ایک گیت (پیڑا کتھا)

ایک گیت (پیڑا کتھا)
ایک گیت (پیڑا کتھا)
آتما راکھ ہو کے بکھر گیو رے
میں تو مر گیو رے
کاہے برہن کی سنتا نہیں ہے پیا
پریت پر موری الزام دھر گیو رے
میں تو مر گیو رے

 

ساتوں ساگر سے آتی ہے اس کی مہک
جس کنارے چلوں دیکھوں اُس کی چمک
اُس کے سائے میں لپٹے ہیں رستے سبھی
ناؤ ناؤ پڑےاس کے ناؤں کے پھول
سب کی اکھین میں سپنوں کی پروا چلی
مورے نینوں میں اٹکی ہے
اک پل کی بھول
آتما راکھ ہو کے بکھر گیو رے
میں تو مر گیو رے

 

کوئی پنچھی نہ تارا نہ کوئی سکھی
موہے پیڑا کی سدھ بدھ بھی کب رہ گئی
مورے سندیسے مورے ہی من میں رہے
کس سے بتیاں کروں نیر ارپن کروں
میں وہ مورکھ جو مکھ کو چھپاتی پھروں
پاس کیا ہے جسے
اپنا درپن کروں
آتما راکھ ہو کے بکھر گیو رے
میں تو مر گیو رے

 

(مہربان دوست اور سخن فہم شاعر جگدیش پرکا ش کے نام)

Image: M. F. Hussain


Related Articles

نظم-سرمد صہبائی

سرمد صہبائی: کیسے کھلے گا تیری بانہوں کے کُندن میں
میرا یہ سیال دکھ اور میرے صدمے
تیرے بدن کے ان جیتے سیار سموں میں
میرا لہو کیسے جاگے گا

پھر سویرا ناچ رہا ہے

عمران ازفر: شب بھر میں نے
تجھ کو دیکھا,خود کو ڈھونڈا
اور سویرا سر پر آ کر ناچ رہا ہے

جدید ماورائی حد بندی

عرفان شہود: خلقتِ دہر نے یہ جو پرکار سے کھینچ رکھے ھیں سب دائرے
احتجاجاً میں اِن کو نہیں مانتا