اٹھتے ہیں حجاب آخر-حصہ چہارم

اٹھتے ہیں حجاب آخر-حصہ چہارم

ادارتی نوٹ: اس تحریر کی اشاعت کا مقصد کسی بھی مسلک کے پیروکاروں کی دل آزاری یا انہیں غلط قرار دینا نہیں بلکہ مذہب اور عقیدے پر انفرادی رائے قائم کرنے کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ پاکستانی مسلمانوں میں مذہب اور عقیدے کے معاملے پر سوچ بچار، تنقید، تحقیق اور علمی جستجو کا چلن مفقود ہے، یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں ہر مسلک میں جہاد، ختم نبوت یا ناموس اہل بیت جیسے تصورات کی آڑ میں تشدد کو جائز سمجھا جاتا ہے۔ مذہب سے متعلق مروجہ تشریحات سے مختلف رائے قائم کرنا ہر فرد کا حق ہے، اس تحریر کی اشاعت ایسے افراد کو اعتماد بخشنے اور ان کی حوصلہ افزائی کرنے کا باعث بنے گی۔

تبلیغی جماعت

اس سلسلے کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے

دین کے نام پر ایک بہت بڑی غلط فہمی ہے جو تبلیغی جماعت سے عمومًا اور مولانا طارق جمیل کی طرف سے خصوصًا، تبلیغی حضرات کے فہم دین کا حصہ بنائی جا رہی ہے، جس کی وجہ سے ان کے طرزِ عمل میں کسی ممکنہ بہتری کے امکان معدوم ہو جاتے ہیں، وہ یہ کہ اگر تبلیغی حضرات کسی کمی کوتاہی کا شکار بھی ہیں تو ان کا تبلیغ کے راستے میں چلنے کا بے انتہا ثواب، جو ہر عمل کو کروڑوں میں بتاتا ہے، ان کی کمی کوتاہیوں کی تلافی کر دے گا اور خدا کے ہاں وہ ٹوٹل میں پاس ہو کر نجات یافتہ بلکہ انعام یافتہ قرار پائیں گے۔ اسے مولانا طارق جمیل سو میں تینتیس نمبر لے کر پاس ہونا کہتے ہیں۔ یہ خود ساختہ معیارِ فہم دین کی ناقص تفہیم سے پیدا ہوا ہے، اور یہ خود کو خدا کے درجے پر فائز کرنا ہے۔ دین کے فرائض اور مستحبات میں اور دین کے ضروری اور کم ضروری احکامات میں فرق کرنا اصل فہم دین ہے۔ مثلاً کوئی اپنے اپنے گھر کے افراد کی ذمہ داریوں سے پہلو تہی کر کے تبلیغ کرنے نکل کھڑا ہو، تو ایسا کوئی مطالبہ خدا نے اس سے نہیں کیا ہے۔ اپنے جنونِ شوق میں خدا کی تعلیم، اصولوں اور ترتیب کو نظر انداز کر کے اپنے لائحہ عمل کو ترجیح دینا، خدا کی بجائے اپنی پالیسی کو اور اس کو پیش کرنے والوں کو خدا اور رسول کے درجے پر لا بٹھانا ہے، جیسا کہ یہود کے عوام، اپنے فقیہوں اور راہبوں کے ساتھ کرتے تھے۔ قرآن اس کی مذمت کرتے ہوئے کہتا ہے یہود کے عوام اپنے علماء اور راہبوں کو معبود بنا لیا، ان کی سنتے تھے، ان کے مقابلے میں اپنی کتاب کے صریح بیانات کو خاطر میں نہ لاتے تھے۔ یہاں بھی یہی حال ہے۔

اپنی دولت و جائیداد پیچ کر یا قرض لے کر تبلیغ پر جانا آپ کا اپنا انتخاب ہو سکتا ہے، دین نے ایسا کوئی مطالبہ نہیں کیا ہے۔ اپنے انتخاب سے ایک غیر فرض کو ایک فرض کے لیے چھوڑ دینا ایسا معاملہ نہیں ہے کہ خدا یہ دیکھے کہ ایک کام چھوڑ کر دوسری نیکی کر لی گئی ہے تو معاملہ برابر سرابر ہو گیا، ہر گز نہیں، درحقیقت دین کے بارے میں خدا کی ساری سکیم کو ہی الٹ دیا گیا ہے، دین کی ترتیب بدل دی گئی ہے اور جو نتائج خدا پیدا کرنا چاہتا تھا، وہ نتائج پیدا نہیں ہونے دیئے گئے۔

