اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں-تیسری قسط

اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں-تیسری قسط

جماعت اسلامی کی سیاسی تاریخ اور ارتقاء پر ڈاکٹر عبدلمجید عابد کا یہ مضمون اس سے قبل معروف سہ ماہی ادبی جریدے 'آج' میں بھی شائع ہو چکا ہے۔ لالٹین پر اسے بعض اضافوں کے ساتھ قسط وار شائع کیا جا رہا ہے۔

اس سلسلے کی بقیہ اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

تقسیم ہند کے بعد پاکستان کے ادبی میدان میں ایک سہ جہتی مکالمہ اور مقابلہ جاری تھا۔ ایک جانب ادب برائے زندگی کے پیروکار کھڑے تھے تو دوسری جانب ادب برائے ادب کا علم بلند تھا۔ ایک تیسر ی صنف ادب برائے پاکستان کے نام سے بھی موجود تھی اور محمد حسن عسکری، ایم ڈی تاثیر وغیرہ اس تحریک کے روح دواں تھے۔ ادب برائے زندگی کے داعی ترقی پسند، انجمن ترقی پسند مصنفین کے پرچم تلے جمع تھے جب کہ ادب برائے ادب کی پکار حلقہء ارباب ذوق سے نمودار ہوتی تھی۔ پاکستانی ادب اور معاشرے کی جہت کے متعلق اس بحث میں جماعت نے بالواسطہ یا بلا واسطہ کوئی اہم کردار ادا نہیں کیا۔

تحریک پاکستان کے اجزائے ترکیبی میں مومن اور کھلے کھلے ملحد سب شامل تھے بلکہ دین میں جو جو جتنا ہلکا تھا، وہ اتنا ہی اوپر آیا۔
جولائی 1948ء کے ’ترجمان القرآن‘ میں مودودی صاحب نے لکھا: ’اسی حل کو مسلمانوں نے قبول کیا (یعنی پاکستان کو) اور اپنی ساری قومی طاقت، اپنے تمام ذرائع اور اپنے جملہ معاملات اس قیادت کے حوالے کر دیئے جو ان کے قومی مسئلہ کو اس طرح حل کرنا چاہتی تھی۔ دس برس کے بعد آج اس کا پورا کارنامہ ہمارے سامنے ہے اور ہم دیکھ چکے ہیں کہ اس نے کس طرح، کس صورت میں ہمارے مسئلے کو حل کیا۔ جو کچھ ہو چکا، وہ تو انمٹ ہے اور اب اسے بدلا نہیں جا سکتا، اس پر بحث بیکار ہے کہ یہ کیا جاتا تو کیا ہوتا۔ البتہ اس حیثیت سے اس پر بحث کرنا ضروری ہے کہ جو مسائل ہمیں اب درپیش ہیں، کیا ان کے حل کے لیے بھی وہی قیادت موزوں ہے جو اس سے پہلے ہمارے قومی مسئلے کو اسی طرح حل کر چکی ہے؟ کیا اس کا اب تک کا کارنامہ یہی سفارش کرتا ہے کہ اب جو بڑے بڑے اور نازک مسائل ہمارے سر آن پڑے ہیں جن کا بیشتر حصہ خود اسی قیادت کی کارفرمائیوں کا نتیجہ ہے، انہیں حل کرنے کے لیے ہم اس پر اعتماد کریں؟ تحریک پاکستان کے اجزائے ترکیبی میں مومن اور کھلے کھلے ملحد سب شامل تھے بلکہ دین میں جو جو جتنا ہلکا تھا، وہ اتنا ہی اوپر آیا۔ اس میں اخلاق کی سرے سے کوئی پوچھ نہیں تھی۔ عام کارکنوں سے لے کر بڑے بڑے ذمہ داروں تک میں انتہائی ناقابل اعتماد سیرت کے لوگ موجود تھے۔ بلکہ تحریک کا قدم جتنا آگے بڑھا اس قسم کے عناصر کا تناسب بڑھتا ہی چلا گیا۔ اسلام کو اتباع کے لیے نہیں بلکہ عوام میں مذہبی جوش پیدا کرنے کے لیے فریق جنگ بنایا گیا تھا۔ کبھی ایک دن کے لیے بھی اس کو یہ حیثیت نہیں دی گئی کہ وہ حکم دے اور یہ اسے مانیں اور کوئی قدم اٹھاتے وقت یہ اس سے استصواب کریں‘۔
نوائے وقت نے تبصرہ کیا: ’حضرت مولانا نے 10 سال کے عرصے میں پہلی مرتبہ دل کھول کر بات کہی اور صاف لفظوں میں مسلمانوں سے کہا کہ محمد علی جناح کی جگہ مجھے قائداعظم مانو۔ اب صرف اتنا کرم فرمائیں کہ مسلمانوں کو یہ بتا دیں کہ آپ کا ٹھوس سیاسی پروگرام کیا ہے؟ اپنا پروگرام نہ بتانا اور محض نعروں ہی سے مسلمانوں کا دل بہلانا یا قائد اعظم کو ’احمق‘، ’غلط کار‘ اور ’دین میں ہلکا‘ ثابت کرنے کی کوشش میں لگے رہنا ہرگز آپ کے شایان شان نہیں‘۔

