اپاہج خواب اور آنکھوں کی بیساکھیاں

اپاہج خواب اور آنکھوں کی بیساکھیاں
اپاہج خواب اور آنکھوں کی بیساکھیاں
لوگ دیواروں سے سیاہی اتار کر
دن کی مخالفت کر سکتے ہیں
باندھ سکتے ہیں ہجر کے گھنگھرو شام کے پیروں میں
مگر۔۔۔۔۔
ان درختوں کے ہاتھ نہیں کاٹ سکتے
جن پہ جنگل کی کہانی لکھ کر
مٹا دی گئی ہے

 

جب مٹی رقص پہ مائل ہوتی ہے
چیزیں اپنی جگہ چھوڑ دیتی ہیں
اور ۔۔۔ہم آسمان کی باتوں میں آ کر
زمین کو بد دعائیں دینے لگتے ہیں
تم ہمارے حصے کی اینٹیں
اپنی آنکھو ں میں ڈال کر
کوئی ایسا مکان بنا سکتے ہو؟
جس میں ہمارے خواب قیا م کر سکیں
اس رات تک ۔۔۔
جو تمہاری آنکھوں سے زیادہ گہری نہیں ہو سکتی

Sidra Sahar Imran

Sidra Sahar Imran

Sidra Sehar Imran holds a Masters degree in Urdu. She is one of the prominent names of Contemporary Urdu prose poetry circle.


Related Articles

افراد جو لاپتہ ہوئے

صفیہ حیات: بھاری بھرکم بوٹوں والے
باغیوں کو اٹھا کر
سیدھے سبھاؤ رہنے کے گر سکھاتے ہیں

بے گناہ

خاموش
خاموش
خاموش
سنو وہ دور دھواں سرسراتا ہے

اجتماعی مباشرت

سید کاشف رضا: تاریخ سے اجتماعی مباشرت
ہم نے کھیل سمجھ کر شروع کی
پھر شور بڑھتا گیا