ایک اور فتح کے بعد

ایک اور فتح کے بعد

بموں اور گولیوں سے
مری دھرتی اب نئی دنیا اگائے گی
ہوا
مردہ گلے جسموں کی بو میں
لڑکھڑائے گی
ڈری سہمی ہوئی مائیں
اب اپنے وقت سے پہلے
زمانے جننا سیکھیں گی
کھلی آنکھوں میں حیرانی سمیٹے
میرے بچے
پہلی بولی، درد سے آہوں سے
اور چیخوں سے سیکھیں گے
بلیک آؤٹ میں بیٹھے
ایڈیسن کو شکریے کی میل بھیجیں گے
عقوبت خانوں میں بے داغ جسموں پر
زمانے چڑھ گئے تو کیا
ہم ایور یوتھ کریموں سے
ہر اک سلوٹ چھپالیں گے
کلوننگ کے لئے خلئے ملیں گے
فرد ہم پھر سے بنالیں گے
زمین یہ بجھ گئی تو کیا
نئے سیارے پر جاکے
نئی دنیا بسا لیں گے

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

کوڑے کے ڈھیر پہ پڑا سچ

صفیہ حیات: زچگی کے دن ماں کے گھر گزارتی بیوی
بستر کے ساتھی کو
ساتھ لانا بھول گئی

دراز دَستوں کی سلطنت ہے

نحیف لوگوں کے قافلے بھی ٹھہر کے سوچیں
کہ ظُلم سہنے کی آخری حد کہاں تلک ہے؟

گلِ حیاء کی ڈائری کا ایک ورق

چمن میں ڈیرے ڈالے ہیں یہ کہہ کے کچھ درندوں نے کہ ہم تزئینِ گلشن کا فریضہ لے کے آئے