جناح صاحب کی وفات پر مولانا نے فرمایا: ’بے وقت موت ایک ملحدانہ اصطلاح ہے۔ مسلمان کے نزدیک ہر موت اپنے ٹھیک وقت پر آتی ہے اور خدا اس کا وقت کسی مشورے سے نہیں بلکہ اپنی حکمت اور مصلحت کے اعتبار سے مقرر کرتا ہے۔‘ اگست 1948ء میں انہوں نے ایک سوال کے جواب میں پاک فوج میں بھرتی ہونے سے منع فرمایا کیونکہ ان کے مطابق وہ ایک ’غیر اسلامی فوج‘ تھی (ساٹھ سال بعد ان کی جماعت کے سربراہ نے طالبان کے ہاتھوں مارے جانے والے فوجیوں کو ’شہید ‘ کہنے سے انکار کیا۔ جواب میں فوج کے نمائندے نے منور حسن پر چڑھائی تو کی لیکن اسی سانس میں مودودی صاحب کی تعریف بھی کر ڈالی۔ تاریخ سے ناآشنائی کا یہی نتیجہ نکلتا ہے)۔ اکتوبر 1948ء میں حکومت پاکستان نے غداری کے الزام میں جماعت پر پابندی عائد کر دی اور اس کے زیر تحت تمام اخبارات اور رسائل کے اجازت نامے منسوخ کر دیے۔ اس کے علاوہ جماعت کے سربراہان کو جیل بھیج دیا گیا، افسر شاہی میں جماعت سے ہمدردی رکھنے والے افسران کو برطرف کر دیا گیا اور وزیر اعظم لیاقت علی خان نے سرکاری ملازمین کو جماعت کا لٹریچر پڑھنے سے منع کر دیا۔ اس دور میں پبلک سیفٹی آرڈیننس اور دیگر سامراجی قوانین کا اطلاق مخالف نقطہ نگاہ رکھنے والی جماعتوں پر کیا جاتا تھا۔ ایک موقعہ پر تو جماعت اسلامی اور کمیونسٹ پارٹی نے مل کر ان قوانین کے خلاف ملک بھر احتجاج منعقد کیا۔

جیل کی سلاخوں کے عقب سے مولانا نے اپنے ساتھیوں عبدالجبار غازی (قائم مقام امیر جماعت) اور عبدالغفار حسن کے ذریعے قانون ساز ااسمبلی کے رکن شبیر احمد عثمانی تک اپنا پیغام پہنچایا۔ بعدازاں شبیر عثمانی نے قرارداد مقاصد کی تیاری میں اہم کردار ادا کیا اور اس قرارداد کے الفاظ میں جماعت اسلامی اور اس کے مطالبات کی گونج واضح ہے۔
اس صورت حال کے باوجود مولانا نے قرارداد کی منظوری کے بعد یہ بیان دیا:

شبیر عثمانی نے قرارداد مقاصد کی تیاری میں اہم کردار ادا کیا اور اس قرارداد کے الفاظ میں جماعت اسلامی اور اس کے مطالبات کی گونج واضح ہے۔
"ان حضرات کے قرارداد مقاصد پاس کرنے کی حیثیت بالکل ایسی ہے جیسی کوئی میم صاحبہ کسی مسلمان نواب یا رئیس زادے سے نکاح کرانا چاہے اور وہ اپنے اوراپنی اولاد کے لیے وراثت کے حقوق اور مسلمان سوسائٹی میں برابری کے حقوق حاصل کرنے کے لیے کلمہء اسلام پڑھ لے۔ لیکن نہ اس کلمے سے پہلے اس کی زندگی میں کوئی تغیر آئے اور نہ اس کے بعد کوئی تبدیلی رونما ہو۔ جیسی میم صاحبہ وہ پہلے تھیں، ویسی ہی میم صاحبہ وہ بعد میں رہیں۔"