مسئلہ صرف یہ نہیں کہ لوگوں کو تبلیغ کرنی ہے، مسئلہ یہ بھی ہے کہ اپنے خاندان کو صالح روزی اور صالح تربیت بھی دینی ہے۔ اور یہ کام مسلسل حاضری اور نگرانی مانگتا ہے۔ کوئی مجبوری ہو تو معاملہ الگ ہے، لیکن خدا کبھی یہ نہیں چاہتا کہ گھر کے مرد، سال ہا سال اپنے گھر سے، اس کی ذمہ داریوں سے، اور اپنے گھر والوں کی تربیت سے دور، لوگوں کو تبلیغ کرتے رہیں جو ان پر خدا نے فرض بھی نہیں کی۔ خصوصاً ایسے لوگوں کو تبلیغ کرنا جن کی زبان سے بھی یہ واقف نہیں۔ یہ معاملہ سو میں سے تینتیس نمبر لینے کا نہیں، لازمی سوال چھوڑنے کا ہے، جس کی تلافی اختیاری سوالات کے زیادہ جوابات دینے سے بھی پوری نہیں ہو سکتی۔ تبلیغ کو جس طرح فرض سمجھا گیا ہے، اور جو تفصیلی لائحہ عمل اس کے لیے طے کر لیا گیا ہے کہ آپ گھر سے دور رہ کر اور بلاضرورت سفر کر کر کے لوگوں کو تبلیغ کریں اور کوئی اس کے علاوہ اگر تبلیغ کی کوئی صورت اختیار کرنا چاہے تو اسے دین کی خدمت سرے سے ماننے سے انکار کر دیا جائے، یہ سب دین میں ایک اور دین بنانے کی کوششیں ہیں جس کی غلطی سمجھنا بہت ضروری ہے۔ ان غیر ضروری قربانیوں کو عزیمت گردانا جاتا ہے جب کہ درحقیقت یہ بڑی غلط فہمی ہے۔

معلوم ہونا چاہیے کہ خدا کے قوانین کسی کے فہم دین کی کجی سے بدل نہیں جاتے۔ یہ بات خدا نے قرآن میں واضح طور پر بتائی ہے:

(تم پر واضح ہونا چاہیے کہ نجات) نہ تمھاری آرزوؤں پر موقوف ہے نہ اہل کتاب کی آرزوؤں پر۔ (اِس لیے) جو برائی کرے گا، اُس کا بدلہ پائے گا اور اللہ کے مقابلے میں وہ اپنے لیے کوئی حامی اور مددگار نہ پاسکے گا (سورہ النساء، 4:123)

ان غیر ضروری قربانیوں کے جواز کے لیے جو واقعات سنائے جاتے ہیں، پہلے تو ان کی تصدیق کرانا ضروری ہے کہ کیا وہ واقعی درست ہیں یا نہیں۔ اور اگر درست ہیں تو کیا وہ قرآن مجید کی واضح نصوص اور دین کے واضح اصولوں کے مطابق بھی درست ہیں یا نہیں۔ دین کا معیار قرآن ہونا چاہیے نہ کہ واقعات۔

