، سعادت حسن منٹو خود اپنی ذات کے ولن تھے، منٹو کو کسی دوسرے شخص نے نہیں مارا، منٹو کو خود منٹو نے قتل کیا، منٹو کی ذات میں چھپا شرابی، ضدی، بے حس اور فحش سعادت حسن دنیا کے عظیم افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کا قاتل تھا، منٹو کو سماج، فسادات اور چوہدری محمد حسین جیسے محب وطن لوگوں نے پریشان نہیں کیا، اسے شراب اور ضد پی گئی اور یہ اردو کے اس عظیم ادیب کی کہانی کا وہ پہلو ہے جس سے ملک کے ہر اس دانشور، ادیب اور صحافی کو عبرت پکڑنی چاہیے جو اپنی سستی، کاہلی، ضد، بے حسی اور نشے کو ادب ثابت کرنے کی لت میں مبتلا ہے"۔
چودھری محمد حسین اور ان کے پشت پناہی کرنے والوں کے ذہن میں جس طرح کا پاکستان موجود تھا اور وہ جس طرح کا معاشرہ تشکیل دینا چاہتے تھے اس کی عکاسی مولانا اختر علی کے اس بیان بخوبی ہوتی ہے کہ "نہیں نہیں اب ایسا ادب پاکستان میں نہیں چلے گا"۔

مجھے اس نتیجے سے کوئی حیرانی نہیں ہوئی کیونکہ یہ نتیجہ اس منافقانہ ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے جس کی بنیاد ان لوگوں نے رکھی تھی جنہوں نے بانی پاکستانی کی گیارہ اگست کی تقریر کو نہ صرف سنسر کیا بلکہ طویل عرصے تک اس تقریر کو ایک شجر ممنوعہ بنائے رکھا ۔یہ اونچی شلواروں والی وہی ذہنیت تھی جس نے پاکستان کو ایک سخت گیر مذہبی ریاست بنانے کی سرتوڑ کوشش کی ۔جاوید چودھری لکھتے ہیں کہ وہ(چودھری محمد حسین ) پنجاب کی پریس برانچ میں ملازم تھے، وہ منٹو کو فحش نگار سمجھتے تھے اور وہ ہر اس رسالے پر پابندی بھی لگا دیتے تھے جس میں منٹو کا افسانہ چھپتا تھا۔

بھائی چودھری صاحب محمد حسین صاحب خود سے فیصلہ کرنے والے کون ہوتے تھے کہ کیا فحش ہے اور کیا نہیں ۔ منٹو پر فحش نگاری کے الزامات اور پابندیاں عائد کرنے کی بجائے چودھری محمد حسین اور ان لوگوں کی ذہنیت کا تجزیہ ضروری ہے جو منٹو پر فحاشی کا الزام لگا کر ایک تنگ نظر معاشرہ تشکیل دینا چاہتے تھے ۔چودھری محمد حسین اور ان کے پشت پناہی کرنے والوں کے ذہن میں جس طرح کا پاکستان موجود تھا اور وہ جس طرح کا معاشرہ تشکیل دینا چاہتے تھے اس کی عکاسی مولانا اخترعلی کے اس بیان بخوبی ہوتی ہے کہ "نہیں نہیں اب ایسا ادب پاکستان میں نہیں چلے گا "۔یہ وہ بیانیہ تھا جس نے اسٹیبلشمنٹ کو بعد ازاں دانشوروں کے خلاف ایک جواز مہیا کر دیا کہ پاکستان میں ایسا نہیں ہوسکتا اور یہ پاکستان میں نہیں چل سکتا۔اس بیانیے نے پاکستانی معاشرے میں مذہب کے نام پر طاقت میں حصہ بٹورنے کے لیے ایک نئے طبقے کو آگے بڑھنے کو حوصلہ دیا جو اب گلیوں میں دندناتا پھر رہا ہے ۔آج بھی ہر وہ شخص جو مروجہ نظریات کے خلاف آواز بلند کرتا ہے اسے یہی کہہ کر چپ کروایا جاتا ہے کہ ایسا پاکستان میں نہیں چل سکتا (دائیں بازو کے ایک اخبار کے مدیر محترم نے جو اب ایک نوجوان میزبان کے ساتھ ٹی وی پروگرام کرتے ہیں، ڈاکٹر مبارک علی کو ایک ٹاک شو میں کہا تھا کہ یہاں یہ نہیں چل سکتا آپ پھر ہندوستان چلے جائیں) ۔
منٹو کے خلاف مقدمات میں اگر عدلیہ اپنا وزن دائیں بازو میں نہ ڈالتی توآج سخت گیر مذہبی نظریات رکھنے والے قاتلوں اور دہشت گردوں کے خلاف فیصلے سنانے میں اتنی مشکلات نہ پیش آتیں جتنی اب آ رہی ہیں ۔اور جج فیصلہ کرے بیوی بچوں سمیت ملک سے باہر نہ جاتے۔
اگر ہم نے منٹو ٹھیک وقت پر اپنے بچوں کو پڑھنے کے لیے دیا ہوتا تو شاید ہم راولپنڈی کے انٹرنیٹ کیفے اور قصور جیسے سکینڈ لوں کا سامنا نہ کرتے اور خود سے منہ نہ چھپاتے پھرتے
جاوید چودھری صاحب نے چودھری محمد حسین کی جو خدمات گنوائیں ہیں وہ ساری اقبال اور ان کی اولاد کے گرد گھومتی ہیں ۔ ان خدمات کا پاکستانی معاشرے کی تشکیل اور اس کی ذہنی آبیاری سے کیا لینا دنیا۔ ہاں انہوں نے سرکاری ملازم ہونے کے ناطے جو کیا اس نے پاکستان معاشرے میں گھٹن کی فضا کو ضرور جنم دیا ۔اس گٹھن زدہ معاشرے میں جو Social Depressionپیدا ہورہا تھا اس سے فرار منٹو کے پاس شراب کی صورت میں تھا۔ وہ منافق نہیں تھااس نے اس گھٹن کو بے نقاب کیا نا کہ اس پہ تصوف کا لبادہ اوڑھانے ور اشاروں کنایوں میں بات کرنے کی کوکوشش کی ۔یہ وہی گھٹن کی فضا ہے جس میں آج اقبال کے خطبات" تشکیل جدیدالہیات اسلامیہ" کو شائع کرنا محال ہوچکا ہے ۔ اس گھٹی ہوئی فضا کا کرشمہ ہے کہ یاتو ہماری نوجوان نسل نظریاتی الجھنوں کا شکار ہو رہی ہے یاپھر مولویوں کے ہاتھوں "مس گائیڈڈ مزائل "بن کر پھٹ رہی ہے ۔
انہوں نے چودھری صاحب کے ایک خدمت یہ بھی گنوائی ہے کہ
"علامہ صاحب کا مقبرہ بھی چوہدری صاحب نے بنوایا تھا، مقبرے کے لیے ہندوستان، افغانستان اور ایران سے آرکی ٹیکٹ بلائے گئے تھے چوہدری صاحب انھیں فکر اقبال کی روشنی میں ڈیزائن تیار کرنے کی ہدایت دیتے تھے یہاں تک کہ موجودہ مقبرے کا ڈیزائن تیار ہوا، چوہدری صاحب نے خود دھوپ میں کھڑے ہو کر مقبرہ تیار کروایا"۔