مودودی صاحب کے اس بیان پر یہ محاورہ راس آتا ہے کہ بکری نے دودھ دیا، وہ بھی مینگنیوں بھرا۔

مارچ 1949ء میں دستور ساز اسمبلی میں قرارداد مقاصد زیر بحث تھی تو جماعت اسلامی کے ایک وفد نے کراچی جا کر حزب اختلاف کے قائد سریش چندر چٹو پاڈھیا کو مودودی کی ایک کتاب دی جس میں لکھا تھا کہ 'اسلام میں جمہوریت کی گنجائش نہیں ہے'۔ اس پر چٹو پاڈھیا نے اگلے روز ایوان میں مودودی کے اس 'اسلامی نظریے' کے خلاف بہت واویلا کیا تو سردار عبدالرب نشتر نے اس موقعہ پر مداخلت کر کے کہا، 'یہ شخص آج کل جیل کی ہوا کھا رہا ہے' اور لیاقت علی خان نے کہا، 'لاہور کے جن علماء نے یہ اسلامی لٹریچر مہیا کیا ہے، وہ شرپسند ہیں اور پاکستان کو تباہ کرنے کے لیے یہاں آئے تھے۔ خدا کے لیے ان کے شرانگیز پروپیگنڈا پر کان نہ دھریں۔ میں ایسے عناصر کو، جو پاکستان میں انتشار پھیلاتے ہیں، متنبہ کرتا ہوں کہ ہم ان کی سرگرمیوں کو مزید برداشت نہیں کریں گے'۔

ستمبر 1949ء میں جماعت کے قائم مقام امیر عبدالجبار غازی نے بیان جاری کیا، ’قرارداد مقاصد کی منظوری کے بعد جماعت اسلامی کو آئینی اصطلاح میں ایک سیاسی جماعت قرار دینا لغویت ہے۔ اس اصطلاح کی بنیاد اس غلط تصور پر ہے کہ مذہب اور سیاست الگ الگ ہیں۔ یہ تصور سراسر غیر اسلامی ہے۔ جماعت اسلامی کو، جس کا نصب العین اسلام کو اس کی مکمل صورت میں نافذ کرنا ہے، محض ایک سیاسی جماعت قرار دینا اور سرکاری ملازمین کے لیے اس کی رکنیت کی مخالفت کرنا بے ہودگی ہے‘۔ غازی صاحب نے اس امر پر روشنی ڈالنے سے گریز کیا کہ کچھ سال قبل ان کی جماعت کے امیر نے کارکنان کو سرکاری ملازمت سے منع کیا تھا تو اب اس مسئلے پر شور وغوغا منافقت کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں؟

ہندوستان سے پاکستان کا رخ کرنے والے ’اردو مافیا‘ کے لئے مذہب اور اردو پاکستان کی بقائے دوام کے لئے ضروری تھے اور اس طبقے کی قدامت پرستی ملکی انتظامیہ میں سرایت کر چکی تھی۔
مئی 1950ء میں عدالتی احکامات کے ذریعے جیل سے رہائی حاصل کرنے کے بعد مولانا نے ایک نیا پینترہ بدلا۔ زبان کے مسئلے پر بنگالیوں نے حکومت پاکستان کے موقف سے اختلاف کیا تو جناب نے حکومت کی حمایت کی اور جون 1950ء کے ترجمان القرآن میں اسلام اور اردو کو اسلامی مملکت کی وحدت کے لیے ضروری قرار دیا۔ ہندوستان سے پاکستان کا رخ کرنے والے ’اردو مافیا‘ کے لئے مذہب اور اردو پاکستان کی بقائے دوام کے لئے ضروری تھے اور اس طبقے کی قدامت پرستی ملکی انتظامیہ میں سرایت کر چکی تھی۔ سنہ 1951ء کے اعداد وشمار کے مطابق پاکستان میں صرف سات فیصد افراد کی مادری زبان اردو تھی۔ مولانا حالی کا کہنا تھا کہ اردو اس کی مستند ہے جو دہلی کے آس پاس کا رہنے والا ہو اور مسلمان ہو۔ پاکستان میں مذہب اور زبان کے اس امتزاج کو پروان چڑھایا گیا اور 'ہندووانہ' بنگالی زبان کے مقابلے میں اردو کا ہوّا (bogeyman) کھڑا کیا۔ اجمل کمال لکھتے ہیں کہ 'اردو ہندوستان میں مسلمان اقلیت اور پاکستان میں حکمران اکثریت کی سیاست سے ناقابل تلافی طور پر وابستہ ہو چکی ہے‘۔ مولوی عبدالحق کے الفاظ تھے: ’پاکستان کونہ جناح نے بنایا نہ اقبال نے بلکہ اردو نے پاکستان کو بنایا۔ ہندوؤں اور مسلمانوں میں اختلاف کی اصلی وجہ اردو زبان تھی۔ سارا دو قومی نظریہ اور سارے ایسے اختلاف صرف اردو کی وجہ سے تھے، اس لیے پاکستان پر اردو کا بڑا احسان ہے'۔