اس غیر متناسب حدود سے ماورا دین داری جس میں اپنی مرضی کے کسی دینی عمل کو چن کر باقی کو نظر انداز کرنے کی روش اپنا لی جاتی ہے، اس کے جواز کے لیے لوگوں میں پائے جانے والے بے دین رویوں سے جواز تلاش کرنے کی کوشش بھی کی جاتی ہے کہ فلاں اگر جوا یا نشے کی لت میں پڑ کر یا کسی محبوب کی چاہ میں اپنا گھر بار لٹا سکتا ہے یا لوگ نوکری اور دولت کے لیے اپنے گھر والوں کو چھوڑ کر بیرونِ ملک چلے جاتے ہیں، تو تبلیغی حضرات نے یا اور کسی دینی رویے میں پڑ کر کوئی حدود سے تجاوز کر رہا ہے تو کیا برا ہے، یہ تو اچھا ہے ہے نا کہ کسی بے دینی کی وجہ سے ایسا نہیں کر رہا۔ یہ جواز پیدا کرنا بہت نا درست ہے۔ دین پر عمل کرنے کے لیے بے دینی کے رویوں سے جواز کیسے لایا جا سکتا ہے؟ دین پر عمل کرنا ہے تو اسی تناسب اور شعور سے عمل کرنا ہوگا جو دین کا مقصود ہے۔ کیا میں چاہوں کہ سارا دن نمازیں پڑھا کروں اور اس کی لذت میں دین اور دینا کی باقی ذمہ داریوں سے جان چھڑا لوں تو کیا درست ہوگا؟ اسی طرح کوئی عشق رسول کو بنیاد پر کر باقی کاموں سے کنارہ کش ہو جائے تو کیا جائز ہوگا۔ ایسا جواز وہی لا سکتا ہے جو دین کے بنیادی تصورات سے بھی واقف نہیں۔ اسی بات کا افسوس ہے کہ تبلیغ میں برسوں گزار لینے کے باوجود دین کی بنیادی تعلیم سے آگاہی حاصل کرنا بالکل غیر ضروری سمجھا جاتا ہے۔ ان کے بڑوں کے بیانات سن کر دیکھا جا سکتا ہے کہ علم اور فہم دین کی طرف سرے سے کوئی رغبت نہیں دلائی جاتی۔

اور پھر یہ کون سی عقل مندی ہے کہ تبلیغی حضرات کو ایسے علاقوں اور ملکوں میں تبلیغ کرنے بھیج دیا جاتا ہے جن کی زبان بھی ان کو نہیں آتی۔ اس سے تو تبلیغ کا مقصد ہی حاصل نہیں ہو سکتا۔ خدا نے ہر قوم میں اسی کا ہم زبان پیغمبر بھیجا، لیکن یہاں بھی دین کی حکمت کے برعکس، غیر زبان والوں کو اشاروں یا مترجم کے ذریعے تبلیغ کی جاتی ہے۔ تبلیغ کا مقصد پیغام پہنچانا ہی نہیں ہوتا، بات کو دلوں میں اتارنا ہوتا ہے۔ اس کے لیے تو نہ صرف یہ کہ ہم زبان ہونا ضروری ہے، بلکہ زبان دان ہونا ضروری ہے۔ تبلیغی جماعت کی یہ پالیسی، دعوت دین کی حکمت کے برخلاف ہے۔

دین کا ہر حکم اپنی شرائط، آداب اور ضوابط کے ساتھ لاگو ہوتا ہے۔ یہ اہم بات تبلیغی حضرات کے سمجھنے کی ہے۔

(جاری ہے)
Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad

Dr. Irfan Shehzad completed his Doctorate in Islamic Studies from NUML. He regularly writes for various research periodicals, magazines and websites. Human psychology, Jihad and religious militancy are his areas of study.


Related Articles

State mutation of the Social Sciences

Among the many crimes of the Pakistani state is its mutation of the social sciences into a disfigured medium for crudely-conceived state propaganda.

دھاندلی کیا ہے؟

حکمران جماعت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان 2013ء کے عام انتخابات کے بعد سے ہی باہمی کشمکش جاری ہے۔

مجلس احرار سے مولوی عبدالعزیز تک

آخر کیا وجہ ہے کہ پاکستان میں سیاست دانوں کے عوامی بیانات و تقاریر پر بہت زیادہ حساسیت پائی جاتی ہے ؟ان کے ایک ایک لفظ کو حب الوطنی کی چھلنی میں سے انتہائی باریک بینی سے گزارا جاتا ہے جب کہ دوسری طر ف نام نہاد دین فروشوں کے بدترین اور متنازعہ ترین بیانات بھی عوامی احتجاج کو اکسانے میں ناکام رہتے ہیں۔