ایگزیکٹ کمپنی سکینڈل اور میڈیا

ایگزیکٹ کمپنی سکینڈل اور میڈیا
ایگزیکٹ کمپنی کی جعل سازی کا انکشاف نیو یارک ٹائمز نے کیا ، وزیر داخلہ نے تحقیقات کا حکم دے دیا ، ایف آئی اے نے چھاپے مارنے شروع کر دیے ، دفتر بند ہو گئے لیکن یہ سب ایک اخباری رپورٹ کے بعد ہونے والی معمول کی کارروائی ہے۔ یہ کارروائی ضروری تھی اس پر کوئی شبہ نہیں اور نہ ہی اس میں کچھ غلط ہوا ، لیکن ایگزیکٹ کمپنی کا سکینڈل سامنے آنے کے بعد میڈیا پاگلوں کی طرح اس کے پیچھے کیوں پڑ گیا یہ ایک اہم سوال ہے ۔ پتہ نہیں کہ دیگر چینلوں کو بول ٹی وی کے آنے کا خوف تھا یا اپنے ادارے کے اہم ترین لوگوں کے بول میں جانے کا دکھ تھا لیکن جوکچھ بھی ہے اس معاملے کی کوریج میں شدت ذاتی عناد اور جانبداری کے باعث ہی ہے وگرنہ ایگزیکٹ کمپنی پاکستان میں ہی ہے اور اس کے خلاف معلومات دو ہزار نو سے ایف آئی اے کے پاس ہیں لیکن اس سے قبل نہ تو ایف آئی اے نے کوئی چھاپے مارے اورنہ کسی کو اس ادارے کے خلاف کچھ کہنے کی توفیق ہوئی۔
یہ نقطہ بھی اہم ہے کہ کیا باقی تمام چینل مالکان ایماندار اور باضمیر ہیں؟ زیادہ تر میڈیا مالکان اخبارات اور ٹی وی چینلز کے ذریعے اپنے دیگر دھندوں کو بچانے میں مصروف ہیں
اس سب معاملے کے حوالےسے بہت سے سوال جواب طلب ہیں اگرچہ اس سارے معاملے کی چھان بین اور قانونی کارروائی کے بعد ان الزامات کے صحیح یا غلط ہونے کا فیصلہ عدالتی دائرہ اختیار میں ہے لیکن اگر اوگرا سکینڈل ، پنجاب بنک سکینڈل ، رینٹل پاور سکینڈل ، پلاٹ سکینڈل ، ملک ریاض کے درجنوں سکینڈل ، این ایل سی سکینڈل ، اسلحہ سکینڈل ، لائسنس سکینڈل ، مضاربہ سکینڈل ، ایل این جی سکینڈل اور بدعنوانی کے کئی دیگر مقدمات کی تحقیقات اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کے معاملات نیب ، ایف آئی اے اور عدالتوں میں زیر التوا ہیں۔ بدعنوانی کے مرتکب افراد سرعام صحافت،سیاست اور حکومت کر رہے ہیں لیکن ہمارا میڈیا ان اداروں اور لوگوں کے پیچھے کبھی یوں ہاتھ دھو کے نہیں پڑا ۔
یہ نقطہ بھی اہم ہے کہ کیا باقی تمام چینل مالکان ایماندار اور باضمیر ہیں؟ زیادہ تر میڈیا مالکان اخبارات اور ٹی وی چینلز کے ذریعے اپنے دیگر دھندوں کو بچانے میں مصروف ہیں۔ کیا جیو اور جنگ گروپ کے مالک میر شکیل الرحمٰن دودھ سے دھلے ہیں ؟ کیاانہوں نے اپنے قریبی رشتہ دار جہانگیر صدیقی کو بچانے اور ان کے مخالفین کو زیر کرنے کے لیے اپنے اخبارات، نیوز چینل اور رپورٹروں کا استعمال نہیں کیا؟ یہ سب چیزیں ریکارڈ پر ہیں ، میر شکیل الرحمٰن اور دیگر چینل مالکان کے ٹیکس گوشواروں کی شرمناک تفصیلات بھی موجود ہیں لیکن ان کی جانب کسی کا دھیان نہیں۔ کیا سلطان لاکھانی کے کیس نیب میں نہیں چلتے رہے؟ سلطان لاکھانی کے اسلام آباد میں میکڈونلڈ کا سکینڈل کا کیا ہوا ؟ اب بھی وہ میکڈونلڈ امین لاکھانی کے پاس ہی ہے سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود سی ڈی اے ایک میڈیا ٹائیکون کے سامنے بے بس ہے۔ میں نے خود ایکسپریس اخبار میں کام کیا ہے اور میں جانتا ہوں کہ کس طرحا یکسپریس میں ریکوڈک سکینڈل کی خبریں لیڈ سٹوری کے طور پر چھاپی گئیں ، لیکن ریکوڈک کمپنی کی طرف سے ایکسپریس کو اشتہار ملنے کے بعدایکسپریس کو سانپ سونگھ گیا ۔