جمہوریت کو کفریہ نظام قرار دینے والی جماعت نے مارچ سن 1951ء میں پنجاب کے صوبائی انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا۔ مودودی صاحب نے اس موضوع پر فرمایا، ’دستور ساز اسمبلی میں قرارداد مقاصد کے پاس ہو جانے کے بعد ریاست پاکستان ایک اسلامی ریاست بن چکی ہے اور اب ہمارے لئے دوسرا اہم مرحلہ یہ ہے کہ حکومت پاکستان کو بھی ایک اسلامی حکومت میں تبدیل کیا جائے۔ اس تبدیلی کی سعی کا ایک ضروری جزو یہ ہے کہ جہاں جہاں انتخاب کا موقع پیدا ہو، وہاں ہم ایسے صالح لوگوں کو منتخب کرانے کی کوشش کریں جو اپنی ذہنیت اور سیرت کے اعتبار سے سچے مسلمان ہوں، جن پر یہ بھروسہ کیا جا سکے کہ اقتدار کی امانت پا کر وہ خدا اور اس کے دین اور ملت پاکستان کے ساتھ خیانت نہیں کریں گے اور جن سے یہ امید کی جا سکے کہ وہ حکومت کے نظام کو خلافت راشدہ کے طریق پر ڈال سکیں گے‘۔

انتخابات میں جماعت اسلامی نے ایک انوکھا تجربہ کیا۔ جماعت نے امیدواری اور پارٹی ٹکٹ سسٹم کو امہات الخبائث قرار دے کر ترک کر دیا۔
انتخابات میں جماعت اسلامی نے ایک انوکھا تجربہ کیا۔ جماعت نے امیدواری اور پارٹی ٹکٹ سسٹم کو امہات الخبائث قرار دے کر ترک کر دیا۔ فیصلہ کیا گیا کہ 'جماعت نہ اپنے پارٹی ٹکٹ پر آدمی کھڑے کرے گی، نہ اپنے ارکان کو آزاد امیدوار کی حیثیت سے کھڑا ہونے کی اجازت دے گی، نہ کسی ایسے شخص کی تائید کرے گی جو خود امیدوار ہو اور اپنے لیے آپ ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کرے۔'

طریق انتخاب یہ تھا کہ جماعت ان علاقوں کو جدوجہد کے لیے منتخب کرے گی جہاں پہلے ہی اس کا اثر ونفوذ موجود ہے، ان حلقوں کے ووٹروں سے رابطہ قائم کیا جائے گا اور ان کے سامنے جماعت اپنے مقاصد واضح کرے گی، پھر جو ووٹر جماعت کے مقاصد سے اتفاق کریں گے ان پر مشتمل انتخابی پنچایتیں بنائی جائیں گی۔ وہ ووٹر جو جماعت کا مرتب کردہ ایک عہد نامہ پورا کر لیں، ان کو ابتدائی اور ثانوی پنچایتوں کی شکل میں منظم کیا جائے گا اور پھر یہ پنچایتیں اپنے حلقے میں ایک ’صالح نمائندہ‘ منتخب کریں گی، جس کی شرائط بھی جماعت نے مقرر کیں۔

اس طریقے سے جو شخص بھی چھانٹا جائے گا اسے حلقہ انتخاب کے عوام کی طرف سے کھڑا کیا جائے گا۔ وہ شخص خواہ جماعت اسلامی کا رکن ہو یا نہ ہو، یہ جماعت اسی کی تائید کرے گی۔ وہ انتخاب کی مہم میں ایک پیسہ بھی اپنی جیب سے خرچ نہ کرے گا، سارا خرچ حلقہ کے لوگ کریں گے، وہ اپنی تعریف کے گن نہ گاتا پھرے گا اور نہ ووٹ حاصل کرنے کے لیے اپنے ایجنٹ چھوڑے گا۔ اس کو یہ حق تو ضرور ہو گا کہ کسی دوسرے حلقے میں، کسی دوسرے مرد صالح کی تائید کے لیے جا کر انتخابی جدوجہد کرے، مگر خود اپنے حلقے میں اپنے لیے وہ کوئی جدوجہد کرنے کا حقدار نہ ہو گا۔

