اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں-دوسری قسط

اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں-دوسری قسط
جماعت اسلامی کی سیاسی تاریخ اور ارتقاء پر ڈاکٹر عبدلمجید عابد کا یہ مضمون اس سے قبل معروف سہ ماہی ادبی جریدے 'آج' میں بھی شائع ہو چکا ہے۔ لالٹین پر اسے بعض اضافوں کے ساتھ قسط وار شائع کیا جا رہا ہے۔


اس سلسلے کی بقیہ اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

تقسیم ہند کے موقعے پر پٹھان کوٹ سے فوجی ٹرکوں پر کتابیں لاد کر لاہور لانے والے مودودی صاحب اور ان کی قائم کردہ جماعت نے کبھی جمہوریت یا جمہور ی نظام کو کماحقہ تسلیم نہیں کیا اور ابن الوقتی کی سیاست کی۔ ترجمان القرآن کو کئی ماہ اشاعت کی اجازت نہ مل سکی تو سہ روزہ 'کوثر' نے جماعت کی ترجمانی کا کام سرانجام دیا۔ 'کوثر' کے مدیر مولانا نصر اللہ خان عزیز جماعت کے نفس ناطقہ کی حیثیت رکھتے تھے اور طعن وتشنیع کے ماہر سمجھے جاتے تھے۔ اس اخبار کی ادارت سے قبل وہ بجنور سے نکلنے والے کانگرسی اخبار 'مدینہ' کے مدیر تھے۔ جنوری اور جون 1947ء میں شائع ہونے والے 'کوثر' اخبار نے 'مسلم لیگ کے پاکستان' کو 'فاقستان' اور 'لنگڑا پاکستان' قرار دیا۔ بقول مرشد، ’قیام پاکستان کے بعد نظریاتی سیاست کا پرچم دو گروہوں کے ہاتھ آیا۔ ایک تو تھی جماعت اسلامی۔ جماعت اسلامی جدید دور کے معاشی اور معاشرتی تقاضوں سے جنم لینے والے سیاسی بندوبست سے منکر تھی۔ حکومت الٰہیہ کی داعی تھی۔ نظریاتی سیاست کا دوسرا پرچم کمیونسٹوں کے ہاتھ آیا۔ وہ بھی معیشت اور معاشرت کے موجودہ بندوبست سے نالاں تھے اور سیاسی نظام بدلنا چاہتے تھے۔' مسلم لیگ کو کئی برس تضحیک کا نشانہ بنانے کے بعد اسی لیگ کی کوششوں کے باعث قائم ملک میں ڈیرہ جمانے کے بعد جماعت مودودیہ نے اپنی چودھراہٹ قائم کرنے کی سعی شروع کی۔ 16 نومبر 1947ء کے روز مودودی صاحب نے 'کوثر' اخبار میں لکھا:

تقسیم ہند کے موقعے پر پٹھان کوٹ سے فوجی ٹرکوں پر کتابیں لاد کر لاہور لانے والے مودودی صاحب اور ان کی قائم کردہ جماعت نے کبھی جمہوریت یا جمہور ی نظام کو کماحقہ تسلیم نہیں کیا اور ابن الوقتی کی سیاست کی۔
'ہم سے یہ بھی پوچھا جاتا ہے کہ تم لوگ جب تحریک کے ہم نوا نہیں تھے جس کے نتیجے میں پاکستان بنا ہے تو اب آخر ہمیں کیا حق پہنچتا ہے کہ اس پاکستان کی سرزمین میں پناہ لو۔ ہاں فی الوقع ہماری حیثیت پاکستان میں پناہ گزینوں کی سی ہے اور اگرچہ ہم اس تحریک کو آج بھی صحیح نہیں سمجھتے جس کی بنیاد پر پاکستان بنا ہے اور پاکستان کا اجتماعی نظام جن اصولوں پر قائم ہو رہا ہے ان اصولوں کو اسلامی نقطہ نظر سے ہم کسی قدروقیمت کا مستحق نہیں سمجھتے لیکن جو چیز ہمیں یہاں کھینچ لائی ہے وہ یہ ہے کہ یہاں کے باشندے اعمال وکردار کے لحاظ سے چاہے کوئی بھی رویہ رکھتے ہیں لیکن بہر حال وہ اس خدا کا نام لیتے ہیں جس کی عبادت و طاعت ہماری نگاہ میں واجب ہے۔ وہ اپنے آپ کو اس کتاب کا حامل مانتے ہیں جس کے ایک ایک شوشے کی پابندی مسلمان کے لیے فرض عین ہے اور وہ اس اسلامی نظام کے قیام کو خواہش ظاہر کرتے ہیں جس کے سوا کسی دوسرے نظام کو قائم کرنا یا قبول کرنا رو ا نہیں ہے پاکستان بنانے کے لئے چاہے انداز غلط اختیار کیا گیا ہو لیکن مسلمانوں سے ہم یہ توقع رکھتے ہیں کہ اب پاکستان کو حاصل کر لینے کے بعد صحیح اسلامی اصولوں پر اسے فی الواقع پاکستان بنانے میں پس وپیش نہ کریں گے'۔

