ایک گناہ کی اجازت

ایک گناہ کی اجازت

عشق کی مٹی سے گندھے بدن
پیاسے دشت وصحرا میں
سانسوں کے ناپسندیدہ تصادم میں
کرب میں ملفوف
درد کے بوجھ سےدھری
نیند سے آزاد آنکھیں
جگراتے کا میلہ لگاتی ہیں
میٹھے درد کی کسک حوصلےتوڑ دے
تو۔۔۔
سماعت و بصیرت
روشنی و تیرگی، دھوپ و سایہ
ایک ہونے لگتے ہیں
جذبے عشق کے سامنے
خاک سر پہ اوڑھے
گرد آلود، مسجود، نابود ہو جاتے ہیں
ہونٹوں سے حرف دعا گرتے
خالی دل کی خالی رات کو
نامراد لوٹا دیتے ہیں۔
طلب کا سانپ پھنکارتا سر پٹختا
وجود کو ڈستے ڈستے
صبح کی ہنگامہ خیزی تک مر جاتا ہے
اور ہمیں ایک بھی
گناہ کی اجازت مل نہیں پاتی
اک کندھے کی چاہ میں
جئے بغیر ہی
اگلے جہاز میں سوار ہو جاتے ہیں
Image: Henn Kim

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

شنگھاؤ غار

زید سرفراز: ہم غار کی دیواروں میں مجسم، وہ تنہائی تھے
جسے صورت دیتے ہوئے
مؤرخ نے تیشے کا استعمال کیا

رستہ سہل نہیں ہے

اپنے من کے اندر چھپ کر جب بھی تجھ سے ملنے نکلوں
باتیں کرتی ہوا سے مل کر شاخیں شور مچاتی ہیں
سڑکوں کی دو رویہ آنکھیں روشن ہوتی جاتی ہیں

بیت الخلا سے ایک نظم

شہر کی بدبو سے
شہر بھی اپنے مضافات میں بھاگ رہا ہے
تم نے بھاگتا ہوا شہر دیکھا ہے؟