ایک خط: روش ندیم کے نام

ایک خط: روش ندیم کے نام

روش ندیم!
تمہارے ٹشو پیپر پر لکھے دکھ پڑھ کر
ہماری نیندیں خدا کے دروازے پر دستک دیتی ہیں
مگر دروازہ کُھلنے سے انکار کر دیتا ہے

تم دہشت کے موسم کی خبر سُن کر
اپنے سارے خواب اس بوڑھے برگد کی کھوہ میں چھپا آتے ہو
جہاں بدّھا کو نروان ملا تھا
لیکن وہاں کی بوڑھی چمگاڈریں انہیں لے اڑتی ہیں

روش ندیم!
تم ابر کی آہٹ پہ کان لگائے بیٹھے ہو
اور منٹو کی عورتیں سہاگ راتوں کو کوٹھوں پر فروخت کر دی جاتی ہیں
جن کے سہاگ سپنے مسلسل شہر کے بازاروں میں چلے جا رہے ہیں
خودکشی کے اجتماع میں

روش ندیم!
تم تہذیب کی کالی شاموں میں
تاریخ کی سڑک پر چلتے
انکار کے فلسفے سے بھرے سگریٹ پھونکتے ہو
اور جب تھک جاتے ہو
تو فٹ پاتھ کے کنارے بیٹھ کر لکھتے ہو
کڑک چائے کے کپ پر

تم خاموشی سے ڈال دیتے ہو
لنگڑے انقلابی کے کاسے میں
فیض کی کوئی نظم
جس میں چیخوں کا جنگل آباد ہے
وہ کھردرے ہاتھ کی انگلیوں سے وکٹر ی کا نشان بناتے ہوئے کہتا ہے
’’ منسوب ہوجائے آج کا یہ لمحہ ، یہ دن
یہ سال ، یہ صدی آپ کے نام‘‘
تم جواباً قہقہہ لگاتے ہو’’
کیوں۔۔۔۔۔۔۔؟
کیسے۔۔۔۔۔۔۔۔؟
اور تم ووڈکا کے تلخ ذائقے میں کارٹون بنانے لگتے ہو
اندھے لوگوں کے
جو نہیں جانتے سات رنگوں کی کہانی

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

دُھنیا

میری ماں تو بس ایک دُھنیا تھی جو

تربیت کے بہانے
مجھے رات دن یوں دُھنے جا رہی تھی
کہ رشتوں کے چرخے پہ چڑھنے سے پہلے

بد ذائقہ لمحوں کی چپ

صفیہ حیات: چپ دانت نکوستی ہے
جب نظم
ابارشن کے مرحلے سے گزرتی
چیختی ہے

کئی دن سے آنکھوں میں آنسو نہیں تھے

نصیر احمد ناصر: مجھے تم بتاؤ!
میں لفظوں کے کیپسول کھا کھا کے کب تک جیوں گا
یہ نظموں کا سیرپ بھی کب تک پیوں گا
یہ ملبوسِ انفاس کامل ہی اب پھٹ چکا ہے
اسے اور کتنا سیوں گا ۔۔۔۔۔۔۔ ؟