غیر منقسم ہندوستان میں ترجمان القرآن کا آخری پرچہ جون 47ء کا تھا جس میں مولانا نے فرمایا: ’میں آپ لوگوں سے اکثر کہتا رہا ہوں کہ اسلامی انقلاب پیدا کرنے کا جتنا امکان مسلم اکثریتی علاقوں میں ہے، قریب قریب اتنا ہی امکان غیر مسلم علاقوں میں ہے۔ میری اس بات کو بہت سے لوگ ایک غرق تخیل آدمی کا خواب سمجھتے ہیں ۔ اور بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ شائد یہ تصوف کا کوئی نقطہ ہے جو ہماری سمجھ سے بالاتر ہے‘۔

اگست سنہ 1975ء میں مودودی صاحب نے نوائے وقت میں ایک مضمون لکھا جس کے مطابق: ’ہم مسلمانوں کے لیے علیحدہ وطن کی حمایت کرتے تھے لیکن مسلم لیگ کے راستے کی رکاوٹ نہ بنے۔ اگر لیگ اپنے مقصد میں ناکام ہو جاتی تو ہم میدان میں اتر آتے‘(خوش فہمی کی انتہا کہہ لیجیے یا تجاہل عارفانہ)۔ سنہ 1948ء کے اوائل میں مولانا نے لاہور کے لا ء کالج میں ’اسلامی دستور‘ کے خدوخال پر اپنی ماہرانہ رائے کا اظہار کیا، جس کے جواب میں مسلم لیگ کے راہنما راجہ غضنفر علی اور معروف شاعر فیض احمد فیض نے اس 'ناقابل عمل' تجویز پر مولانا کے خوب لتے لیے۔ مولانا کو لاء کالج اور ریڈیو پاکستان پر 'اسلامی دستور' کے متعلق اظہار خیال کا موقعہ حکومت پنجاب کے ’محکمہ تعمیر اسلامی‘ نے دیا تھا۔ بقول زاہد چوہدری:

’قائداعظم کے سیکولر نظریے کے خلاف کراچی سے بھی بڑا محاذ پنجاب کے رجعت پسند جاگیرداروں اور درمیانے طبقے کے قدامت پسند عناصر نے بنایا تھا۔
’قائداعظم کے سیکولر نظریے کے خلاف کراچی سے بھی بڑا محاذ پنجاب کے رجعت پسند جاگیرداروں اور درمیانے طبقے کے قدامت پسند عناصر نے بنایا تھا۔ اس صوبے کا وزیر اعلیٰ ایک نیم تعلیم یافتہ اور کم عقل جاگیر دار نواب افتخار ممدوٹ تھا جو یہ سمجھتا تھا کہ اس کے طبقے کے مفادات کے تحفظ کے لیے ضرور ی ہے کہ اسلام کو صبح و شام سیاسی حربے کے طور پر استعمال کیا جائے۔ اس نے اپنے دوستوں کے مشورے کے مطابق پہلے تو ستمبر میں ایک شخص غلام محمد اسد سے ریڈیو پاکستان لاہور سے ’اسلام اور مسلمان‘ کے عنوان سے تقریروں کا ایک سلسلہ شروع کروایا اور پھر اکتوبر میں اس کی سربراہی میں سرکاری بندوبست میں ایک نئے محکمے بنام ’تعمیر اسلامی‘ کا اضافہ کیا گیا۔ یہ شخص (محمد اسد) آسٹریا کا ایک یہودی تھا اور اس کا اصلی نام لیوپولڈ ویس تھا۔ اس نے روس میں 1917ء کے پرولتاری انقلاب کے بعد اسلام قبول کر کے بطور اخبار نویس مشرق وسطیٰ میں سارے عالمِ عرب کا دورہ کیا تھا۔ اسے انگریزوں نے دوسری جنگ عظیم کے دوران ہٹلر کا جاسوس ہونے کے شبے میں احمد آباد میں نظربند کیا تھا۔ جنگ کے خاتمہ پر اس کی رہائی ہوئی تو اس نے لاہور میں ڈیرے ڈال لیے اور قیامِ پاکستان کے بعد وہ یہاں اسلام کا عظیم ترین علم بردار بن بیٹھا۔ اس کی زندگی کا واحد نصب العین یہ تھا کہ مشرق وسطیٰ اور برصغیر کے شمال مغربی علاقے میں سویت یونین کے اثر و رسوخ کا سدباب کیا جائے۔ اس نے اکتوبر کے دوسرے ہفتے میں اپنے محکمہ تعمیر اسلامی کا چارج سنبھالنے کے بعد ریڈیو پاکستان لاہور سے تقریر کی جس کا خلاصہ یہ تھا کہ ہماری یہ مملکت پاکستان ایک نظریاتی مملکت ہے اور ہم مسلمان اسلام سے وابستگی کی وجہ سے ایک قوم ہیں'۔

