ایک پاکستانی ہونے کی قرار داد

ایک پاکستانی ہونے کی قرار داد
23مارچ 2017

ہم اقرار کرتے ہیں کہ ہم پاکستانی ہیں اور پاکستانی ہونے کے لیے ہم دنیا کے دیگر ممالک سے نفرت کرنے، ان کی سرحدوں کے اندر دراندازی کرنے اور انہیں اپنا دشمن خیال کرنے کے پابند نہیں۔

ہم اقرار کرتے ہیں کہ ہمارے ملک میں پاکستانی ہونے کے لیے مسلمان ہونا اور مسلمان ہونے کے لیے کسی مخصوص مذہبی تشریح کا ماننے والا ہونا ضروری نہیں۔

ہم اقرار کرتے ہیں کہ اس ملک میں وسائل پر تصرف کے لیے پنجابی ہونا ضروری نہیں، ہم یہ بھی اقرار کرتے ہیں کہ بلوچ، پشتون، سندھی، سرائیکی، مہاجر یا کسی بھی علاقائی یا لسانی شناخت پر فخر کرنے سے پاکستانیت پر کوئی حرف نہیں آتا۔

ہم اقرار کرتے ہیں کہ تمام آئینی اداروں خواہ وہ سول ہوں یا عسکری، انتظامی ہوں یا عدالتی پر تنقید ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور اس حق کے استعمال کرنے والے ملک دشمن نہیں۔

ہم اقرار کرتے ہیں کہ ریاست اور مذہب کی علیحدگی کی بات کرنے والے ہوں یا اسلامی ریاست کے قیام کے خواہاں سبھی پاکستانی ہیں اور اپنے اپنے سیاسی افکار کے مطابق سیاسی جدوجہد کے لیے آزاد بھی۔

ہم اقرار کرتے ہیں کہ ایک پاکستانی ہونے کے لیے صرف پیدائشی طور پر پاکستانی ہونا کافی ہے، کسی مخصوص مذہب، فرقے یا سیاسی نظریے پر کاربند ہوناضروری نہیں۔

ہم اقرار کرتے ہیں کہ انسانی حقوق کی بلاامتیاز فراہمی یقینی بنانے کے لیے کام کرنے والے ملک دشمن نہیں، ہم اقرار کرتے ہیں کہ ریاستی بیانیے سے انحراف کرنے والے غدار نہیں اور ہم اقرار کرتے ہیں کہ مذہب کو نہ بزور طاقت نافذکریں گے نا طاقت کے بل پر روکنے کی کوشش کریں گے۔

ہم اقرار کرتے ہیں کہ ریاست کا مقصد مذہب کی تعبیروتشریح نہیں، ریاست کا کام تمام شہریوں کی فلاح و بہبود اور تحفظ کو یکساں سطح پراور بلاامتیاز یقینی بنانا ہے۔

ہم اقرار کرتے ہیں کہ انسانی حقوق، جمہوریت اور شہری آزادیاں مذہب، نظریے اور سماجی وابستگی سے بالاتر اور مقدم ہیں۔

ہم اقرار کرتے ہیں کہ آزادی اظہار رائے اور اختلاف رائے کو مذہب، عقیدے یا سماجی وابستگی کی بنیاد پر محدود نہیں کریں گے۔

ہم اقرار کرتے ہیں کہ فوج کو صرف آئینی کردار تک محدود رکھیں گے، عدالتی نظام شفاف بنائیں گے اور سول بالادستی کو یقینی بنائیں گے۔

ہم اقرار کرتے ہیں کہ صنفی، مذہبی اور مسلکی امتیاز کے خاتمے کے لیے قانون سازی کریں گے، شہری سہولیات کی فراہمی میں امتیاز نہیں برتیں گے، عوامی مقامات پر کسی بھی گروہ کے خلاف نفرت اور امتیاز کی نفی کریں گے اور تمام شہریوں کی مساوی آئینی حیثیت تسلیم کریں گے۔

ہم اقرار کرتے ہیں کہ انسانی حقوق کے عالمی اعلامیوں کے تحت اس ملک کو انسانی حقوق کے اعتبار سے مثالی حیثیت دلائیں گے۔

ہم اقرار کرتے ہیں کہ ہم فرد کی آزادی کو ممکنہ حد تک یقینی بنائیں گے، اپنی آزادی کا ذمہ دارانہ استعمال کریں گے اور دوسروں کی آزادی کا احترام کریں گے۔

ہم اقرار کرتے ہیں کہ ہم پاکستانی رہیں گے اور پاکستانی ہونے کے لیے تعصب، نفرت، امتیازی سلوک، استحصال یا جبر کی شرائط عائد نہیں کریں گے۔

ہم اقرار کرتے ہیں کہ پاکستانیت کا ثبوت دینے کے لیے ہم عقیدے، وطن، نظریے یا حبِ رسول کے نام پر کسی کی جان نہیں لیں گے اور نہ ہی اس بنیاد پر کسی کی جان لینے کی حمایت کریں گے۔

ہم اقرار کرتے ہیں کہ ہم پاکستان کو گمشدہ افراد، غیر محفوظ اقلیتوں اور دہشت گردی کا شکار پاکستان نہیں رہنے دیں گے، اور ایک ایسے پاکستان کی تعمیر کریں گے جو سب کو تحفظ فراہم کرے، سب کو نمائندگی دے اورجہاں طاقت کے استعمال کا حق صرف ریاست کے لیے مخصوص ہو، ہم یہ بھی اقرار کرتے ہیں کہ طاقت کے ریاستی اختیار کو انسانی حقوق، جمہوری اقدار اور شہریتی اصولوں کے تابع بنائیں گے۔

ہم اقرار کرتے ہیں کہ ہم ایک ایسی جمہوریت کا قیام یقینی بنائیں گے جو اختیارات کی تقسیم، طاقت کے توازن اور جوابدہی کے اصولوں پو مبنی ہو۔

پاکستان زندہ باد
پاکستان پائندہ باد
Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Tauseef Ahmad

Tauseef Ahmad

Tauseef Ahmed is a marketing executive from Bahawalpur and regularly writes for Laaltain.


Related Articles

مذہبی ٹھیکیدار اور اقلیتیں

گزشتہ دنوں گوجرانوالہ میں تین احمدیوں کے قتل کے بعد اس حقیقت میں کوئی شک نہیں رہا کہ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جس کا ہر دوسرا شہری مذہب کا ٹھیکیدار اور مقدس شخصیات کے تقدس کا محافظ ہے۔

روزگار کے اشتہارات اور بے روزگار نوجوان

یہ رش پرنس روڑ پر واقع ایک فوٹو کاپی کی دکان پر ہے جہاں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد اشتہارات کی نقول کے حصول کے لئے دھکم پیل میں مصروف ہے۔

چلے ہو کہاں جی؟

جنرل صاحب، آپ ریٹائر ہونا بھی چاہیں تو ہم آپ کو ریٹائر نہیں ہونے دیں گے کیوں کہ ہمیں خوف ہے کہ اگر کہیں اگلے جرنیل صاحب آپ کی طرح توسیع لینے سے رضاکارانہ طور پر انکاری نہ ہوئے تو؟