اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں - چوتھی قسط

اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں - چوتھی قسط

جماعت اسلامی کی سیاسی تاریخ اور ارتقاء پر ڈاکٹر عبدلمجید عابد کا یہ مضمون اس سے قبل معروف سہ ماہی ادبی جریدے 'آج' میں بھی شائع ہو چکا ہے۔ لالٹین پر اسے بعض اضافوں کے ساتھ قسط وار شائع کیا جا رہا ہے۔

اس سلسلے کی بقیہ اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

پنجاب کے ایک سیاست دان نے 1951ء کے انتخابات کے دوران تقریر کرتے ہوئے کہا، 'مسلم لیگ کے مخالفوں میں سب سے بلند آہنگ جماعت اسلامی ہے۔ اس جماعت کا کہنا ہے کہ پاکستان ایک اسلامی مملکت ہے اس لئے اس کا آئین جماعت اسلامی کو بنانا چاہئے۔ میں پوچھتا ہوں کہ جس وقت حصول پاکستان کی جدوجہد جاری تھی تو مولانا مودودی کیا کر رہے تھے۔ وہ پاکستان کی مخالفت اسلام کے نام پر کر رہے تھے۔ آج اس اسلام کو وہ پاکستان میں قائم کرنا چاہتے ہیں۔ ہر سمجھدار آدمی اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ یا تو یہ ’اسلام‘ مودودی صاحب کے اپنے دماغ کی اختراع ہے، یا پھر مولانا مودودی محض ابن الوقت ہیں'۔

احرار نے معاشی مسائل کے ساتھ مذہب کے اونٹ کو بھی سیاست کے خیمے میں داخل کیا اور یہ موقف اختیار کیا کہ مسلمانوں نے اپنا ملک بنانے کے لیے قربانیاں دیں لیکن اس شجر کا پھل احمدی حاصل کر رہے ہیں
سنہ 1952ء میں قحط اور مہنگائی کے مسئلوں پر خاکسار تحریک نے حکومت مخالف مظاہرے شروع کیے۔ اس موقعے پر جماعت نے موچی گیٹ کے مقام پر آٹے کی قیمت میں اضافے کے خلاف جلوس نکالا لیکن وہ جلوس ہنگامے کی صورت اختیار کر گیا۔ خاکسار تحریک کے سربراہ علامہ مشرقی کی گرفتاری کے بعد اس تحریک کا علم مجلس احرار نے سنبھالا۔ احرار نے معاشی مسائل کے ساتھ مذہب کے اونٹ کو بھی سیاست کے خیمے میں داخل کیا اور یہ موقف اختیار کیا کہ مسلمانوں نے اپنا ملک بنانے کے لیے قربانیاں دیں لیکن اس شجر کا پھل احمدی حاصل کر رہے ہیں۔

ان حالات میں جماعت کی شوریٰ نے احرار اور دیگر مذہبی جماعتوں پر مشتمل متحدہ مجلس عمل میں شرکت کا فیصلہ کیا لیکن احرار کے طریق کار سے سطحی اختلاف ظاہر کیا۔ اگست سن 1952 ء کے ترجمان القرآن میں احمدیوں کو اسلام کے دائرے سے خارج کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ جنوری سن 1953 ء میں کل پاکستان علماء کنونشن نے وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین سے اس مسئلے پر قابو پانے میں ناکامی کے باعث استعفی طلب کیا۔ 5مارچ 1953 ء کو مولانا نے اپنی کتاب ’قادیانی مسئلہ‘ شائع کی جس میں احمدیوں کی تکفیر کے حق میں دلائل جمع کیے گئے تھے۔ احمدی مخالف ہنگاموں نے پنجاب کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔ اس ہنگامے کو ہوا دینے میں صوبائی مسلم لیگ کے سربراہ ممتاز دولتانہ نے مرکزی کردار ادا کیا۔ مارچ 1953ء میں پنجاب میں جزوی مارشل لاء نافذ کر دیا گیا۔

مسئلہ قادیانیت میں جماعت کے کردار پر ڈاکٹر اسرار نے لکھا:

"ایک تو یہ مسئلہ کوئی آج کی پیداوار نہیں تھا بلکہ گزشتہ صدی کے اواخر ہی سے اس کے بارے میں مسلمانوں میں بے چینی کے آثار پیدا ہونے شروع ہو گئے تھے۔ لیکن اپنی تاسیس کے دن سے سنہ 52 ء تک جماعت اسلامی نے بحیثیت جماعت یا اس کے اکابرین نے بحیثیت افراد اس پر کوئی عملی اقدام تو کجا زبان سے ایک حرف تک نہ نکالا، بلکہ ایک اصولی اسلامی جماعت کی حیثیت سے اپنے دور اول میں اس نے ایسی باتیں کہیں کہ جن سے قادیانیوں کی تکفیر کی براہ راست نہ سہی بالواسطہ ضرور ہمت شکنی ہوتی ہے۔