جنوری 1948ء میں صوبائی وزیر میاں افتخار الدین نے تقسیم اراضی کی تجویزپیش کی اور الاٹمنٹ میں بے ضابطگی کے مسئلے پر استعفیٰ پیش کیا۔ عوام میں اس نظریے کی مقبولیت کا سدباب کرنے کے لئے مودودی صاحب کو ریڈیو پر ’اسلام کا معاشی نظام‘ کے موضوع پر تقاریر کے لیے بلایا۔ مولانا نے اسلامی معیشت اور مساوات کے متعلق ان زریں خیالات کا اظہار کیا: ’اسلام جس مساوات کا قائل ہے، وہ رزق میں مساوات نہیں بلکہ حصولِ رزق کی جدوجہد کے مواقع میں مساوات ہے۔ فطرت سے قریب تر نظام وہی ہو سکتا ہے جس میں ہر شخص معیشت کے میدان میں اپنی دوڑ کی ابتدا اس مقام اور اسی حالت سے کرے جس پر خدا نے اسے پیدا کیا ہے۔ فطرت سے قریب تر نظام وہی ہو سکتا ہے جس میں ہر شخص معیشت کے میدان ابتداء اسی مقام سے کرے جس پر وہ پیدا ہوا، جو موٹر لیے ہوئے آیا ہے وہ موٹر ہی پر چلے، جو صرف دو پاؤں لایا ہے وہ پیدل ہی چلے اور جو لنگڑا پیدا ہوا ہے وہ لنگڑا کر ہی چلے۔ سوسائٹی کا قانون نہ تو ایسا ہونا چاہئے کہ وہ موٹر والے کا مستقل اجارہ موٹر پر ہی قائم کر دے اور لنگڑے کے لیے موٹر کا حصول ناممکن بنا دے اور نہ ہی ایسا ہونا چاہئے کہ سب کی دوڑ زبردستی ایک ہی مقام اور ایک ہی حالت سے شروع ہو‘۔

مولانا نے اپنے قاصد کراچی بھیجے تاکہ قانون ساز اسمبلی کے ارکان کو اس بات پر قائل کیا جائے کہ وہ مقننہ میں پاکستان کے 'نظریاتی ریاست' ہونے کی قرارداد پیش کر سکیں
13جنوری 1948ء کو راولپنڈی میں منعقدہ جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے مولانا نے فرمایا:

’اب مسلمانوں کا نصب العین پورا ہو گیا ہے تو پاکستان کے علم بردار کو چاہئے کہ اس مسلم ملک میں اسلامی قوانین کے مطابق آئین مرتب کر کے اپنے وعدے پورے کریں‘۔

مارچ 1948ء میں مولانا نے اپنے قاصد کراچی بھیجے تاکہ قانون ساز اسمبلی کے ارکان کو اس بات پر قائل کیا جائے کہ وہ مقننہ میں پاکستان کے 'نظریاتی ریاست' ہونے کی قرارداد پیش کر سکیں (اس موقعہ پر یہ کوشش کامیاب نہ ہوئی)۔

6 اپریل 1948ء کو ڈان اخبار سے انٹرویو کے دوران مولانا نے دستور ساز اسمبلی سے مندرجہ ذیل مطالبات کیے:
1۔ عوام الناس کی حاکمیت کی بجائے اللہ تعالی کی حاکمیت کو تسلیم کیا جائے۔
2۔ یہ تسلیم کیا جائے کہ پاکستان کا دستور شریعت کی بنیاد پر بنایا جائے گا۔
3۔ غیر اسلامی قوانین میں ترمیم کی جائے گی اور شریعت کے منافی کوئی قانون نہیں بنایا جائے گا۔
4۔ حکومت پاکستان شریعت کی حدود میں رہ کر اپنے اختیارات کا استعمال کرے گی۔ (بعدازاں یہ مطالبات قرارداد مقاصد اورپاکستان کے دستور کا حصہ بنے)

