ایک قیدی کا خط

ایک قیدی کا خط
قیدی ضروری نہیں مجرم بھی ہو،بسااوقات خود ساختہ اورنام نہاد مقتدر گروہوں کے تخلیق کردہ ’’تعصب‘‘رنگ ، نسل، ذات اور عقیدے کی بنیاد پرہمارے پر کُتر دیتے ہیں، پھر ہمارا نصیب زندان کی اونچی دیواروں کو تکنا رہ جاتا ہے اورہماری نسلیں تک قیدی بن جاتی ہیں۔میرا خاندان بھی کچھ ایسےہی مصائب کی سربہ فلک اونچی دیواروں کو تکنے کے سوا کچھ نہ کرسکا ۔سن 47میں میرے بڑوں نے اپنی آزادی کا پوٹلہ مہاجرت کے سرخ پانیوں میں بہا دیا جو من موجی سمندر میں جاگرا اور ہمیں ہمارے دیس میں سانس لیتے ہی قیدی بنادیا گیا۔
کہتے ہیں ہمارے اس قید خانے کی تاریخ بڑی وحشت ناک، روح فرسا او ر قربِ قیامت کے آثار میں سے ہے۔ اس قید خانہ کے طول و عرض میں ایک طرف سنگلاخ پہاڑی سلسلے، سسکتے ریگستان ہیں اور دوسری طرف ظلم کی تاریکی میں امید کی کرنوں سے جگمگ کرتے شہر اور اناکے آبگینوں کو چور ہوتے دیکھ کر بھی مسلسل مسکراتے، بانہیں پھیلائے، اناج پروستے دیہات،بہتے دریا اور اُمید کی فصلِ بہار سے لہلہاتے میدان بھی ہیں۔
ہم نہ ہوں گے تو کوڑوں کی سنسناہٹ کون سنے گا ، گالیاں کون سنے گا، گولیاں کون کھائے گاور ذلت کی آری سے گلے کس کے کاٹے جائیں گے ؟
اس قید خانے کی باگ دوڑ سنبھالنے اور قیدیوں کی سزا برقرار رکھنے کیلئے جلاد ہر 5 سال بعد مسلط کئے جاتے ہیں ،کچھ 5 سال پورے کرتے ہیں اور کچھ تسلسل کی ڈور سے حادثات کی طرح پھسل جاتے ہیں۔رہ گئے ہم تو ہمارے ہونے کا واحد جواز ہی شاید یہ ہے کہ ہم سے دل بہلایا جا سکے۔ہم نہ ہوں گے تو کوڑوں کی سنسناہٹ کون سنے گا ، گالیاں کون سنے گا، گولیاں کون کھائے گااور ذلت کی آری سے گلے کس کے کاٹے جائیں گے ؟ ہماری پیدائش جرم ہے، زندہ رہنا جرم ہے اور مرنا بھی۔یہ ہمیں ہمارے پیدا ہوتے ہی ڈرانا شروع کر دیتے ہیں، ان کی سفاکی دیکھ کرتو موت بھی کانپ اُٹھے۔یہی وجہ ہے کہ ہم اس قید خانے کے منتظمین کے شکر گزار ہیں کہ یہ ہمیں دنیا میں آتے ہی کبھی پیرہنِ حیات میں پانی کی کمیابی کے پیوند لگا کر اور کبھی درس گاہیں اڑا کر مرنے کے مواقع دیتے ہیں۔ ہم ان کے شکر گزر ہیں کہ یہ ہمیں قطاروں میں کھڑا کر کے زندگی کی بھیک دیتے ہیں۔ہمارے خمیر میں بد دیانتی ، بے ایمانی، انتقام اور خون ریزی کے ملیدے میں تلخی کا تڑکا لگا کر کڑوے ، بدذوق اور ناقابلِ تقلید و اتباع درندے تیا ر کیے جاتے ہیں۔یہ مراحل نہایت پُر خطر ہوتے ہیں اور جو اس کڑواہٹ کی تاب نہ لاکر دم توڑ دیتا ہے اُسے چند لاکھ روپے ، ہزاروں شمعیں اور یک روزہ سوگ کے ساتھ رخصت کیا جاتا ہے۔
قید خانے کے منتظمین کی آسانی کے لیےہمیں بانٹ لیا جاتا ہے ، کبھی کوئی تنظیم ہانک لے جاتی ہے تو کبھی کوئی تحریک اپنے ساتھ شامل کر لیتی ہے۔چونکہ اس قید خانے میں سیاست ہر قسم کے محاسبے سے بری ہے لہٰذاجو جیسے چاہے ہمیں استعمال کرے اور جہاں چاہے ہمارا رخ موڑ دے۔ قید خانے کی تقاریب میں ترانوں کی گونج آسیب بن کر منڈلاتی ہے، لاوڈ سپیکروں پر ہمیں بار بار یہ جتایا جاتا ہے کہ یہ قیدخانہ اور قیدتو تحفہ ہجرت ہے، آقا کی بشارت ہے ، شہدا کی امانت ہے، شاعر کا خواب ہے، قائد کی محنت ہے اور رمضان المبارک کی برکت ہے۔