"اقبال کا مزار فکر اقبال کی روشنی میں "کیا خوب اس بات کی کسر رہ گئی تھی سو وہ بھی پوری ہو گئی ۔اب کوئی نہ کوئی اقبالیات کا شعبہ اس موضوع پر بھی تحقیقی مقالہ یا تو قبول کر لے گا یا پھر اس پر تحقیق کروائے گا ۔ویسے جاوید چودھری اگر خود پہل کریں اور اس موضوع پر مقالہ تحریر فرما دیں تو شاید انہیں ڈاکٹریٹ کی ڈگر عطا کر دی جائے ۔
چودھری صاحب کالم کے آخر میں لکھتے ہیں کہ
"آپ الٹی شلوار یا ٹھنڈا گوشت نکالیے اور اپنی بہن اور بیٹی کو پڑھنے کے لیے دے دیجیے"۔

بہتر ہوتا کہ کالم تحریر کرنے سے قبل منٹو پر کچھ تحقیق کر لیتے اور فرحانہ صادق کی تحریر کو منٹو کے سر نہ تھوپتے۔ جناب عالی صرف اس قدر عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ٹھنڈا گوشت necrophilia سے متعلق ہے ۔اگر اہم نے اس موضوع پر کام کر لیا ہوتا ، اس کی وجوہ جاننے کی کوشش کی ہوتی تو شاید کراچی اور دیگر شہروں میں قبرستانوں میں لاشوں کے ساتھ جنسی بدسلوکی کو روک لیا جاتا لیکن افسوس کہ یہ واقعات بھی ٹاک شوز کی سنسنی خیزی کی نظر ہوگئے ۔برنارڈ شاہ نے ٹھیک ہی کہا تھا کہ ایک صحافی ایک سائیکل کے حادثے اور تہذیب کے انہدام میں تمیز نہیں کر سکتا۔اگر ہم نے منٹو ٹھیک وقت پر اپنے بچوں کو پڑھنے کے لیے دیا ہوتا تو شاید ہم راولپنڈی کے انٹرنیٹ کیفے اور قصور جیسے سکینڈ لوں کا سامنا نہ کرتے اور خود سے منہ نہ چھپاتے پھرتے۔اور اگر کوئی کہتا ہے کہ منٹو کے افسانے پڑھ کے اس پر جنس سوار ہوجاتی ہے تو اس کے لیے مشورہ ہے کہ اشفاق احمد صاحب کے گرو اور قدرت اللہ شہاب کے پیر ممتاز مفتی کو نہ پڑھے کیونکہ ہو سکتا ہے کہ وہ اس کی تاب نہ لا سکے ۔
Aamir Raza

Aamir Raza

The author is a script writer and freelance journalist.


Related Articles

Paris Attacks: In Defense of Secularist Principles

Months after the Charlie Hebdo incident, ISIS is using fear to polarise communities in the West, to mirror its own twisted vision of ideological purity, where like medieval times, your faith is your uniform on the battlefield.

In Search of Solutions

Mir Ghaus Baksh Bizenjo’s Political Legacy   by Adnan Aamir   In Search of Solutions is the title of the

Caesar’s Senate: Thou Fashion Industry

“Cry Havoc! And Let Slip the Dogs of War”. This immortal phrase of Julius Caesar has maintained its shine for