ایک باپ کے آنسو

ایک باپ کے آنسو
ایک باپ کے آنسو
ایک باپ کے آنسو
ہم ٹشو پیپر میں رکھ چھوڑیں گے
اور اسے کبھی سوکھنے نہیں دیں گے
اس میں ہم اپنے آنسو بھی ملاتے جائیں گے
ایک ماں کے آنسو جن کے ہم ذمہ دار نہیں
ان کو سمیٹنے کے لئیے
ہم خدا سے کہیں گے
اب ان آنسوؤں کی رکھوالی تجھےکرنا چاہئیے
اگر نہیں
تو یہ سمندر بھی بن سکتے ہیں
پھر تیری بنائی ہوئی اس دنیا کو
نوح کی کشتی بھی میسر نہیں ہوگی
پھر کیا ہو گا؟
پھر کیا ہونا چاہئیے

Image: BBC Urdu

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

Is there where the god abides?

Far and far away
Till the end of the way
Behind the barrier of light
Where can reach no sight
Is there where the god abides?

ایف سی کیمپ کے سامنے بیٹھی بلوچ ماں کی فریاد!

پڑھا لکھا بلوچستان اُن قوتوں سے ہر گز برداشت نہیں ہوتا جو چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی خواب دیکھتے ہیں، "ہمارا خواب پڑھا لکھا پنجاب"۔

کولاج؛ ادبی ریکٹر سکیل پر نیا ارتعاش

حارث بلال: کولاج کا قیام عمل میں آنا ایک ادبی سنگ میل ہے جس نے یکسر فضا بدل دی ہے جس نے نوجوان پرندوں کی ادبی پرواز سے جُوا کھیلنے والے روایت پسند ٹھیکیدار “ماشٹروں“ کو انگشتِ شہادت کے ساتھ والی انگشت کھڑی کر کے دکھا دی