اٹھتے ہیں حجاب آخر-حصہ دوم

اٹھتے ہیں حجاب آخر-حصہ دوم

ادارتی نوٹ: اس تحریر کی اشاعت کا مقصد کسی بھی مسلک کے پیروکاروں کی دل آزاری یا انہیں غلط قرار دینا نہیں بلکہ مذہب اور عقیدے پر انفرادی رائے قائم کرنے کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ پاکستانی مسلمانوں میں مذہب اور عقیدے کے معاملے پر سوچ بچار، تنقید، تحقیق اور علمی جستجو کا چلن مفقود ہے، یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں ہر مسلک میں جہاد، ختم نبوت یا ناموس اہل بیت جیسے تصورات کی آڑ میں تشدد کو جائز سمجھا جاتا ہے۔ مذہب سے متعلق مروجہ تشریحات سے مختلف رائے قائم کرنا ہر فرد کا حق ہے، اس تحریر کی اشاعت ایسے افراد کو اعتماد بخشنے اور ان کی حوصلہ افزائی کرنے کا باعث بنے گی۔

تبلیغی جماعت

اس سلسلے کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے

اس سلسلے کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے

میرے علمی و عقلی سفر کا اگلا مرحلہ دیوبندیت سے تعارف تھا۔ دیوبندیوں کی باتیں, ان کے دلائل بڑی حد تک درست معلوم ہو رہے تھے۔ دیوبندی ہوئے ہی تھے کہ تبلیغی جماعت والے ہمیں لے اڑے۔ ان کی سادہ نفسی اور عمل پر اصرار اچھا معلوم ہوا۔ تبلیغی جماعت نے دین داری پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، بہت سے لوگ، جو بڑے بڑے جرائم اور غلط کاموں میں پڑے ہوئے تھے، جن سے دین کی بات کرنا تک کسی کو گوارا نہ تھا، تبلیغی جماعت کی کاوشوں سے تائب ہو کر دین دار ہوئے۔

لیکن دوسری طرف، تبلیغی جماعت میں زہد نما رہبانیت اور علم سے بیزاری کا رجحان بہت زیادہ ہے۔ ان کے ہاں علم سے ایک کِد سی پائی پائی جاتی ہے۔ کوئی عالم تبلیغی بھی ہو جائے تو آسانی سے اس کو معتبر تبلیغی نہیں سمجھتے۔ علما کے لیے وقت بھی زیادہ لگانا تجویز کر رکھا ہے۔ میں نے پوچھا کہ ایسا کیوں تو جواب ملا کہ علما کا علم ان کا حجاب ہے، جسے توڑنے کے لیے زیادہ وقت درکار ہے۔ اسی وجہ سے کم علم خطبا ان کے ہاں زیادہ پذیرائی پا جاتے ہیں۔

ان کے ہان توکل کا مطلب وسائل پر عدم بھروسہ ہی نہیں، معاملہ ترک وسائل تک چاپہنچا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ آپ تبلیغ کریں، اللہ آپ کے کاموں کا ذمہ خود اٹھا لے گا، فرشتے خود آئیں گے اور آٹا دال آپ کے گھر پہنچا آئیں گے۔ علما یہاں بھی کوشش کرتے ہیں کہ لوگوں کو درست بات سمجھا سکیں، لیکن علم سے ایک اکتاہٹ سی جو یہاں پائی ہے، اس وجہ سے ایسی باتیں موثر کم ہوتی ہیں۔ امریکہ سے آئے ہوئے ایک تبلیغی ساتھ کے ساتھ تشکیل ہوئی۔ میں چھری سے سبزی کاٹ رہا تھا۔ فرمانے لگے، 'اسباب سے کچھ نہیں ہوتا سب اللہ سے ہوتا ہے۔ یہ چھری خود سے نہیں کاٹ رہی، اللہ کے حکم سے کاٹ رہی ہے۔ اس بات پر اگر پختہ یقین ہو تو آپ چاہے چھری چلائیں، وہ نہیں کاٹے گی۔' میرا دل چاہا کہ کہوں کہ چھری کو اسی یقین کے ساتھ ذرا اپنے پیٹ میں مار کر دیکھیں ابھی فیصلہ ہو جاتا ہے۔ لیکن مروت آڑے آ گئی۔

