اچھا ہوا پٹرول نہیں ہے

اچھا ہوا پٹرول نہیں ہے
اپنی منزل ابھی بہت دور تھی کہ بد نصیبی سےہماری موٹر سائیکل نےسائلنسر کے راستے پھٹپھٹاتے ہوئے اپنی تشنگی کا اعلان کیا ۔ڈھکن کھول کر جھانکا تو ٹینکی کی تہہ ایک لق و دق صحرا کا منظر پیش کر رہی تھی۔ایک شریف آدمی کی طرح موٹر سائیکل لٹا کرسٹارٹ کرنے کی بھرپور کوشش کے بعد پٹرول ڈلوانے کا سوچا ۔ موٹر سائیکل مجھ سے اپنی پیاس بجھانے کا تقاضا کر رہی تھی ۔ موٹر سائیکل کو سکول نہ جانے کی ضد کرتے بچے کی طرح گھسیٹتا ہوا پٹرول پمپ تک پہنچا تو پٹرول ندارد۔ ہر پٹرول پمپ پر پٹرول ویسے ہی غائب تھا جیسے ہمارے چوپائے وزیراعظم کے سر سے سینگ اور الو ویسے ہی بول رہے تھے جیسے کابینہ کاہنگامی اجلاس ہورہا ہو۔
ہم پٹرول کی تلاش میں پٹرول پمپوں کے چکر اسی طرح لگا رہے تھے جیسے کبھی مجنوں نے لیلی کی تلاش میں دشت نوردی کی ہوگی۔
ہم پٹرول کی تلاش میں پٹرول پمپوں کے چکر اسی طرح لگا رہے تھے جیسے کبھی مجنوں نے لیلی کی تلاش میں دشت نوردی کی ہوگی۔خیر پوچھتے پُچھاتے پٹرول کا پتہ پانے کو مارے مارے پھر رہے تھے کہ کسی راہ چلتے نے مشورہ دیا کہ پٹرول آپ کو مل جائے گا لیکن ایک مسئلہ ہے۔ہم نے مسئلہ دریافت کیا تو پتہ لگا کہ اب پٹرول پٹرول پمپ میں نہیں عنقریب عجائب گھروں ملے گااور ممکن ہے اْس کی دید کے لئے جیب کا بوجھ بھی ہلکا کرنا پڑے۔سنا ہے جہاں جہاں پٹرول دستیاب ہے وہاں اس کے لئے سیکیورٹی کے سخت انتظامات بھی کئے جا رہے ہیں اور وفاقی وزیر خزانہ اس ضمن میں ایک خطیر رقم بجٹ میں مختص بھی کرنے والے ہیں۔خدشہ ہے کے پٹرول کا نظر آجانابلوے اور فساد کا باعث بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ لوگوں نے پٹرول کی بوتلیں مٹی میں دبا دی ہیں، بینکوں کے لاکروں میں رکھوا دی ہیں یہاں تک کہ حسیناوں نے اپنے عشاق سے پٹرول کے چند لیٹروں کے عوض وعدہ ہائے وصال کر ڈالے ہیں۔
پٹرول پمپوں کے باہر لگی قطاروں سے قوم کو قطاربنانے کی اہمیت سکھانے میں خاطرخواہ مدد ملی ہے اور ٹریفک حادثات بھی کم ہوئے ہیں۔
حکومت کے اس لائحہ عمل کی ستائش واجب ہے، بحران سازی کی جو صفت حالیہ حکومت کے پاس ہے پاکستان کو کبھی نصیب نہیں ہوئی۔ پٹرول کے اس بحران کے گوناگوں فوائد یقیناً آنے والی نسلوں تک محسوس کیے جا سکیں گے۔ پٹرول پمپوں کے باہر لگی قطاروں سے قوم کو قطاربنانے کی اہمیت سکھانے میں خاطرخواہ مدد ملی ہے اور ٹریفک حادثات بھی کم ہوئے ہیں۔سائیکل چلانے اور پیدل چلنے کا رحجان بڑھا ہے ۔ لوگوں نے ثابت کیا ہے کہ وہ پٹرول ڈیڑھ سو روپے لیٹر تک خرید سکتے ہیں۔ یقیناً اس بحران کے خاتمے کے بعد پٹرول انہیں نرخوں پر دستیاب ہوگا۔ پٹرول نہ ملنے سے خود پر پٹرول چھڑک کر آگ لگانے کے واقعات کی روک تھام بھی آسان ہوئی ہے۔ پٹرول کی قلت سے ماحول بہتر بنانے میں بھی مدد ملی ہے، پٹرول نہ ہونے سے ماحول آلودہ کرنے والی گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں بھی گیراجوں اور پارکنگ اسٹینڈوں میں کھڑی کر دی گئی ہیں۔


Related Articles

!شعر اور اس کی تشریح

کچھ دن ہوتے ہیں وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف پنڈی اسلام آباد میٹرو بس کی افتتاحی تقریب میں ایک مجمعے سے مخاطب تھے۔

مسلمانو ! لگاؤ ۔۔۔

قادری صاحب کا ایک تکا دوہزار تیرہ کے الیکشن سے پہلے لگا اور انہوں اسے کنٹینر کے اندر تکے سے بے تکے میں بدل دیا ایک بار پھر قادری صاحب بے تکے انقلاب کے تکے لگانے کے دعوے کررہے ہیں تو موقع ہے کہ پوری قوم کو دعوت دی جائے مسلمانو ! لگاؤ تکے ۔

یہ جو محبت ہے

ہم نے بہت سوچا کہ کیونکر اس زندگی میں محبت کاتڑکہ لگایا جائے،مگر یہ محبت ہے کرنے کا کام، پر کرنا کیسے ہے یہ کون جانتا ہے؟