ایک معصوم سچ کی ٹوٹی ہوئی ٹانگ اور دوسرے عشرے

ایک معصوم سچ کی ٹوٹی ہوئی ٹانگ اور دوسرے عشرے

ع/ ایک معصوم سچ کی ٹوٹی ہوئی ٹانگ

شراب خانے کو ناجائز قرار دے کر
بند کرنے والے کانسٹیبل کے پاؤں میں
قیمتی جوتے تھے

وہ جو پچھلے جمعے ، دوران نماز جاتے رہے تھے
نشے میں دھت نمازی کے ہاتھ سے

انسپکٹر نے داڑھی پر ہاتھ پھیرا
خدا کا شکر ادا کیا
ماتحتوں کو شاباشی دی
بدمعاشی کی بیخ کنی کے لئے
اپنا مجاہدانہ کردار ادا کرنے پر

ع/ سخی سرکار کی سخاوت کی خیر

سخی سرکار کے دربار سے باہر جھانکو
پھول ہاتھوں میں لئے دھول اڑاتے بچے
لب پہ فریاد لئے ہاتھ میں کشکول لئے
ہر خطاکار کے دامن سے لپٹ جاتے ہیں
ان کی فریاد بھری آنکھ میں اشکوں لکیر
بین کرتی ہوئی ہر دل سے گزر جاتی ہے

سخی سرکار تیری عظمت و عرفان کی خیر

تو سخی ہے تو میری ایک گزارش سن لے
اپنی رحمت کی نظر ان کی طرف کر جن کو
تیرے پہلو میں بھی زلت کی سزا ملتی ہے

ع/ اک شمع ہے دلیل سحر

میرے غنیم ! شبِ ظلم کے پیامبر سن
تو ہم پہ ظلم کرے چاہے سر قلم کر دے
یہ روشنی کا سفر ختم یوں نہیں ہو گا

نیا سویرا ابھرتا ہے تیرگی کے بعد

جہاں بھی ظلم کا طوفان سر اٹھائے گا
وہاں سے قافلہ اٹھے گا سرفروشوں کا

وہاں جلائیں گے عشاق خون دل سے چراغ

اے سرکشی سے بھری ظلم کی ہوا سن لے

نئے چراغ اسی طاق پر جلیں گے یہاں،
جہاں قدیم چراغوں کو گل کیا گیا تھا

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

سرکاری ہسپتال اور دیگر عشرے

رحمان راجہ: ﮨﺭ کسی ﮐﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﭘﺭ ﭘﮭﺭ سے
ﻭﮨﯽ روایتی سے جملے ﮨﯿﮟ
مرنے ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﻭﺍﺭﺛﻮﮞ ﮐﮯ لیے
ﺍﯾﮏ ﺁﺩﮬﺍ خالی ﭼﯿﮏ بھر لیا ہو گا
حاکم شہر نے افسوس تو کر لیا ہو گا

عشرہ / قصہ ء پاک و ہند ما قبلِ قدیم

ادریس بابر: ادھڑی ہوئی جرابیں
اکھڑے ہوئے مسوڑھے
لڑنے کو گھر سے نکلے
ستر برس کے بوڑھے!

عشرہ // مشعال خان البرٹو روجاز نہیں تھا

جنید الدین: دنیا دلچسپ لوگوں سے خائف کیوں ہے
میں پابلو نرودا نہیں ہوں
مشعال، البرٹو روجاز نہیں تھا