اس انٹرویو سے قبل مولانا نے ایک اجتماع کو بتایا: "ہماری قوم نے اپنے لیڈروں کے انتخاب میں غلطی کی تھی اور اب یہ غلطی نمایاں ہو کر سامنے آ گئی ہے۔ ہم چھے سال سے چیخ رہے تھے کہ محض نعروں کو نہ دیکھو بلکہ سیرت اور اخلاق کو بھی دیکھو۔ اس وقت لوگوں نے پرواہ نہ کی لیکن اب زمام کار ان لیڈروں کو سونپنے کے بعد ہر شخص پچھتا رہا ہے کہ واہگہ سے دہلی تک کا بڑا علاقہ اسلام کے نام سے خالی ہو چکا ہے۔ "

ہماری قوم نے اپنے لیڈروں کے انتخاب میں غلطی کی تھی اور اب یہ غلطی نمایاں ہو کر سامنے آ گئی ہے۔
اسی سال مودودی صاحب نے سرکاری ملازمت کے لیے وفاداری کا حلف اٹھانے کو ناجائز قرار دیا (کیونکہ نظام حکومت ’از روئے قانون قائم ہے‘ جو کہ اسلامی نظام نہیں)۔ کشمیر میں جاری گوریلا جنگ کے خلاف مولانا نے موقف اختیار کیا کہ جہاد کی اجازت صرف اسلامی حکومت ہی جاری کر سکتی ہے (سنہ 1941ء میں ان کا موقف تھا کہ حکومت غیر شرعی ہو تو فرد واحد جہاد کے لیے ہتھیار اٹھا سکتا ہے)۔ کشمیر میں جنگ کے خلاف ان کے 'فتوے' کو (بھارتی حکومت کے ایماء پر) سرینگر اور کابل ریڈیو سے نشر کیا گیا۔

جون 1948ء میں ماہنامہ ’ترجمان القرآن‘ کا پہلا شمارہ پاکستان سے شائع ہوا اور اس میں مسلم لیگ کے راہنماؤں کے بارے میں مندرجہ ذیل خیالات کا اظہار کیا گیا:

"یہ عین وہی لوگ ہیں جو اپنی پوری سیاسی تحریک میں اپنی غلط سے غلط سرگرمیوں میں اسلام کو ساتھ ساتھ گھسیٹتے پھرتے ہیں۔ انہوں نے قرآن کی آیات اور احادیث کو اپنی قوم پرستانہ کشمکش کے ہر مرحلے میں استعمال کیا ہے۔ انہوں نے پاکستان کے معنی لا الہ الا اللہ بیان کیے ہیں، لیکن افسوس کہ ان کی محبت اسلام کے، ان کی خدا ترسی کے، ان کی حب رسالت کے، ان کی قرآن دوستی کے، اور ان کی لاالہ نوائی کے جو عملی مناظر پاکستان کے دس ماہ کی تاریخ کے عجائب خانے میں آراستہ ملتے ہیں، ان کو دیکھ کر ہر حساس مسلمان کی گردن شرم سے جھک جاتی ہے۔ اگر حالات معمولی نہ ہوں بلکہ ایک قوم کی تعمیر کا آغاز ہو رہا ہو اور یہ آغاز بھی نہایت سازگار دور کے درمیان ہو رہا ہو، ایسے حالات میں کسی غیر صالح قیادت کو ایک منٹ کے لیے بھی گوارا کرنا خلاف مصلحت ہے۔ ایک غلط قیادت کی بقا کے لیے کسی طرح کی کوشش کرنا ملک وقوم کے ساتھ سب سے بڑی غداری اور غلط قیادت سے نجات دلانے کی فکر کرنا اس کی سب سے بڑی خیرخواہی ہے۔"