یہ تو درست ہے کہ ہر چیز اپنی تاثیر دکھانے میں اللہ کے حکم کے تابع ہے، لیکن اس سب کی کنجی اللہ کے ہاتھ میں ہے، کسی اور کے ہاتھ میں نہیں۔ ان معاملات کو اپنے ایمان و یقین کے تابع سمجھنا، گویا خود کو خدا کی جگہ رکھ لینا ہے کہ میری سوچ سے اسباب اپنی تاثیر بدل ڈالیں گے۔ پھر جس کا ایمان ایسا نہ ہو، جو اسباب پر اثر انداز ہو سکتا ہو، اور یقینًا ایسا ایمان ہو ہی نہیں سکتا، تو آدمی یہ سمجھتا ہے کہ وہ اچھا مومن ہی نہیں۔ میں نے ایک بار پوچھا بھی کہ کیا ایسا ایک بھی مومن تبلیغی جماعت نے تیار کیا ہے جس کا ایسا ایمان ہو کہ اسباب کی تاثیر پر اثر انداز ہو سکے، جواب ملا، نہیں، تو پوچھا کہ پھر اس جماعت کو کامیاب کیسے قرار دیا جا سکتا ہے جو ایک بھی ایسا مومن تیار نہ کر سکی؟

اس قسم کے افکار کی وجہ سے تبلیغی حضرات کے ہاں اپنے گھریلو ذمہ داریوں سے لا پرواہی عام ہے۔ اس کی افسوس ناک مثالیں معاشرے میں دیکھی گئی ہیں۔ ہمارے سامنے ایک تبلیغی کی لاپرواہی کی وجہ سے اس کی بیوی عدم توجہ اور بر وقت علاج نہ ملنے کی وجہ سے دھیرے دھیرے موت کے منہ میں چلی گئی، اس کو بہت سمجھایا گیا، اس کے گھر والوں سے اسے مارا پیٹآ بھی، لیکن تبلیغ کے آگے وہ ہر چیز قربان کر دینے پر تیار تھا۔ یہ اس کے نزدیک عزیمت کا سفر تھا۔ بیوی کے مرنے کے بعد اس نے ایصال ثواب کے لیے مدرسے میں پیسے دییے اور پھر کچھ ماہ بعد مولوی صاحب سے درخواست کی کہ اس کے لیے کوئی رشتہ تلاش کیا جائے۔

سال سال بھر یہ حضرات گھروں سے دور رہتے ہیں، اور ان کے گھر والے، بیوی اور بچے ان کی توجہ سے محروم، دین سے دور ہو جاتے ہیں۔ دین داری کا ایسا منفی رویہ یہ پیش کرتے ہیں جوان کی زبانی دعوت سے زیادہ بلند آہنگ ہوتا ہے۔ ان کی بیویاں اپنے بچوں کے ایسا تبلیغی بننے سے پناہ مانگتی ہیں۔ شوہروں کی اتنی طویل غیر حاضری بیویوں کے لیے کتنی آزمائش کا سبب ہوتی ہے، معلوم ہی ہے۔ اسی بات کا احساس کرتے ہوئے خلیفہ دوم، حضرت عمر نے جہاد پر جانے والوں کے لیے ہر چار ماہ بعد گھر واپس آنا لازم قرار دیا تھا، انہوں نے ایک خاتون جس کا شوہر طویل مدت سے جہاد پر تھا، اشعار میں یہ کہتے سنا تھا، کہ اگر خدا کا ڈر نہ ہوتا تو اس چارپائی کے پائے ہل گئے ہوتے۔ معلوم نہیں، کہ تبلیغی جماعت میں سال سال بھر کے دعوتی دورے، کس اصول کی رو سے درست سمجھے گیے ہیں۔ اس پر مزید ستم یہ کہ جیسے ہی کوئی تبلیغی دورے سے واپس آتا ہے، اسے ترغیب دی جاتی ہے کہ گھر نہ جانا، یہیں سے پھر اللہ کے راستے میں نکل کھڑے ہو، اس پر یہ زبان زد عام فقرہ بولا جاتا ہے کہ 'جو گھر گیا وہ گھِر گیا۔"