اگرچہ ہمیں کہا گیا ہے کہ یہ قیدخانہ ہمارا ہے اور ہم یہاں جینے کے لیے آزاد ہیں مگر کبھی بے روزگاری آڑے آتی ہے تو کبھی دہشت گردی کے واقعات، کبھی مذاہب کی بنیادپرپرکھا جاتا ہے تو کبھی مہنگائی کے باریک تاروں سے آبرو تار تار کی جاتی ہے۔ہمیں ہر قدم پر یہ احساس دلایا جاتا ہےکہ ہم نسل درنسل قیدی ہی ہیں۔شاید اب ہمارے ضمیر اور ہمارا شعور غلامی کے عادی ہو گئے ہیں اورہمیں قید پسند آنے لگی ہے۔ ہمارے نگران ہماری خواہشات کوخوش خبری بنا کر ہمیں بہلاتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ قلب پر تاریکی کے دبیز پردے چڑھائے، بغض اور کینہ کی بیڑیوں کے پابند، غلامی کے طوق پہنے ہم اُس مقام پر پہنچنے سے قاصر ہیں جو خالق نے ہمارے لیےمخصوص فرمایا ہے۔
ویسے تو اس قید خانے کا نظامِ ابلاغ بے حد جدید ہے مگر نام نہاد آزاد ذرائع بھی ان دیکھے شکنجوں میں جکڑےہوئے ہیں، نجانے یہ خط بھی آپ تک پہنچ پاتا ہےیا نہیں۔ہر شام سرد اسٹوڈیو میں گرم چائے پیتے ہوئے، ریشم کی ٹائی پہن کر قوم کی گردن سے غلامی کے طوق نکالنے کی بات بے معنی لگتی ہے۔ہمارے دانشور ہر شب بے مقصد ، بے تحقیق، بے ترتیب اور بے نتیجہ گفتگو کے ذریعے ہمیں ہماری غلامی کے ثمرات سے آگاہ کرتے ہیں۔
ان کا بس چلے تو بچوں کے کھیلنے، جگنووں کے چمکنے ، بھنوروں کے منڈلانے، بادلوں کے رستہ بدلنے ، دریا کے بہنے اور پھولوں کے کھلنے کو بھی ممنوع قرار دے دیں۔
ہماری زنجیروں کی چمک بے نور آنکھوں کیلئے ہی بہتر ہے کیونکہ اصل خوبصورتی کا سر چشمہ تو دل ہوتا ہے اور اگر دل میں تاریکی غالب آجائے تو انسان بے ایمان ہوجاتا ہے۔مگر ایمان کا بیوپار کرنے والے جو چہرہ دیکھ کر ہی فتویٰ دینے کا فن رکھتے ہیں اورہر دوسرے شخص کو کافر کہنا اپنا شرعی حق اور سماجی ذمہ داری سمجھتے ہیں ان سے ایمان کی سند خریدنا بے حد آسان ہے۔ان کا بس چلے تو بچوں کے کھیلنے، جگنووں کے چمکنے ، بھنوروں کے منڈلانے، بادلوں کے رستہ بدلنے ، دریا کے بہنے اور پھولوں کے کھلنے کو بھی ممنوع قرار دے دیں۔اُن کے عقیدے کی چوکھٹ پر سر نہ جھکانے والوں خدا کا معتوب قرار دے دیں۔انہی کے طفیل اس قید خانے میں فساد برپا ہے اورکئی آنکھیں بے نور اور کئی گودیں اجاڑ دی گئی ہیں۔
مگربے رونقی جتنی بھی چھاجائے ایک مدت کے بعد پرندے قفس سے ، غریب اپنی جھونپڑی سے اور قیدی اپنے قید خانے سے محبت کر ہی بیٹھتا ہےاور یہ محبت ہی تو ہے جو دلوں کو نرم کرتی ہے ۔ اپنی بجائے خدا اوراسکی مخلوق سے محبت کی جائے تو رستے ہی منزل بن جائیں گے اور بلا شبہ کامیابی ہمارے قدم اور حوصلے آسمان چھو ہی لیں گے۔بس دیر اتنی ہے کہ ’’کتابِ بلاغت‘‘ کو جزدان سے نکال کر چوما جائے، سمجھا جائے اور اُس کے عالمگیر بھلائی اور فلاح کے پیغام کو اپنا لیا جائے، علم، تحقیق اور جستجو کی نئی راہیں تلاش کی جائیں، عقل کو اپنا رہنما کیا جائے تو ان بیڑیوں سے نجات پانا، ان زنجیروںسے رہائی اور بند دروازوں کا کھلنا کوئی مشکل نہیں۔
 
فقط:
آپ کا قیدی


Related Articles

سپاہی تنویر حُسین کی ڈائری - 13 دسمبر 1971- الوداع

بختیار صاحب نے فجر کی اذان دی تو میں جاگ رہا تھا۔ رورو کر میری آنکھیں خشک ہو چکی تھیں،غم سے پتھرا گئی تھیں۔سچ تو یہ ہے کہ پوری پلٹن کا مورال ایک صدمے سے دوچار تھا۔

سائے کی کہانی

اس سے پہلے بھی تین بار وہ سایہ میرا دھیان بٹا چکا تھا،ایسا لگتا تھا جیسے کہ مجھے کوئی دیکھ رہا ہے، بڑی حیرت کی بات تھی کہ میں نہ تو کھڑکی کے قریب بیٹھا تھا اور نہ ہی اگلی چھت سے کسی کے مجھے دیکھ لینے کا امکان تھا۔

انسان اور درخت

سنہری ڈائری میں تقدیر کے کیےایک اور ستم کو دفناتے وہ شاید بہت تھک چکا تھا اسی لیے فرار چاہتی نگاہوں کے ساتھ اپنے سامنے کھڑے درختوں کو تکنے لگا