جماعت اسلامی کے اکابرین نے نجی محفلوں میں قادیانیوں اور ان کے خلاف احرار کی تحریک کے بارے میں کیے گئے سوالات کے مندرجہ ذیل جواب دیئے:

اس تمام بحث کا آخری نتیجہ یہ ہے کہ شیعہ، سنی، دیوبندی، اہل حدیث اور بریلوی لوگوں میں سے تو کوئی بھی مسلم نہیں اور اگر مملکت کی حکومت ایسی جماعت کے ہاتھ میں ہو جو دوسری جماعت کو کافر سمجھتی ہے
1۔ ختم نبوت لازمی طور پر جزو ایمان ہے اور اس کا منکر کافر، لیکن تکفیر کا کام کسی فرد یا کسی گروہ کے کرنے کا نہیں بلکہ اسلامی ریاست کا کام ہے۔
2۔ ’قادیانیت‘ مسلمان قوم میں دین حق سے لگاؤ میں انحطاط آ جانے کی وجہ سے پیدا ہونے والی اور بہت سی گمراہیوں میں سے ایک گمراہی ہے۔ اس کا اصل سبب یہ ہے کہ دین کی اصل تعلیمات واضح نہیں ہیں۔ اور اس کا علاج منفی طور پر اس کی مخالفت اور بیخ کنی سے نہ ہو گا بلکہ اس طرح ہو گا کہ دین کی اصل تعلیمات کو واضح اور عام کیا جائے۔
3۔ قادنیوں کی مخالفت جس طرز سے ہو رہی ہے، وہ ان کو کوئی نقصان پہنچانے کے بجائے ان کی تقویت کا موجب ہو رہی ہے۔ اگر ان کا ابطال کرنا ہی ہے تو چاہیے کہ سنجیدہ علمی طریقے سے ان پر تنقید کی جائے اور عوام کو ان کے غلط عقائد سے خبردار کیا جائے۔

لیکن جب سنہ 52 ء میں زعمائے مجلس احرار نے اسے واقعی ایک مسئلہ بنا لیا اور عوام کے جذبات کو مشتعل کیا تو اصول پرستی کا تقاضا یہ تھا کہ یہی باتیں علی الاعلان کہی جاتیں اور لوگوں کو بتایا جاتا کہ تم خوامخواہ مشتعل کیے جا رہے ہو، نہ یہ مسئلہ اتنی اہمیت رکھتا ہے اور نہ اس کے حل کی وہ صورت ہے جو اختیار کی جا رہی ہے۔جماعت اسلامی نے البتہ اپنی اصول پسندی اور اصول پرستی کو ذبح کر کے ’حق گوئی‘ سے کتراتے ہوئے جو طرزعمل اختیار کیا، وہ بے اصولے پن اور عوام خوفی کی عملی تصویر ہے۔ مجلس عمل کے ساتھ تعاون شروع کر دیا گیا اور ان لوگوں کی قیادت قبول کر لی گئی جن کے پاس بیٹھتے ہوئے بھی بقول بزرگان جماعت، جماعت کے زعماء کو گھن آتی تھی۔"

مئی سنہ 1953 ء میں خصوصی عدالت نے مولانا عبدالستار نیازی اور مولانا مودودی کو سزائے موت سنا دی۔
قادیانی مسئلے کی تحقیقات کے لیے ایک خصوصی عدالتی کمیشن مقرر کیا گیا، جس کی مرتب کردہ رپورٹ 'رپورٹ تحقیقاتی عدالت برائے تحقیقات فسادات پنجاب 1953' یا عرف عام میں '>منیر رپورٹ' کے نام سے مشہور ہے۔ مذہب اور سیاست کے بے جوڑ رشتے کے خلاف اس رپورٹ سے زیادہ مضبوط دلیل ہماری تاریخ میں موجود نہیں۔ رپورٹ کے صفحہ نمبر 334 پر علماء کے مابین بنیادی اصطلاحات پر اختلاف کی جو تصویر نظر آتی ہے، ملاحضہ کریں:

"ہم نے اکثر ممتاز علماء سے یہ سوال کیا ہے کہ وہ 'مسلم' کی تعریف کریں۔ اس میں نکتہ یہ ہے کہ اگر مختلف فرقوں کے علماء احمدیوں کو کافر سمجھتے ہیں تو ان کے ذہن میں نہ صرف اس فیصلے کی وجوہ بالکل روشن ہوں گی بلکہ وہ 'مسلم' کی تعریف بھی قطعی طور پر کر سکیں گے، کیونکہ اگر کوئی شخص یہ دعوی کرتا ہے کہ فلاں شخص یا فلاں جماعت دائرہ اسلام سے خارج ہے تو اس سے لازم آتا ہے کہ دعویٰ کرنے والے کے ذہن میں اس امر کا واضح تصور موجود ہو کہ 'مسلم' کس کو کہتے ہیں۔"

عام آدمی پاکستان کو ایک اسلامی مملکت سمجھتا ہے، حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ اس عقیدے کو اس مسلسل چیخ وپکار سے تقویت پہنچی ہے جو اسلام اور اسلامی مملکت کے متعلق قیام پاکستان کے وقت سے اب تک مختلف حلقوں کی طرف سے مچائی جا رہی ہے۔
تحقیقات کے اس حصے کا نتیجہ بالکل اطمینان بخش نہیں نکلا اور اگر ایسے سادہ معاملے کے متعلق بھی ہمارے علماء کے دماغوں میں اس قدر ژولیدگی موجود ہے تو آسانی سے تصور کیا جا سکتا ہے کہ زیادہ پیچیدہ معاملات کے متعلق ان کے اختلافات کا کیا حال ہو گا‘۔ اس کے بعد مولانا ابوالحسنات قادری،مولانا احمد علی، مولانا مودودی، غازی سراج الدین منیر، مفتی ادریس، حافظ کفایت حسین، مولانا عبدالحامد بدایونی، مولانا محمد علی کاندھلوی اور مولانا امین احسن اصلاحی نے ’مسلم‘ کی تعریف اپنے علم کے مطابق بتائی۔ اس پر جسٹس منیر نے تبصرہ لکھا: 'ان متعدد تعاریف کو جو علماء نے پیش کی ہیں، پیش نظر رکھ کر کیا ہماری طرف سے کسی تبصرے کی ضرورت ہے؟ بجز اس کے کہ دین کے کوئی دو عالم بھی اس بنیادی امر پر متفق نہیں ہیں، اگر ہم اپنی طرف سے مسلم کی کوئی تعریف کر دیں جیسے ہر عالم دین نے کی ہے اور وہ تعریف ان تعریفوں سے مختلف ہو جو دوسروں نے پیش کی ہے، تو ہم کو متفقہ طور پر دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا جائے گا۔ شیعوں کے نزدیک تمام سنی کافر ہیں اور اہل قرآن متفقہ طور پر کا فر ہیں، یہی حال آزاد مفکرین کا ہے۔ اس تمام بحث کا آخری نتیجہ یہ ہے کہ شیعہ، سنی، دیوبندی، اہل حدیث اور بریلوی لوگوں میں سے تو کوئی بھی مسلم نہیں اور اگر مملکت کی حکومت ایسی جماعت کے ہاتھ میں ہو جو دوسری جماعت کو کافر سمجھتی ہے تو جہاں کوئی شخص اگر عقیدے کو بدل کر دوسرا اختیار کرے، اس کو اسلامی مملکت میں لازمی موت کی سزا دی جائے گی'۔

منیر رپورٹ کے کچھ الفاظ اس قابل ہیں کہ انہیں قومی نصاب میں داخل کیا جائے:

"عام آدمی پاکستان کو ایک اسلامی مملکت سمجھتا ہے، حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ اس عقیدے کو اس مسلسل چیخ وپکار سے تقویت پہنچی ہے جو اسلام اور اسلامی مملکت کے متعلق قیام پاکستان کے وقت سے اب تک مختلف حلقوں کی طرف سے مچائی جا رہی ہے۔ آج مسلمان یاد ماضی کا لبادہ اوڑھے صدیوں کا بھاری بوجھ اپنی پشت پر لادے مایوس ومبہوت ایک دوراہے پر کھڑا ہے اور فیصلہ نہیں کر سکتا کہ دونوں میں سے کس موڑ کا رخ کرے۔ دین کی وہ تازگی اور سادگی جس نے ایک زمانے میں اس کے ذہن کو عزم مصمم اور اس کے عضلات کو لچک عطا کی تھی، آج اس کو حاصل نہیں ہے۔ اس کے پاس نہ فتوحات حاصل کرنے کے وسائل ہیں نہ اہلیت ہے اور نہ ہی ایسے ممالک موجود ہیں جن کو فتح کیا جا سکے۔ مسلمان بالکل نہیں سمجھتا کہ جو قوتیں آج اس کے خلاف صف آراء ہیں، وہ ان قوتوں سے بالکل مختلف ہیں جس سے اس کو ابتدائے اسلام میں جنگ کرنی پڑی تھی اور اس کے اپنے آباؤ اجداد ہی کی راہنمائی سے ذہن انسانی نے ایسے کارنامے انجام دیے ہیں جن کو سمجھنے سے وہ قاصر ہے۔ لہذٰا وہ اپنے آپ کو عجیب بے بسی کی حالت میں پاتا ہے اور انتظار کر رہا ہے کہ کوئی آئے اور اسے اس بے یقینی اور ژولیدگی کی دلدل سے باہر نکالنے میں مدد کرے، لیکن وہ برابر یونہی انتظار کرتا رہے گا اور اس انتظار کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔ صرف ایک ہی چیز ہے جو آج اسلام کو ایک عالمگیر تصور کی حیثیت سے محفوظ رکھ سکتی ہے، اور وہ یہ ہے کہ اسلام کی نئی تاویل و تشکیل دلیرانہ کی جائے جو زندہ حقائق کو مردہ تصورات سے الگ کر دے'۔
منیر رپورٹ اور جج حضرات کے طریقہء استفسار سے اختلاف کیا جا سکتا ہے (اور مودودی صاحب نے اس رپورٹ کے مطابق یہی نقطہ نظر استعمال کیا) کیونکہ مذہبی پیشواؤں اور مغربی قانون کے ماہر ججوں کے مابین علم کی وسیع خلیج موجود تھی اور مذہبی قانون کی مروجہ قانون سے فرق کے باعث دونوں فریقین اپنے اپنے نقطہ ہائے نظر پر ڈٹے رہے۔ نتیجہ علماء کو پھانسی اور قید کی سزاؤں میں نکلا۔

(جاری ہے)

کتابیات
تعبیر کی غلطی، مولانا وحیدالدین خان
تحریک آزادیء ہند اور مسلمان(حصہ اول و دوم)
مولانا مودودی اور میں، اسرار احمد
’قائد اعظم، نظریہ پاکستان اور اسلامی نظام: ابوالاعلی مودودی کی نظر میں‘، مولانا محمد اشفاق
روداد جماعت اسلامی
تحریک جماعت اسلامی: ایک تحقیقی مطالعہ، اسرار احمد
پاکستان کی سیاسی تاریخ: ترقی اور جمہوریت کو روکنے کے لئے اسلامی نظام کے نعرے، زاہد چوہدری
جماعت اسلامی کی انتخابی جدوجہد
منیر رپورٹ، ترجمہ بشکریہ ماہنامہ ’نیا زمانہ'
مودودی حقائق، محمد صادق قادری
پردہ، ابوالاعلی مودودی
محاصرے کا روزنامچہ، وجاہت مسعود
طلبہ تحریکیں، جلد اول، سلیم منصور خالد
میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا، صدیق سالک
مشاہدات، میاں طفیل محمد
پاکستان میں طلباء تحریک، پروفیسر عزیزالدین
جماعت اسلامی پر ایک نظر، شیخ محمد اقبال

Sayyid Abul A'ala Maududi & his thought,Masud ul Hasan
The Vanguard of Islamic Revolution, Vali Nasr
Mawdudi and Making of Islamic Revivalism, Vali Nasr
Magnificient Delusions, Husain Haqqani
Islam and the secular State. Abdulllah An'naim
The 1974ouster of the heretics: What really happened?
NADEEM F. PARACHA

Image: Khuda Bux Abro for Dawn.com

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Abdul Majeed Abid

Abdul Majeed Abid

Dr. Abdul Majeed is a medical doctor and a teacher by profession. He has a keen interest in History.


Related Articles

اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں-پہلی قسط

اکتوبر انیس سو پینتالیس میں مولانا مودودی نے اپنی جماعت کے ارکان کو انتخابات میں مسلم لیگ کو ووٹ ڈالنے سے منع کیا۔ حالانکہ ان انتخابات میں مسلم لیگ نے ’اسلام خطرے میں ہے‘ کا نعرہ بلند کیا تھا اور پنجاب کے علاوہ دیگر صوبوں میں اسے مذہبی شخصیات کی آشیر واد حاصل تھی۔

اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں-تیسری قسط

عبدالمجید عابد: انتخابات میں جماعت اسلامی نے ایک انوکھا تجربہ کیا۔ جماعت نے امیدواری اور پارٹی ٹکٹ سسٹم کو امہات الخبائث قرار دے کر ترک کر دیا۔

اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں - پانچویں قسط

ڈاکٹر عبدالمجید عابد: جماعت کو یقین تھا کہ دستور سازی میں اس کی تجاویز کو بنیادی اہمیت دی جائے گی، حالانکہ جماعت کا ایک بھی رکن دستور ساز اسمبلی کا حصہ نہیں تھا۔