ایلکس ایپسٹائن کی کہانیاں

ایلکس ایپسٹائن کی کہانیاں
  1. لکھنے کی آخری گائیڈ
    ایک لمبا سانس لیں اور تب تک لکھیں جب تک سفید کاغذ نیلا نہیں ہو جاتا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  2. ایک تقریباً معمولی سی پریم کہانی
    پھولوں کی بجائے اس نے اس کو پھر سے ایک ٹوٹی ہوئی چھتری تحفہ دی۔ اس نے اسے ایک خالی برتن میں رکھا اور پانی ڈال دیا۔ اگلے دن چھتری کھل گئی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  3. امید
    مذہب کے خانے میں روبوٹ نے لکھا تھا : انسان
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  4. بارش کے مزید نام
    گرو کے شاگردوں نے پوچھا: زین کیا ہے؟
    اس نے جواب دیا: اگلے لمحے بارش ہو گی۔ یہ سنتے ہی وہ اسے بھیگنے سے بچانے کی خاطر چھتریاں لے آئے۔
    اگلے لمحے اس نے کہا: اس لمحہ بارش نہیں ہو گی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  5. پاتال
    گلی میں چلتے ہوئے آپ اپنے پیروں میں ایک کنکر محسوس کرتے ہیں۔آپ سستی محسوس کرتے ہیں اور خود کو یہ کہہ کر بہلاتے ہیں کہ گھر پہنچ کر اسے نکال دیں گے۔ اسی دوران آپ اسے بھول جاتے ہیں اور کنکر آپ کی زندگی کا ایک حصہ بن جاتا ہے۔ دوسرے دن آپکے جوتے میں دوسرا لنکر آ جاتا ہے۔ آپ کہتے ہیں گھر پہنچ کر آپ دونوں کنکر نکال دیں گے۔ گھر پہنچنے تک آپ سب کچھ بھول چکے ہیں۔ اگلے دن، اس سے اگلے دن۔۔۔۔اس سے اگلے دن بھی۔ یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے۔ ایک ماہ بعد آپ چل پھر بھی نہیں سکتے، نہ اپنے جوتے ہی اتار سکتے ہیں۔ ابھی تو دنیا میں بہت سے کنکر باقی ہیں۔ آپ فیصلہ کرتے ہیں کہ گھر پہنچ کر آپ اپنے پاؤں ہی کاٹ دیں گے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  6. کروموسومز
    پرانے وقتوں کی بات ہے، کہتے ہیں : ایک لائٹ ہاؤس نے خود کو ایک کشتی میں تبدیل کیا اور سارے سمندر دیکھ ڈالے اور جب وہ واپس آ رہا تھا تو ایک چٹان سے ٹکرایا اور پاش پاش ہو گیا۔ دراصل، میرے لئے یہ قیاس کرنا بہت مشکل ہے کہ ایک شاعر، جس کا نام x ہے وہ سو کر اٹھے اور دیکھے کہ کل رات وہ Y نامی شاعر میں تبدیل ہو چکا ہے۔

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Junaid ud-Din

Junaid ud-Din

Junaid-Ud-Din has competed his BA hons. from GCU Lahore. He is a Pan Islamist Socialist and Freelance Journalist. He is mad about Russian classic literature, Anton Chekhov, Maxim Gorky, Ivan Tergenev, Fudor Dostoevsky and Leo Tolstoy are his inspirations to write. Orhan Pamuk,Mario Vargas Llosa and Naguib Mahfouz are among his favourites.


Related Articles

سیٹھانی کا کتا

ﺗﮭﻮﮎ ﮐﻒ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﺎﭽﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮩﮧ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ، ﭘﯿﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺯﻧﺠﯿﺮﭘﮍﯼ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﮐﺘﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺭﮐﮭﯽ ﭘﻠﯿﭧ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺍﺑﻠﮯ ﭼﺎﻭﻟﻮﮞ ﭘﺮ ﻣﻨﮧ ﻣﺎﺭ ﺭﮨﺎﺗﮭﺎ۔

پورا چاند اور ننھی فرائیڈا

ایک خوشگوار چھوٹی سی شام
کتے کے بھونکنے اور
بالٹی کے کھڑکنے کی آواز سے بھری ہوئی ہے
اور تم یہ سب سن رہی ہو

جہاد النکاح

نسیم سید: المدینہ کی پہلی گولی امیر ابورباب کے سینے کو چیرگئی اورپھر عائشہ سمیت وہ سب جو اسے اپنے واسطے جب جی چاہے حلال قرار دے دیتے تھے اپنے خون میں نہائے فرش پر پڑے تھے ۔