اَلایَلَلّی

اَلایَلَلّی

جون ایلیا کی یہ طویل نظم 'نئی آگ کا عہد نامہ' ہے جسے جون نے "راموز" کا نام دیا۔ اس نظم کے ہر حصے کے لیے جون نے "لوح" کی اصطلاح استعمال کی۔ ہم محترم خالد احمد انصاری کے ممنون ہیں کہ انہوں نے لالٹین کے قارئین کے لیے ان الواح کی اشاعت کی اجازت دی۔ یہ لالٹین کے لیے اعزاز کی بات ہے کہ اسے ان الواح کی اشاعت کا موقع مل رہا ہے۔ خالد احمد انصاری 1991 سے 2002 کے درمیان جون ایلیا کے نہایت قریب رہے۔ آپ نے جون کا کلام اکٹھا کیا اور اس کی اشاعت کا اہتمام بھی کیا۔ "راموز" کی ایک اور خاص بات اس میں شامل الواح کے لیے دانش رضا کی تصویر کشی ہے۔ دانش رضا کے اجداد امروہہ سے تھے، آپ نے ابلاغِ عامہ اور فائن آرٹس کی تعلیم حاصل کی۔

راموز میں شامل مزید الواح پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
اَلایَلَلّی
مرے اِدھر ہی نہیں اُدھر بھی، مرے وَرے ہی نہیں پرے بھی
جو دیکھنے اور دکھائی دینے میں ہے (وہ جو بھی ہے) میرا قاتل ہے
اور میں ہوں جو ہر طرف قتل ہو رہا ہے
میں اپنے چاروں طرف سے کتنی ہی اپنی لاشوں کا انبوہ سَہ رہا ہوں
میں اپنے بیروں کے اندروں میں نڈھال ہوں اور ڈھے رہا ہوں
مرے جنازے اٹھائے جاتے ہیں، مرے کاندھوں پہ لائے جاتے ہیں
کہاں کہاں دفن ہو رہا ہوں
ہزار لاشوں کا اک جنازہ، کہاں کہاں دفن ہو رہا ہے
یہ مرنے والے عجب ہی کچھ تھے (یہ مرنے والے)
اَلایَلَلّی، اَلایَلَلّی
میں اپنے ہر دفن سے، کفن سے، وجود کا اِک نیا بہانہ اُچک رہا ہوں
(یہ مرنے والا عجب ہی کچھ ہے)
مجھے مری ریزہ ریزہ لاشوں نَو بہ نَو کالُبد ملے ہیں
یہ سب کے سب جا چُکیں تو میں اپنی قبر کھودوں
کہ قبر میری بجز مرے اور کون کھودے گا؟
چلے گئے سب، یہ مرنے والے چلے گئے سب؟
تو، لے میں اب اپنی قبر کھودوں
اور اپنی لاش اپنے آپ میں۔۔۔۔۔ اپنے زندہ سینے میں دفن کر دوں
میں مر چکا ہوں، میں جی اُٹھا ہوں
اَلایَلَلّی، اَلایَلَلّی

Art Work: Danish Raza

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

شہر کا ماتم

علی اکبر ناطق:
زہر در و دیوار کے ڈھانچے کھا جائے گا
شہر کا ماتم کرنے والا کون بچے گا
خون کے آنسو رونے والا کون رہے گا

بینائی

صرف سر نہیں تھے جو کٹے تھے۔۔۔۔۔۔۔
خواہشیں تھیں جو کچلی گئی تھیں

اندھیرا تم سے ہم کلام ہوتا ہے

حٖیظ تبسم:عذرا عباس !
میز پر رکھے تمہارے ہاتھ
انگلیاں بجاتے ہیں
لکیروں کے ساکت ہجوم میں
اور سرگوشی میں پوچھتے ہیں
خود سے پرانے عہد کی داستان