یہ بھی بہت بڑا سکینڈل ہے کہ کس اخبار کے مالک کے پاس صحافت کا کتنا تجربہ ہے اور کس چینل کے مالک کے پاس ابلاغیات کی کتنی اور کس معیار کی تعلیم اور پیشہ ورانہ قابلیت ہے
میں اس وقت دنیا اخبار میں کام کر رہا ہوں زیادہ معلومات تو نہیں لیکن اتنا ضرور پتہ ہے کہ دنیا گروپ کے ساتھ ملک ریاض کے تعلقات کیسے ہیں ۔ یہ بھی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ دنیا بلڈنگ اسلام آباد میں کس کے پلاٹ پر بنی اور کس نے بنائی ہے۔ یہ معمہ بھی سب پر آشکار ہے کہ ملک ریاض کے خلاف خبر کیوں نہیں لگ سکتی اور چیئرمین نیب کے خلاف خبر کیوں نہیں چلتی ۔ اوصاف اخبار کا مالک پراپرٹی ڈیلر ہے ، اذکار اخبار کا مالک پراپرٹی ڈیلر ہے ، نئی بات اخبار کا مالک تعلیمی ادارے کا مالک ہے ، آج ٹی وی اور بزنس ریکارڈر کے مالک کے پاس ملک بھر کے تمام بنکوں کی چیک بکس بنانے کا کنٹریکٹ ہے ، جناح اخبار کا مالک کون ہے ؟کیا یہ لوگ صحافی ہیں کیا اخبار کے ڈیکلیریشن کے لیے مطلوبہ معیار پر یہ لوگ پورا اترتے ہیں ؟ انہیں کیوں اخبارات نکالنے اور ٹی وی چینل چلانے کے اجازت نامے دیئے جاتے ہیں ؟ یہ بھی بہت بڑا سکینڈل ہے کہ کس اخبار کے مالک کے پاس صحافت کا کتنا تجربہ ہے اور کس چینل کے مالک کے پاس ابلاغیات کی کتنی اور کس معیار کی تعلیم اور پیشہ ورانہ قابلیت ہے۔
ہمارے میڈیا کو اپنے علاوہ سب کچھ غلط نظر آتا ہے ہمارا میڈیا ایک اشتہار پر بک جاتا ہے میں لکھ کر دے سکتا ہوں دو تین بڑے میڈیا گروپس کے علاوہ اگر ایگزیکٹ والے ٹی وی چینلوں اور اخباروں کو اشتہار دینا شروع کر دیں تو الٹی گنگا بہنا شروع ہو جائے گی ۔ اشتہارات ملنے کے بعد یہی ٹی وی چینل کچھ اس قسم کی خبریں نشر کریں گے کہ ایف آئی اے کے اہلکاروں نے دنیا کی معروف کمپنی کے دفتر پر دھاوا بول دیا ، توڑ پھوڑ کی اور معصوم ملازمین کو ہراساں کیا تشدد کا نشانہ بنایا وغیرہ ۔ بیشتر چھوٹے چینل اور اخبارات تو بس بھیڑ چال کے مارے ہیں ،رہی بات جیو نیوز اور ایکسپریس نیوز کی تو وہ بول ٹی وی کے آنے سے خوفزدہ ہیں ۔ جیو انتظامیہ کو مجموعی طور پر اپنے ملازمین کی تنخواہوں میں کروڑوں کااضافہ کرنا پڑا تاکہ وہ جیو چھوڑ کر بول ٹی وی میں نہ جائیں۔ دوسری طرف انہیں اشتہارات کے تقسیم ہونے کا ڈر ہے کہ بول آ گیا تو ان کی آمدنی کا ایک بڑاحصہ بول ٹی وی کو ملنے لگا ۔ ایسے ہی ذاتی عناد اور مفادات کی بناء پر اس سکینڈل کو اچھالا جا رہا ہے ۔
