آوازیں اغوا کرلی جاتی ہیں

آوازیں اغوا کرلی جاتی ہیں
اکیلی اور زندہ آوازیں
اغوا کرلی جاتی ہیں
تم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنی اپنی آوازیں
اپنی کتابوں میں
چھپا دو
مگر نہیں
سدھائے ہوئے کتے
کتابوں کو سونگھ کے
بتا دیتے ہیں
کہ کون سی کتاب
دیکھتی، سنتی اور بولتی ہے
تم آواز اور کتاب سمیت
اغوا ہو جاؤ گے
یہ سدھائے ہوئے کتے
گلی گلی سو نگھتے پھر رہے ہیں
اور کتنے سلمان حیدر
ابھی باقی بچے ہیں
کیا کرو گے؟
کہاں چھپاؤ گے؟
ایسی کوئی جگہ
نہیں ہے
جہاں زندہ آوازیں
چھپائی جا سکیں
تمہیں ان سدھائے ہوؤں
کو گلے سے دبوچنے کے لئے
اپنی آوازوں کو
جوڑ جوڑ کے
ایک زنجیر بنا نی ہو گی
ورنہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم جانتے ہو
اکیلی اور زندہ آ وازیں
اغوا کر لی جاتی ہیں
Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

سلمان حیدر کی ایک نظم

کسی بالوں کے گچھے کا
شریعت اور بلوغت سے
کوئی رشتہ نہیں ہوتا

رات زندگی سے قدیم ہے

نصیر احمد ناصر: اور پھر ایک دن ہم
اتر جائیں گے
اُن دریاؤں کے پار
جہاں راستے ہیں نہ مسافر
دھوپ ہے نہ شام
بس ایک خواب جیسی دھند ہے
اور پہاڑ جیسی رات

شنگھاؤ غار

زید سرفراز: ہم غار کی دیواروں میں مجسم، وہ تنہائی تھے
جسے صورت دیتے ہوئے
مؤرخ نے تیشے کا استعمال کیا