ایک مجسمے کی زیارت

ایک مجسمے کی زیارت

تم ایک مجسمہ
جو فنکار کی انگلیوں میں
پروان نہیں چڑھا
تم ایک مجسمہ
جس پر سنگِ مر مر
نرم پڑ گیا

میں ان انگلیوں کا دُکھ
جو تمہیں خلق کرنے کے
وجد سے نہیں گزرا
اور اس دل کا
جو کھل نہیں سکا
تمہاری پوروں کے ساتھ ساتھ
تم آتی جاتی سانسیں
میں
دکھ ان سانسوں کا
جو تم میں شامل نہیں ہوئیں
دکھ ان آنکھوں کا
کہ جب کھل رہی تھیں
تمہاری گواہ نہیں رہیں

تم ایک پھول
اپنی ذات میں کھلا ہوا
میں دکھ
تمہارے بدن سے ذات تک
نارسا راستوں کا
ان کے فاصلوں کا
میں دکھ اپنے چہرے کا
جس نے اپنی تمام شکنیں
تم پر نرم کر دیں
دل کے اس خلا کا
جو تمہیں دیکھ کر
آسمان جتنا ہو گیا

میں دکھ اپنے خواب کا
تم نے جس کی مزدوری نہیں دی
میں دکھ اپنے خواب کا
جو تمہارے بدن پر پورا ہو گیا

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Syed Kashif Raza

Syed Kashif Raza

Syed Kashif Raza is a poet, writer and translator with five books to his credit. He works as a TV journalist in Karachi. His first novel will be published next year.


Related Articles

قصباتی لڑکوں کا گیت

ابرار احمد: ہم تیری صبحوں کی اوس میں بھیگی آنکھوں کے ساتھ
دنوں کی اس بستی کو دیکھتے ہیں
ہم تیرے خوش الحان پرندے، ہر جانب
تیری منڈیریں کھوجتے ہیں

میں بالکل ٹھیک ہوں

تنویر انجم: تم پوچھتے ہو کیسی ہو؟
میں کہتی ہوں بالکل ٹھیک
میں پوچھتی ہوں تم کیسے ہو؟
تم ایک نئے قصے کا آغاز کرتے ہو
تفصیلات کے ساتھ

کلموہی

نسرین انجم بھٹی: بابا! منہ دیکھنے سے پہلے مجھے کلموہی نہ کہہ
ورنہ میں کہاوت بن جاؤں گی
اورتو مجھے کبھی نہیں پاسکے گا