اس کاٹ چھانٹ کے بعد جماعت نے پنجاب کے سینتیس (37) حلقوں میں 1390 پنچایتیں تشکیل دیں اور باون (52) امیدواروں کی حمایت کی۔ ان انتخابات میں مولانا مودودی کم وبیش تیس نشستوں پر کامیابی کا 'یقین' رکھتے تھے جب کہ جماعت کے اکابرین کے اندازے اس سے بھی بڑھے ہوئے تھے۔ جماعت کی تمام تر کوششوں کے باوجود صرف ایک ’صالح امیدوار‘ انتخابات میں کامیاب ہو سکا اور پینتالیس لاکھ ووٹوں میں سے جماعت کے امیدوار صرف ڈھائی لاکھ ووٹ حاصل کر سکے۔ اس سال صوبہ سرحد (موجودہ خیبرپختونخوا) کے صوبائی انتخابات میں جماعت نے پانچ صالحین کو منتخب کیا جن میں سے تین کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیے گئے اور جماعت نے ان انتخابات سے دستبرداری کا فیصلہ کیا۔

(جاری ہے)

کتابیات
تعبیر کی غلطی، مولانا وحیدالدین خان
تحریک آزادیء ہند اور مسلمان(حصہ اول و دوم)
مولانا مودودی اور میں، اسرار احمد
’قائد اعظم، نظریہ پاکستان اور اسلامی نظام: ابوالاعلی مودودی کی نظر میں‘، مولانا محمد اشفاق
روداد جماعت اسلامی
تحریک جماعت اسلامی : ایک تحقیقی مطالعہ، اسرار احمد
پاکستان کی سیاسی تاریخ: ترقی اور جمہوریت کو روکنے کے لئے اسلامی نظام کے نعرے، زاہد چوہدری
جماعت اسلامی کی انتخابی جدوجہد
منیر رپورٹ، ترجمہ بشکریہ ماہنامہ ’نیا زمانہ'
مودودی حقائق، محمد صادق قادری
پردہ، ابوالاعلی مودودی
محاصرے کا روزنامچہ، وجاہت مسعود
طلبہ تحریکیں، جلد اول، سلیم منصور خالد
میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا، صدیق سالک
مشاہدات، میاں طفیل محمد
پاکستان میں طلباء تحریک، پروفیسر عزیزالدین
جماعت اسلامی پر ایک نظر، شیخ محمد اقبال

Sayyid Abul A'ala Maududi & his thought,Masud ul Hasan
The Vanguard of Islamic Revolution, Vali Nasr
Mawdudi and Making of Islamic Revivalism, Vali Nasr
Magnificient Delusions, Husain Haqqani
Islam and the secular State. Abdulllah An'naim
The 1974ouster of the heretics: What really happened?
NADEEM F. PARACHA

Image: Khuda Bux Abro for Dawn.com

Abdul Majeed Abid

Abdul Majeed Abid

Dr. Abdul Majeed is a medical doctor and a teacher by profession. He has a keen interest in History.


Related Articles

قصہ قائد کے عقیدے کا

جب بھی پاکستان کا کوئی قومی تہوار آتا ہے تو قلم کے مزدور قائد اعظم کی 11اگست کی تقریر اور ان کے عقیدے پر اپنی اپنی آراء ، تبصروں اور تشریحات کے تیشے تاریخ کے سینے پر چلانے لگتے ہیں ۔

جنگِ ستمبر اورغلام جیلانی اصغر کے مشاہدات

قاسم یعقوب: سترہ روز جاری رہنے والی اس جنگ نے بہت سے سوالات دونوں ملکوں کے عوام کے لیے چھوڑے۔ چونکہ پاکستان کے لیے یہ دفاعی حکمتِ عملی کا امتحان تھا ہماری فوج نے پوری قوت سے اپنے دفاعی مقاصد کو عملی جامہ پہنایا۔

مندر جو مدرسے بنادیئے گئے

1992 میں ہندوستان میں بابری مسجد کے انہدام کے بعد ایک طرف جب مدرسوں کے کچھ طلبہ ہجوم کی شکل میں مندروں کو نقصان پہنچانے میں مصروف تھے تو دوسری جانب بعض ایسے بھی تھے جو مدارس میں بدل دیئے جانے والے ان مندروں کا تحفظ کر رہے تھے۔