کہا جاتا ہے کہ لوگ کسب معاش کے لیے بھی تو سالوں اپنے گھر نہیں جاتے، ہم تو اللہ کے راستے میں نکلے ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ جو کسب معاش کے لیے جاتے ہیں، ان کا گھر سے اتنا دور رہنا کون سا درست عمل ہے۔ کوئی مجبوری سے گھر سے دور ہے تو الگ بات ہے لیکن اپنے اختیار سے یہ عمل کیسے درست ہو سکتا ہے، جب کہ آپ اسے دین کے نام پر کر رہے ہیں، اور دین نے ایسی کوئی مجبوری آپ پر لادی بھی نہیں ہے۔ اپنے لیے طوق و سلاسل خود کیوں ایجاد کرتے ہو اور وہ بھی دین کے نام پر۔ یہ سب تبلیغی حضرات کے اہل علم اور غیر اہل علم ذمہ داران کی ہدایات کی روشنی میں ہو رہا ہے۔ تبلیغی مساعی سے دین اتنا نہیں پھیلتا جتنا اس طرح غلط حکمت عملی کی وجہ سے منفی تاثر پھیلتا ہے اور تبلیغی جماعت سے لوگوں کو متنفر کرتا ہے۔

دنیا سے بے رغبتی سکھاتے سکھاتے، یہ رہبانیت کی طرف نکل گئے ہیں۔ کہتے ہیں کہ دنیا کی قیمت مچھر کے پر کے برابر بھی نہیں، خدا کو اگر دنیا کی اتنی بھی قدر ہوتی، تو کسی کافر کو پانی کا ایک قطرہ نہ پینے دیتا۔ ظاہر ہے کہ کافر سے مراد، ان کے نزدیک ہر غیر مسلم ہوتا ہے، چاہے اس نے اسلام کی دعوت کا شعوری طور پر انکار کیا ہو یا بے جانے بوجھے، بہرحال وہ بھی کافر ہے۔ اس سے دنیا اور خدا کا جو تصور سامنے آتا ہے وہ ایسا نہیں کہ اس سے کوئی اچھا تاثر لیا جا سکے۔ دوسری طرف قرآن مجید کہتا ہے کہ خدا نے دنیا ہی نہیں، اس کی زینتیں اور خوب صورتیاں بھی اپنے مومن بندوں کے لیے پیدا کی ہیں، کون ہے جس نے ان کو حرام کرنے کی جرات کی ہے:

اِن سے پوچھو، (اے پیغمبر)، اللہ کی اُس زینت کو کس نے حرام کر دیا جو اُس نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کی تھی اور کھانے کی پاکیزہ چیزوں کو کس نے ممنوع ٹھیرایا ہے؟ اِن سے کہو،وہ دنیا کی زندگی میں بھی ایمان والوں کے لیے ہیں، (لیکن خدانے منکروں کو بھی اُن میں شریک کر دیا ہے) اور قیامت کے دن تو خاص اُنھی کے لیے ہوں گی، (منکروں کا اُن میں کوئی حصہ نہ ہو گا)۔ ہم اُن لوگوں کے لیے جو جاننا، اپنی آیتوں کی اِسی طرح تفصیل کرتے ہیں۔ (سورہ اعراف، 7:32)

غور کیجیے، صرف دنیا ہی حلال نہیں، بلکہ دنیا کی زینتیں بھی ہمارے ہی لیے پیدا کی گئی ہیں۔ اور یہ زینتیں تو ایک طرف، دنیا ہی کے ترک کی طرف لیے جا رہے ہیں۔

دنیا سے اسی بے رغبتی کا نتیجہ ہے کہ یہ نہ صرف اپنی بلکہ اپنے متعلقین کی دنیوی ضرورتوں اور ان کے پورا کرنے کے لیے وقت اور توانائی صرف کرنے کو عبث یا وقت کا ضیاع سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ نہ صرف اپنی دنیوی ترقی اور خوشحالی سے لا پرواہ ہو جاتے ہیں، بلکہ جس محکمے میں کام کرتے ہیں، جو کاروبار یہ کرتے ہیں، اس کو بھی تبلیغ کے نام پر قربان کرنے کو ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ دنیا کے بارے میں انہیں تصورات کی وجہ سے یہ فلاحی کاموں میں بھی کوئی دلچسپی نہیں رکھتے۔ انہیں اس قسم کے دنیوی کاموں میں مشغولیت بھی غیر دینی محسوس ہوتی ہے۔
جس طرح بریلویت میں عشق رسولؐ، اعمال اور سیرت میں تبدیلی پیدا نہیں کرتا، اسی طرح، تبلیغی جماعت میں بھی دین، نماز، روزہ اور دعوت جیسے چند اعمال کے ساتھ ہی شروع ہو کر ختم ہو جاتا ہے۔ ایسے بھی لوگ ہیں جو تبلغی مراکز میں خطبات تک ارشاد فرماتے ہیں لیکن اپنے کلچر کے مطابق بیٹیوں اور بہنوں کو جائیداد میں حصہ دینے کے روادار نہیں۔

