اِس دنیا میں خدا کا ہاتھ ہے

اِس دنیا میں خدا کا ہاتھ ہے
اِس دنیا میں خدا کا ہاتھ ہے
نظم: یاہودا امیخائی
ترجمہ : زاہد اِمروز

(۱)
اِس دنیا میں خدا کا ہاتھ ہے
جس طرح ہفتے کی شام میری ماں کا ہاتھ
ذبح کی ہوئی مرغی کی انتڑیوں میں ہوتا ہے
جب خدا کے ہاتھ زمین تک پہنچتے ہیں
وہ کھڑکی میں سے کیا دیکھتا ہے؟
اِسی طرح
میری ماں کیا دیکھتی ہے؟
(۲)
میرا دُکھ میرا جدِ امجد ہے
اِس نے میرے دُکھوں کی دو نسلوں کو جنم دیا
جو اُس کی ہم شکل ہیں
میری امیدوں نے میرے اندر اِس ہجوم سے بہت دور
سفید گھروں کے منصوبے تعمیر کیے
لیکن میری محبوبہ اپنی محبت
پگڈنڈی پر گری سائیکل کی طرح بھُول گئی
جو رات بھرَ اوس میں بھیگتی رہتی ہے
بچے میری زندگی کے ادوار
اور یروشلم کے ادوار
گلی میں سفید چونے سے نشان زد کرتے ہیں
اور ایسی دنیا میں خدا کا ہی ہاتھ ہے
Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Zahid Imroz

Zahid Imroz

Zahid Imroz is a poet, writer and physicist. He has published two books of poems. He teaches physics and also works on global peace and security.


Related Articles

لوحِ طمع - جون ایلیا

جون ایلیا: جو خون کے گھونٹ پی رہا ہے وہ جانتا ہے کہ نسلِ آدم کی سزا کیا ہے
میں چاہتا ہوں کہ نسلِ آدم کے ہر ٹھکانے کو
ناخنوں سے کھُرچ کے رکھ دوں

"کوئی تو آبلہ پا دشت جنوں سے گزرا"

ہمارے حصے میں آئی ہوئی خالی قبریں
کب کی بھر چکی ہیں !

تین نظمیں تین خاکے

ادارتی نوٹ:فہیم عباس بصری اور تحریری فنون میں صنف اور روایت کے قائل نہیں۔