"جو لوگ کل تک پاکستان کے مخالف تھے اور لیگ کی تنظیم سے الگ رہے بلکہ انہوں نے انتخابات میں لیگ کے امیدواروں کی مخالفت کی، وہ آج نظام شرعی کے حامی بنے ہوئے ہیں اور پاکستان کو ناکام بنانے کے لیے مذہب کی آڑ لے رہے ہیں۔"
جواب میں نوائے وقت نے تبصرہ کیا: "جو لوگ کل تک پاکستان کے مخالف تھے اور لیگ کی تنظیم سے الگ رہے بلکہ انہوں نے انتخابات میں لیگ کے امیدواروں کی مخالفت کی، وہ آج نظام شرعی کے حامی بنے ہوئے ہیں اور پاکستان کو ناکام بنانے کے لیے مذہب کی آڑ لے رہے ہیں۔" غلام جیلانی برق نے لکھا: "سلطنت کے بنے ایک سال نہیں ہوا لیکن علماء کی ایک خاص جماعت تخریب میں مصروف ہو گئی ہے۔ اگر یہ فتنہ کار علماء اپنی حرکات سے باز نہ آئے تو ہم قوم کو یہ بتانے پر مجبور ہو جائیں گے کہ ہمارے نام نہاد علماء نے کتنی ہزار مرتبہ کتنے کتنے محشر اٹھائے۔ شریعت شریعت کرنے والے ایک صاحب ایسے بھی ہیں جو ہمیشہ پاکستان کے خلاف کام کرتے رہے۔ جنہوں نے پچھلے سال جہاد کشمیر کو فساد قرار دیا۔ آج جب پاکستان ایک حقیقت ثابتہ بن چکا ہے تو وہ خدائی شریعت کا لبادہ اوڑھ کر پاکستان کو کمزور کرتے پھرتے ہیں۔"

(جاری ہے)

کتابیات
تعبیر کی غلطی، مولانا وحیدالدین خان
تحریک آزادیء ہند اور مسلمان(حصہ اول و دوم)
مولانا مودودی اور میں، اسرار احمد
’قائد اعظم، نظریہ پاکستان اور اسلامی نظام: ابوالاعلی مودودی کی نظر میں‘، مولانا محمد اشفاق
روداد جماعت اسلامی
تحریک جماعت اسلامی : ایک تحقیقی مطالعہ، اسرار احمد
پاکستان کی سیاسی تاریخ: ترقی اور جمہوریت کو روکنے کے لئے اسلامی نظام کے نعرے، زاہد چوہدری
جماعت اسلامی کی انتخابی جدوجہد
منیر رپورٹ، ترجمہ بشکریہ ماہنامہ ’نیا زمانہ'
مودودی حقائق، محمد صادق قادری
پردہ، ابوالاعلی مودودی
محاصرے کا روزنامچہ، وجاہت مسعود
طلبہ تحریکیں، جلد اول، سلیم منصور خالد
میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا، صدیق سالک
مشاہدات، میاں طفیل محمد
پاکستان میں طلباء تحریک، پروفیسر عزیزالدین
جماعت اسلامی پر ایک نظر، شیخ محمد اقبال

Sayyid Abul A'ala Maududi & his thought,Masud ul Hasan
The Vanguard of Islamic Revolution, Vali Nasr
Mawdudi and Making of Islamic Revivalism, Vali Nasr
Magnificient Delusions, Husain Haqqani
Islam and the secular State. Abdulllah An'naim
The 1974ouster of the heretics: What really happened?
NADEEM F. PARACHA

Image: Khuda Bux Abro for Dawn.com

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Abdul Majeed Abid

Abdul Majeed Abid

Dr. Abdul Majeed is a medical doctor and a teacher by profession. He has a keen interest in History.


Related Articles

تھا ضمیرِ جعفری بھی اک مزیدار آدمی۔۔۔ ؎

ضمیر کا معاشرتی ادراک اور سیاسی بصیرت مزاح میں اکبر الہ آبادی یا حالیؔ کی طرح مربیانہ زبان رکھتا ہے نہ فوجداروں سا آہنگ کہ جس سے کسی اصلاحی تحریک کی بُو آتی ہو۔

معراج محمد خان

استعفیٰ دینے کے کچھ عرصے بعد بھٹو صاحب کے حکم پر معراج کو پولیس نے تشدد کا نشانہ بنایا اور گرفتار کر لیا۔ بھٹو دور کے باقی ماندہ سالوں میں معراج ایک جیل سے دوسری جیل کے چکر کاٹتا رہا اور مختلف کمیونسٹ جماعتوں کا رکن رہا۔

ہم اپنے ہی دشمن

ہم ہی ہیں جو تنگ نظری کی وجہ سے اپنے ہی دشمن بنتے ہیں،کسی اور سیارے سے کوئی نہیں آتا اور ہماری زمیں کو خون آلود کرتا