یہ بھی عام تاثر ہے کہ کسی بھی محکمے میں کوئی تبلیغی اہل کار ہوگا تو وہ اپنے پیشہ ورانہ کاموں میں کوتاہ ہو گا، اسے ہر وقت دعوت دینے کی فکر رہتی ہے، اور کام پر توجہ کما حقہ نہیں ہوتی۔ تبلیغی لوگ، اپنے لیے تبلیغی ملازم رکھنے سے گھبراتے ہیں۔

سرمایہ دار تبلیغی الگ فینامینن ہے۔ یہ لوگ اپنے کاروبار کبھی متاثر نہیں کرتے۔ پورے انتظامات کر کے تبلیغ پر نکلتے ہیں۔ ان کی تبلیغ ان کے سرمایہ دارانہ اخلاقیات پر ذرہ برابر اثر انداز نہیں ہوتی۔ اپنے ملازمین کا قانونی اور غیر قانونی استحصال بڑے اطمینان قلب سے کرتے ہیں۔ ایک ملازم کے لیے تبلیغی مالک اور غیر تبلیغی مالک میں سوائے داڑھی، ٹخنوں سے اونچی شلوار اور نماز روزے کی پابندی کے اور کوئی فرق نہیں ہے۔

تبلیغی حضرات میں ایک عجیب اور دلچسپ خصوصیت پائی جاتی ہے، وہ یہ کہ ان کا اخلاص بھی بہت پروفیشنل ہوتا ہے۔ اخلاق اور اخلاص کا مظاہرہ وہیں کرتے ہیں جہاں دعوت دینا ہو اور تبلیغی جماعت کے دائرے میں لانا مقصود ہو, ، بالکل اس سیلز مین کی طرح جو اپنی پراڈکٹ پیچنے کے لیے پیشہ ورانہ خوش اخلاقی اور آپ سے اپنے اخلاص کا مظاہرہ کرتا ہے۔ یہ اس جماعت کے ماحول سے بننے والا عمومی مزاج ہے، اس سے انکار نہیں کہ اس سے مختلف لوگ بھی ہوتے ہیں جن کی اچھی تربیت انہیں ہر جگہ اچھائی کا مظاہرہ کرنے پر ابھارتی ہے۔

تبلیغ والے، اپنی جماعت کو واحد جماعت قرار دیتے ہیں جو حق پر ہے، جس کا منہج واحد منہجِ ہے جو حق پر ہے، باقی سب لوگ ان کے نزدیک اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں۔ تعصب کا حال یہ ہے کہ کہا جاتا ہے کہ فتوی اور مسئلہ فقط تبلیغی عالم سے پوچھا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ تبلیغی جماعت ایک فرقہ بن چکی ہے۔

اصلاح احوال کی کچھ کوشش اہل علم اپنے تئیں کرنے میں لگے ہوئے ہیں، لیکن جو تربیت ہو گئی ہے، اسی ریورس کرنا بہت مشکل ہے، بلکہ ان کے ہاں کہ کم علم تبلیغی حضرات، علما کی طرف سے کی جانے والی اصلاحی کوششوں کو ایک طرح کی مداہنت یا رخصت سمجھتے ہیں اور اپنے لیے عزیمت کے نام پر یہی انتہا پسند طرز عمل اپنائے ہوئے ہیں۔

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad

Dr. Irfan Shehzad completed his Doctorate in Islamic Studies from NUML. He regularly writes for various research periodicals, magazines and websites. Human psychology, Jihad and religious militancy are his areas of study.


Related Articles

حج اور عمرے کو مذہبی پکنک نہ سمجھیں

تیل کی دریافت سے پہلےبیسویں صدی کے وسط تک حج سیزن سے حاصل ہونے والی آمدنی سعودی اقتصادیات میں اہم کردار ادا کرتی تھی۔ بعد ازاں تیل کی دریافت کے بعد سعودی عرب کی قسمت بدل گئی اور یوں یہ خطے کے امیر ترین ممالک کی فہرست میں شامل ہو گیا۔

پاکستانی طالبان کون ہیں؟

لفظ طالب یا طالبان سنی مسلک سے وابستہ ان جنگجووں کے لیے استعمال ہوتاہے جنہوں نے ملا محمد عمر کی قیادت میں 2001تک افغانستان پر حکومت کی۔

TO EVERY STRUGGLE, KARBALA

Pakistan is going through upsetting times, but the fight is not over just yet.