سول کورٹ اور ہائی کورٹ کے احکامات کے باوجود ڈی ایچ اے کی پچیس ارب روپے کی زمین بحریہ ٹاون کو مفت دیئے جانے کا سکینڈل کوئی سامنے کیوں نہیں لاتا؟
میں سکینڈل کی خبر چلانے کے خلاف نہیں ہوں لیکن کم از کم میڈیا کو ایگزیکٹ کمپنی کے سکینڈل کے خلاف خبریں اسی طرح چلانی چاہیے جس طرح ایک بڑے سکینڈل کی چلائی جاتی ہیں لیکن حیرت ہوتی ہے جب اشتہارات دینے والے ملکی و غیر ملکی اداروں کے خلاف کوئی سکینڈل سامنے آتا ہے تو اسے سرے سے ہی دبا لیا جاتا ہے ۔ ملک ریاض کے خلاف عدالتی احکامات کی نقول ہر بڑے چینل اور اخبار کے پاس موجود ہیں لیکن ملک ریاض کے خلاف دو ہزار دس سے ایف آئی آر درج نہیں ہو پارہی۔ سول کورٹ اور ہائی کورٹ کے احکامات کے باوجود ڈی ایچ اے کی پچیس ارب روپے کی زمین بحریہ ٹاون کو مفت دیئے جانے کا سکینڈل کوئی سامنے کیوں نہیں لاتا؟ ملک ریاض کے کراچی میں انڈرپاس کے خلاف جب عدالت نے حکم امتناعی دیا تو یہی میڈیا یہی جیو نیوز، ایکسپریس نیوز اور دنیا نیوز اس انڈر پاس کے حق میں رپورٹنگ کرتے رہے اورمضامین چھاپتے رہے۔ اس وقت تو کسی نے خصوصی ٹرانسمیشن اور کوریج نہیں دی ۔ فرق صرف اتنا ہے کہ بول ٹی وی کے آنے کے خوف نے ہمارے میڈیا مالکان کو ذہنی طور پر کافی پریشان کر رکھا تھا۔ میڈیا کو بول کے ایگزیکٹ گروپ کے خلاف ایک سکینڈل مل گیا اور میڈیا والے پاگل ہو گئے۔
میری خواہش ہے کہ ایگزیکٹ کمپنی کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہو اور جرم ثابت ہونے پران کا لائسنس منسوخ ، ہو ان سے ٹیکس چوری کا حساب لیا جائے ان کی کمپنی کو سیل کر دیا جائے ان کے مالکان کو جیل میں پہنچایا جائے اگر وہ تحقیقات کے بعد مجرم ثابت ہوتے ہیں تو قانون سب کے لیے برابر ہے، لیکن کیا باقی میڈیا مالکان کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی؟ میری میڈیا سے اتنی گزارش ہے کہ ذاتی عناد کی وجہ سے کوریج مت کریں ملک میں اربوں روپے کے سکینڈل اور کرپشن میڈیا کی توجہ کے منتظر ہیں ان کو بھی تھوڑا سا وقت دے دیں ۔

Azmat Malik

Azmat Malik

Azmat Malik is a journalist. He is working with Dunya News as Investigative reporter. He has worked for Daily Express, Express Tribune, Online News agency and International Media China Central TV.


Related Articles

جبری گمشدگان اور پاکستان

محمد حسین: درجنوں لاپتہ افرادکے اہل خانہ اور رشتے دار برسوں سے کمیشن کے چکرّ کاٹ رہے ہیں۔لیکن تا حال انہیں کچھ حاصل نہیں ہوا۔

دہشت گردی کا تدارک کیسے ؟

سانحہ پشاور کے بعد پاکستانی ریاست کی ایک زبردست انگڑائی نے اگرچہ دہشت گردوں کو ایک بڑی عوامی اکثریت کے سامنے لا کھڑا کیا ہے، جس میں اِن کی واضح شکست کے آثار نمایاں ہیں ۔

جنرل راحیل کے نام خط

نائن زیرو آپریشن کا نتیجہ نکلے نہ نکلے ہمت دکھانے پرآپ کو مبارک باد۔ آپ کو یاد ہو گا کہ پولیس نے پہلی مرتبہ 1987 میں الطاف بھائی کے گھر چھاپہ مارا تھا۔